Wed, September 16, 2026

بہترین سفارتکاری کا دور

بہترین سفارتکاری کا دور

جہاں تحریک انصاف کے دور میں پاکستان کو بے شمار معاشی نقصانات ہوئے وہیں سب سے بڑا نقصان یہ بھی تھا کہ پاکستان خطے میں بالکل تنہا ہو گیا تھا پاکستان کے اس سیاہ ترین دور میں سعودی عرب، چین، ایران ترکی، آذربائیجان سمیت بہت سے ممالک ہم سے دور ہو گئے تھے اللہ کا لاکھ شکر ہوا کہ پاکستان کی پی ٹی آئی کی نحوست سے جان چھوٹی موجودہ حکومت کی کوششوں سے پاکستان نے دوبارہ سے تمام ممالک کو اپنے قریب کر لیا اگر دور حاضر کو تاریخ کی بہترین سفارت کاری کا دور کہہ لیا جائے تو ہرگز غلط نہیں ہوگا جس کا ثبوت پاک بھارت جنگ میں مل گیا جہاں ہندوستان کے ساتھ صرف اسرائیل کھڑا تھا وہیں پاکستان کے ساتھ سعودی عرب، ایران، ترکی، آذربائیجان ،تاجکستان ،چین ، بنگلہ دیش اور بہت سے ممالک کھڑے تھے دس مئی کے بعد بلا شبہ پاکستان دنیا میں ایک بڑی طاقت بن کر ابھرا ہے اس ایک دن نے ایشیا میں طاقت کے توازن کا منظر نامہ ہی تبدیل کر دیا ۔ پاکستان کی عزت وقار اور رتبے میں اللہ کریم نے بے پناہ اضافہ کر دیا معرکہ حق میں فتح کے بعد جس طرح وزیراعظم نے ایک فاتح سلطان کی طرح دوست ممالک کا دورہ کیا اس نے ان تمام ممالک پر واضح کر دیا کہ اب بھی اگر مل کر نہ چلے تو یہود و ہنود انہیں دنیا کے نقشے سے مٹانے کو تیار بیٹھے ہیں ۔
وزیراعظم پاکستان نے اپنے دورے کی ابتدا ترکیہ سے کی جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے ترکیہ ہمارا بہترین دوست اور ہر مشکل وقت میں چٹان کی طرح ساتھ کھڑا نظر آیا ۔  اگر ترکیہ کو پاکستان کا دوسرا بھائی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا اور جس طرح وزیراعظم کے اس دورے نے ہندوستان کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی ترکیہ کے صدر جناب طیب اردوان نے وزیراعظم پاکستان کا بھرپور استقبال کیا انہیں گارڈ آف آنر پیش کیااور جس طرح اس جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا ساتھ دیا یعنی ترکیہ وہ واحد ملک تھا جو اپنا جنگی بحری بیڑا لے کر کراچی پہنچ گیا جس نے ہندوستان کو اتنی تکلیف پہنچائی کہ وہ ترکیہ کو براہموس میزائل مارنے کی دھمکیاں دینے لگا جلتی پر تیل تو اس وقت چھڑکا گیا جب جناب طیب اردوان نے اپنے جدید ترین ففتھ جنریشن فائٹر جیٹس کان پاکستان میں بنانے کا اعلان کیا جس پر آئندہ سال سے عمل درآمد شروع ہو جائے گا ۔
اس کے بعد وزیراعظم جب ایران پہنچے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا ایران بھی ہر دور میں ہمارا بہترین ساتھی رہا ہے اس نے ہر جنگ میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ان حالات میں جب اسرائیل ایران کو حملے کی دھمکیاں دے رہا تھا پاکستان کا یہ دورہ ان کے لیے بہت بڑی (شٹ اپ کال )ثابت ہوا پاکستان نے ایران کو ہر طرح سے ساتھ کی یقین دہانی کرائی اور ساتھ ہی انہیں خفیہ معلومات فراہم کیں جن میں راء کے تمام ایجنٹوں ان کے زیر استعمال موبائل فونز ان کی لوکیشنز بھی مہیا کیں اور انہیں یہ بھی بتایا کہ اب تک ایران میں جتنے بھی لوگ اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں ان کی معلومات راء کے انہی ایجنٹوں کے ذریعے اسرائیل کو ملیں یعنی یہ لوگ ایک ہی وقت میں اسرائیل اور انڈیا کے لیے جاسوسی کرتے تھے فوراً ہی ان کے خلاف ایرانی حکومت حرکت میں آئی جنہیں آئندہ چند روز میں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا اگر ایران اور پاکستان کوئی اجتماعی سکیورٹی تشکیل دے لیتے ہیں تو پاکستان ایران سے ہونے والی کی دہشت گردوں کی آمد و رفت اور بی ایل اے کی کمر توڑ دے گا۔ جیسے ہی جناب وزیراعظم کا جہاز آذر بائیجان میں لینڈ ہوا حسب روایت ان کا بھرپور استقبال کیا آذربائیجان ہمیشہ سے ہی پاکستان سے بہت محبت کرتا ہے وہ آج تک آرمینیا والی جنگ میں پاکستان کا ساتھ نہیں بھولے بلکہ ان کی نئی نسل بھی پاکستان کو اپنا محسن مانتی، انہیں اپنا حقیقی اور بڑا بھائی سمجھتی ہے جس وجہ سے وزیراعظم آذربائیجان نے نہ صرف پاکستان کو چالیس جے ایف تھنڈر 17طیاروں کا آرڈر دیا بلکہ پاکستان میں طویل مدتی دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی بھی نوید سنائی بلا شبہ یہ پاکستان کی بہترین سفارت کاری کا ہی نتیجہ ہے اگر پاکستان اسی روش پر قائم رہا تو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بہت جلد ساری دنیا میں بہترین تعلقات کا حامل ملک ہوگا ۔
اس دورے کے آخر میں وزیراعظم تاجکستان گئے تاجک صدر جناب امام علی رحمان نے وزیراعظم اور ان کے وفد کو زبردست پروٹوکول دیا انہوں نے ہندوستان کو کھلے الفاظ میں پیغام دیا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ہم اور ہمارے عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں تاجکستان چونکہ ایشیا کا ایک بڑا لیکن لینڈ لاک ملک ہے اور تاجکستان کی ساری ایکسپورٹ پاکستان کے راستے سے ہوتی ہے اس لیے بھی وہ پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات بنائے ہوئے ہیں ۔ میرے خیال میں وزیراعظم پاکستان کو آ ئندہ چند دنوں میں ہی ایک اور دورہ ترتیب دینا چاہیے تاکہ ہمارے باقی ساتھیوں کی بھی حوصلہ افزائی ہو سکے اس دورے میں چین، روس، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، میانمار کو شامل کیا جائے اگر یہ ممالک بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں تو یقین کریں کہ پاکستان کے ساتھ یہ ممالک بھی ہندوستان کی بدمعاشی سے بچ جائیں گے پاکستان کو چاہیے کہ چین، ترکی ،ایران، افغانستان ،بنگلہ دیش اور ان کے علاوہ ایشیا کے وہ تمام ممالک جو ہندوستان سے نفرت کرتے ہیں کو ساتھ ملا کر ایک نیا اور مضبوط بلاک تشکیل دیں اور علی الاعلان کہا جائے کہ کسی ایک بھی ملک پر حملہ تمام ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور تمام مل کر ہندوستان پر حملہ آور ہو جائیں تاکہ ان فلمی بدمعاشوں کا غرور مٹی میں ملا دیا جائے ۔

ٹیگز: