Wed, September 16, 2026

سرکاری ملازم اور’’ میاں مٹھو‘‘

سرکاری ملازم اور’’ میاں مٹھو‘‘

چاچا رفیق آج جب چوپال میں داخل ہوئے تو ان کے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا اس میں ایک طوطا تھا۔چاچا رفیق نے آتے ہیں کسی سے کوئی بات نہیں کی لیکن بس ایک بات کی کہ’’ میں تنگ پڑگیا ہوں۔۔۔۔‘‘، ان کے اس جملے کو پنجرے میں موجود طوطا بار بار دہرا رہا تھا۔۔۔ ’’ میں تنگ پڑگیا۔۔۔ میں تنگ پڑگیا۔۔۔ـ‘‘۔۔۔چاچا رفیق نے غصے میں کہا ابے چپ کر۔۔۔ اس پر چوپال میں موجود سب لوگ ہنس دیئے۔۔۔تھوڑی دیر بعد چپ سائیں کی آمد ہوئی۔۔کچھ دیر آرام کے بعد چپ سائیں بولے۔۔۔ کیا حال ہے بھئی دوستو!۔۔ سب بیک زبان بولے،بھلے چنگے ہیں سائیں جی۔۔ بس چاچارفیق کچھ ’’تنگ‘‘ ہیں۔۔۔ چپ سائیں چاچارفیق کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے کیا بات ہے بھائی رفیق۔۔۔ چاچا رفیق نے سرد آہ بھری۔۔۔ بولے سائیں جی۔۔۔ کتنے روز بیت گئے۔ میں ایک سرکاری دفتر کے چکر لگا رہا ہوں۔۔ ’’اوپر‘‘ سے ٹیلی فون بھی کرایا۔۔۔کمبخت وہاں پر بیٹھے ’’بابوئوں‘‘ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔ مسئلہ تو وہیںکھڑا ہے، پر مجھ غریب کا برا حال ہوگیاہے۔۔ اوپر سے میرا میاں مٹھو بھی ان کی زبان ہی بول رہا ہے۔۔۔اس پر میاں مٹھو فوراً بولا ’’ ہوجائے گا۔۔بس ہوجائے گا۔۔کررہے ہیں!‘۔۔میاں مٹھو کی بات سن کر سب کھل کر ہنسے۔
چپ سائیں بولے۔۔بھائی رفیق پریشان مت ہو۔۔۔ یہ جو سرکاری دفاتر ہوتے ہیں، ان کی حالت بھی عجیب ہوتی ہے اور سرکار کے ملازم تو جیسے ایسے ہے کہ وہ تنخواہ بھی ہمارے ٹیکس سے لیتے ہیں اور ہم پر ہی حکومت کرتے ہیں۔۔۔مٹھو پھر بولا۔۔۔’’ ہم پرحکومت کرتے ہیں۔۔۔ ہم پر حکومت کرتے ہیں۔۔‘‘ سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔
چپ سائیں زیر لب مسکرائے اور کہا کہ ازراہ تفنن۔۔۔ کسی کو برا لگے تو اور دل آزاری ہو تو اس کی پیشگی معذرت پر ہے تو حقیقت دوستو!ہماری بیوروکریسی میں کئی کردار ایسے ہیں جو زمانہ قدیم سے آج تک اپنی ''منفرد'' خصوصیات کی بدولت پہچانے جاتے ہیں۔ ان کرداروں میں سے ایک ہے ''سرکاری ملازم'' ۔ وہ شخص جو اپنے دفتر کی کرسی سے زیادہ پرانی فائلوں، چائے کے کپ، اور دفتر کے ’’کام نہ کرنے کے فن‘‘ کا ماہر ہوتا ہے۔چپ سائیں بولے بھئی دوستو!صبح کے آٹھ بجے دفتر کھلتا ہے، لیکن سرکاری ملازم ''ٹریفک'' کا بہانہ کرتے ہوئے دفتراکثروبیشتر لیٹ آتے ہیں۔اگر جلد آبھی جائیں تو سرکھجاتے ہیں اور سائلین بیچارے کی سنتا کون ہے۔ چپ سائیں زیر لب مسکراتے ہوئے دوبارہ بولے ان دفاتر میں پہلا کام، چائے منگوانا، دوسرا کام، موبائل پر خبریں دیکھنا، تیسرا کام،کام نہ کرنے کا بہانہ سوچنا ہے۔۔ خیر اگر کہیں سے ’’اوپر‘‘ سے ٹیلی فون آجائے ڈیسک آفیسر ایک دوسرے کی بغلیں جھانکتے ہیں کہ اس سائل کو اب ’’خجلـ‘‘ کیسے کرنا ہے اور الفاظ کے گورکھ دھندے میں ’’روٹین کی کارروائی‘‘ میں الجھادینا ہے اور پھر۔۔۔ سائل چلتا بنے اور مسئلہ جوں کا توں۔۔۔
چپ سائیں تھوڑی دیر چپ کر گئے۔۔۔ وقفے میں چاچا رفیق بولے۔۔ سائیں جی میرا تو طوطا بھی اب رٹی رٹی باتیں بولنے لگا ہے۔ ۔۔۔ جیسے کہ وہ روزانہ ’’بابو صاحب ‘‘کے رویوں کی نقل اتارتا ہے۔ جیسے کہ ''صاحب نہیں ہیں، فائل دستخط کے لیے گئی ہے۔۔۔۔کام ہو جائے گا۔۔۔تھوڑا صبر کریں۔۔۔آپ اگلے ہفتے آئیں، ابھی مینٹیننس ورک ہورہا ہے‘‘۔۔۔چوپال کے دوستو!یہ جملے تو اب میںبلاناغہ اپنے میاں مٹھو سے بھی سنتا ہوں۔
