انسان نے ترقی کے سفر میں بے شمار کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر اس ترقی کی قیمت فطرت کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ بلند و بالا عمارتیں، صنعتی انقلاب، جدید سہولیات اور تیز رفتار زندگی بظاہر انسانی کامیابیوں کی علامت ہیں، لیکن ان کے سائے میں ایک ایسا بحران جنم لے چکا ہے جو انسانیت کے مستقبل کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ بحران ماحولیاتی آلودگی کا ہے، اور اس کی سب سے خطرناک شکل پلاسٹک آلودگی ہے۔
ہر سال 5 جون کو دنیا بھر میں ماحولیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صرف ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کرنا نہیں بلکہ انسان کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے تحت منایا جانے والا یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زمین محض ہماری ضرورتوں کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہے۔
اس سال عالمی یومِ ماحولیات کا موضوع "ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف عالمی آواز" رکھا گیا ہے۔ یہ موضوع اس لیے اہم ہے کیونکہ ماحولیاتی تبدیلیاں دنیا کے تقریبا تمام خطوں کو متاثر کر رہی ہیں اور اس میں صنعتی ترقی سے پیدا ہونے والی آلودگی کا بڑا عمل دخل ہے۔ دریا، جھیلیں، جنگلات اور خصوصاً سمندر صنعتی فضلے پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ ایک ایسا مادہ جو چند لمحوں کی سہولت دیتا ہے، صدیوں تک ماحول کو آلودہ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سمندر ہمیشہ سے زندگی، رزق اور تہذیبوں کے امین رہے ہیں، مگر آج یہی سمندر انسانی بے حسی کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں۔ لاکھوں ٹن پلاسٹک ہر سال سمندروں میں شامل ہو کر آبی حیات، ماحولیاتی نظام اور انسانی صحت کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ مچھلیاں، کچھوے، ڈولفنز اور دیگر آبی مخلوقات پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتی ہیں اور اکثر موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ یہی زہریلے ذرات بالآخر انسانی خوراک کا حصہ بن جاتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ مسئلہ مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ ملک کو قدرت نے ایک وسیع ساحلی پٹی عطا کی ہے۔ بحیرہ عرب کے کنارے آباد لاکھوں افراد کا روزگار سمندر سے وابستہ ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے ساحلی مراکز ملکی تجارت اور معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہی ساحلی علاقے آلودگی کے بڑھتے ہوئے دباو¿ کا شکار ہیں۔
کراچی بندرگاہ ملک کی اقتصادی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ یہاں روزانہ ہونے والی بحری اور تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پلاسٹک، صنعتی فضلے اور گندے پانی کی بڑی مقدار بھی سمندر کا رخ کرتی ہے۔ بارشوں کے موسم میں ندی نالوں کے ذریعے بہہ کر آنے والا کوڑا کرکٹ اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان نیوی کا کردار نہایت اہم اور قابلِ تحسین ہے۔ سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے اس امر پر زور دیا ہے کہ پاکستان نیوی میری ٹائم شراکت داروں کے ساتھ مل کر کراچی بندرگاہ اور ساحلی علاقوں کے ماحولیاتی حالات بہتر بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ ساحلی صفائی مہمات، مینگرووز کی شجرکاری، سمندری آلودگی کی نگرانی، فضلے کے تدارک اور عوامی آگہی کے فروغ کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سربراہ پاک بحریہ اکثر اپنے پیغامات کے ذریعے نشاندہی کرتے رہتے ہیں کہ سمندر میں پھینکے جانے والے آلودہ مواد کی مقدار ان کوششوں سے کہیں زیادہ ہے جو اس کے تدارک کے لیے کی جا رہی ہیں۔ یہ پیغام دراصل پورے معاشرے کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ اگر ہم آلودگی کو اس کے منبع پر روکنے میں ناکام رہتے ہیں تو ساحلوں اور بندرگاہوں کی صفائی کی تمام کوششیں محدود نتائج ہی دے سکیں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ صنعتیں، بلدیاتی ادارے، کاروباری حلقے اور عام شہری سب مل کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔
پاکستان نیوی صرف سمندر کی محافظ نہیں بلکہ سمندری ماحول کے تحفظ کی علمبردار بھی بن چکی ہے۔ مینگرووز کی شجرکاری کے منصوبے اس کی ایک روشن مثال ہیں۔ مینگرووز ساحلی علاقوں کے قدرتی محافظ ہیں جو نہ صرف سمندری طوفانوں اور ساحلی کٹاو¿ سے بچاتے ہیں بلکہ آبی حیات کے لیے محفوظ مسکن بھی فراہم کرتے ہیں۔ ان کی افزائش موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اسی تناظر میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز بھی عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر سیمینارز کا انعقاد کرتی رہتی ہے یہ بھی خوش آئند قدم ہے۔ ایسے فورمز نہ صرف آگہی پیدا کرتے ہیں بلکہ ماہرین، پالیسی سازوں اور متعلقہ اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر مو¿ثر حکمت عملی مرتب کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ماحولیات کا تحفظ صرف حکومتی اداروں اور پاکستان نیوی کی ذمہ داری ہے؟ یقیناً نہیں۔ ایک پلاسٹک بیگ کم استعمال کرنا، ساحل پر کچرا نہ پھینکنا، کوڑے کو مناسب جگہ پر تلف کرنا اور ماحول دوست عادات اپنانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہر فرد اپنی سطح پر چھوٹا سا کردار ادا کرے تو اس کے مثبت اثرات قومی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اب صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ معاشی، سماجی اور انسانی بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔ سمندروں کی صحت ہماری معیشت، غذائی تحفظ اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر ہم نے آج اس خطرے کا ادراک نہ کیا تو کل شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ عالمی یومِ ماحولیات ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ فطرت کے ساتھ جنگ میں انسان کبھی فاتح نہیں ہو سکتا۔ کامیابی اسی میں ہے کہ ہم فطرت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں، اس کے وسائل کا دانشمندی سے استعمال کریں اور اپنے سمندروں، دریاو¿ں اور ساحلوں کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے اجتماعی کردار ادا کریں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان نیوی کی کوششوں کو قومی تحریک کا حصہ بنایا جائے۔ پلاسٹک بیگ کے استعمال میں کمی، ساحلوں کی صفائی، مینگرووز کی شجرکاری، صنعتی فضلے کی نگرانی اور ماحولیاتی شعور کی ترویج کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک محفوظ، سرسبز اور صحت مند پاکستان کی طرف لے جا سکتا ہے۔
کیونکہ صاف سمندر صرف ساحلوں کی خوبصورتی نہیں بلکہ قوموں کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہوتے ہیں۔