چاچا رفیق نے کہا بھائیو! ۔۔۔کہنے کو تو میاں مٹھو ایک پرندہ ہے، مگر وہ جس طرح ادارے کی ’’غیر سرکاری زبان‘‘ بولنے لگا ہے، وہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہے اور سب کو سچ دکھا رہا ہے کہ ہمارے معاشرے کی اصل حقیقت کیا ہے اور پھر اگر ہمیں روزمرہ کی زندگی میں کوئی نقصان ہوجائے تو شکوہ اپنے خالق اپنے مالک یعنی اللہ کریم سے کرتے ہیں اور سب کچھ مقدر پر ڈال کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں ۔۔۔حالانکہ اگر غور کیاجائے تو وجہ کچھ اور ہوتی ہے اور ہم اس پر غور نہیں کرتے۔۔۔ چاچا رفیق چپ کرگئے۔۔۔
چپ سائیں نے ان کو دلاسہ دیتے ہوئے بولے بھائی رفیق سرکاری ادارے کئی بار میاں مٹھو کی مانند ہو چکے ہیں۔ بولتے بہت ہیں، عمل 
کم۔۔۔ کام کے بجائے وعدے، کارکردگی کے بجائے۔۔ پیش رفت کا جائزہ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ کسی بھی شہری کو کسی فائل کے لیے چکر پر چکر لگوائے جاتے ہیں اور ہر بار کہا جاتا ہے کہ ’’کل آنا‘‘،  تو وہ سوچتا ہے کہ کاش اس سے میاں مٹھو بات کر رہا ہوتا۔۔۔ کم از کم دل بہل جاتا!۔۔
چاچارفیق نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد بولنے کی دوبارہ اجازت مانگی۔۔۔ چاچا رفیق نے کہا دوستو! میرا مٹھو تو یہ تک کہتا ہے کہ خوش آمدید! صاحب میٹنگ میں ہیں۔۔۔۔چائے پی لیں، فائل ویسے بھی اگلے ہفتے آئے گی۔۔۔ آگے بھجوادی ہے۔۔۔سفارشی پرچی لائے ہیں یا بغیر؟۔۔۔ ’’کیا اوپر سے ٹیلی فون کرایا ہے یا سیدھے ہی آدھمکے۔۔۔وغیرہ وغیر۔۔۔ چوپال میں ایک بار پھر ہنسی کا طوفان پھوٹ پڑا۔۔۔
چپ سائیںنے کہا بھائی دوسرا۔۔۔ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔صاحبو!یہ عارضہ محض سرکاری ملازم کی ذاتی خامی نہیں، بلکہ نظام کی ایک ’’بیماری ‘‘ہے۔ ایسی صورتحال میں اصلاح کی ضرورت ہے جو صرف نیا قانون بنانے یا محکمانہ اجلاس بلانے سے پوری نہیں ہو سکتی۔ اصلاح کا مطلب ہے ایک نئی ثقافت کا قیام، جہاں محنت، شفافیت، جوابدہی اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح دی جائے۔ہمارے نوجوان جو جدید تعلیم یافتہ ہیں، انہیں ہی بیوروکریسی میں تبدیلی کا محرک بننا ہوگا۔ انہیں چاہیے کہ وہ صرف سرکاری نوکری کو تنخواہ کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک مقدس فریضہ سمجھیں۔ ان میں جذبہ پیدا کیا جائے کہ وہ معاشرے کی بہتری کے لیے کام کریں، نہ کہ محض ’’کل کے لیے موخر‘‘ کریں۔
ہمارے سرکاری نظام کو اگر’’ میاں مٹھو‘‘ بھی سمجھنے لگے ہیں تو یہ وقت ہے کہ ہم خود بھی اس نظام کو سمجھنے، سدھارنے اور بدلنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔ بیوروکریسی کی کارکردگی صرف پالیسیوں سے نہیں، نیت، نگرانی اور جوابدہی سے بہتر ہو سکتی ہے۔صاحبو!یہی وجہ ہے کہ سرکاری دفاتر میں کام کی رفتار ایسی ہوتی ہے جیسے کچن میں پانی کا نلکا ٹپک رہا ہو ۔۔۔ آہستہ آہستہ اور بظاہر کچھ نہیں ہوتا، مگر اگر نلکا بند نہ کیا جائے تو سارا پانی ضائع ہو جائے گا۔۔۔۔ دوستو اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو وہ دن دور نہیں جب ہر دفتر میں ایک پنجرہ ہوگا، اور اس میں بیٹھا’’ میاں مٹھوــ‘‘ــ طنزاً بولے گا۔۔۔’’یار کام چھوڑو۔۔ورنہ چائے کب پئیں گیـ‘‘۔۔۔ چپ سائیں زیر لب مسکرائے اوربولے۔۔۔کیوں بھئی میاں مٹھو۔۔۔۔ باقی رہے نام اللہ کا!۔

ٹیگز: