Wed, September 16, 2026

جھوٹ کا پیغمبر

جھوٹ کا پیغمبر

عمران خان کیا ہے؟ اس بارے میں کچھ زیادہ غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس کی بطور کھلاڑی زندگی کے تمام پہلو ہم پر عیاں ہیں۔ بطور سماجی ورکر و رہنما شوکت خانم کی شکل میں ہمارے سامنے ہے پھر 1995ء سے لے کر 2011ء تک اس کی پارٹی کی حیثیت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے پھر جب 2011ء میں عمران خان کو پاشا و ہمنوائوں نے انہیں گود لیا تو ان کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ 2018ء میں ایوان اقتدار میں داخل کئے جانے اور 2022ء میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکالے جانے تک کے معاملات قوم کے سامنے ہیں۔ ہماری قومی تاریخ کا حصہ ہیں۔ گزرے تین سال کے دوران انہوں نے جو کچھ کہا اور کیا وہ بھی ہمارے سامنے ہے اور اب وہ جیل میں بیٹھ کر جس طرح شعلہ بیانی اور کذب گوئی سے ملک میں انتشار پیدا کرنے کی مسلسل کاوشوں میں مصروف ہیں۔ جب انہیں گود لیا گیا تو انہیں سیاست کو گدلانے اور سیاست دانوں کی تذلیل کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ انہوں نے یہ کام بڑے اچھے انداز میں کیا، انہیں اس وقت ہر طرح کی رہنمائی اور امداد حاصل تھی۔ مقتدرہ اور اس سے جڑی عدلیہ، صحافت، انتظامیہ اور سیاست بھی ان کے ساتھ تھی، ممد و معاون تھی۔ انہوں نے یہ ذمہ داری بطریق احسن نبھائی۔ تمام سیاسی قوتوں کو روندتے ہوئے ایوان اقتدار میں لائے گئے پھر انہوں نے اپنے آپ کو لیڈر سمجھنا شروع کر دیا حالانکہ وہ 1995ء میں اپنی پارٹی کے قیام سے لے کر 2011ء تک گلی گلی نگر نگر پھرتے پھرتے اپنی چرب زبانی کا جادو جگانے کی کاوشیں کرتے رہے تھے لیکن انہیں کچھ نہیں ملا پھر جب انہیں 2011ء میں گود لیا گیا تو ان کی چرب زبانی میں نوجوانوں کے لئے شہد گھولا گیا جبکہ مخالف سیاستدانوں کے لئے زہر بھرا گیا۔ 2018ء میں جب انہیں اقتدار میں لایا گیا تو انہیں شاید اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ وہ واقعی لیڈر ہیں وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں اور جو چاہیں نہ کریں۔ وہ عظیم لیڈر ہیں اور قوم ان کے پیچھے چل پڑی ہے پھر 44ماہ تک وہ ایسے ہی چلتے رہے، اپنے مخالفین کے ساتھ تو انہوں نے وہی رویہ جاری رکھا جس کے لئے انہیں لایا گیا تھا جس کی انہیں تربیت دی گئی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھیوں نے کرپشن کا بھی بازار گرم کرنا شروع کر دیا۔ خود عمران خان اور ان کی بیوی نے دونوں ہاتھوں سے دولت لوٹنا شروع کر دی، بات لوٹ مار تک رہتی تو شاید کوئی تبدیلی نہ آتی لیکن انہوں نے اپنے مالکان پر بھی غرانا شروع کر دیا۔ جب آئی ایس آئی چیف جنرل عاصم منیر نے وزیراعظم کو ان کی بیوی کی کرپشن اور لوٹ مار کے متعلق بتایا تو انہوں نے جنرل عاصم منیر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ جنرل باجوہ کو کہا کہ جنرل فیض حمید کو آگے لایا جائے وہ تو انہیں آرمی چیف بنانا چاہتے تھے۔ عمران خان اپنے آپ کو حقیقی لیڈر سمجھنے لگے اور اپنے مالکان کے خلاف ہو گئے جب انہوں نے ان کی سرپرستی کرنا بند کی تو جو پرندے ان کی شاخ پر بٹھائے گئے تھے وہ اڑنے لگے اس طرح تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے جو منفی اور احتجاجی طرز فکر و عمل اپنایا اس کی پاداش میں وہ جیل میں ہیں۔ 9مئی اور 26نومبر ان کے گلے پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سیاست دانوں کی مخالفت کے جنوں میں سیاست کو گندہ کیا۔ شریف فیملی، زرداری فیملی، مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی اور دیگر رہنمائوں کو ذلیل و رسوا کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اس مہم جوئی میں انہوں نے گالم گلوچ اور بدتہذیبی کا ایک کلچر فروغ دیا۔ نوجوان نسل کو خراب کیا، حکومت میں رہ کر نا کارکردگی اور کرپشن کو فروغ دیا، ریاستی و حکومتی اداروں کی بے توقیری کی۔ بڑوں کی سرپرستی اور حکومت سے محروم ہو کر انہوں نے ریاست کے خلاف مورچہ لگایا اور وہ کچھ کر دکھایا جو اس ملک کے دشمنوں کا خواب تھا ان کی زبان اب بھی ریاست کے خلاف زہر افشانی میں مصروف ہے۔ پہلے انہوں نے عوامی طاقت کے بل بوتے پر احتجاجی سیاست کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں بری طرح ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اپنی زوجہ کو بھی قائد بنا کر دیکھ لیا، احتجاجی سیاست کامیاب نہ ہو سکی پھر ٹرمپ کی فتح پر فوکس کیا۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کے بیرون ملک چاہنے والوں نے امریکی سینیٹروں کے دستخطوں سے امریکی صدر جوبائیڈن کو خط لکھوایا لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا پھر ٹرمپ کی انتخابی مہم میں حصہ لے کر ان سے وعدہ لیا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لئے جیتنے کے بعد اپنا اثرورسوخ استعمال کریں گے لیکن انہیں ٹرمپ کی طرف سے بھی کوئی اچھی خبر نہیں مل سکی ہے۔ ٹرمپ کے جیتنے کے بعد پاکستان نے امریکہ کو مطلوب ایک دہشت گرد شریف اللہ کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا تو امریکی صدر نے حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا پھر پاک بھارت جنگ بندی میں پاکستان کے رویے کے باعث ٹرمپ کی سیاست چمکی تو وہ پاکستان کے اور بھی معترف ہو گئے۔ پاک فوج نے اس جنگ میں جس طرح ہنود و یہود یعنی بھارت اور اسرائیل کی متحدہ کاوشوں کا قلع قمع کیا، اس سے اس کی عزت میں اضافہ ہوا۔ جنرل عاصم منیر ایک عظیم لیڈر ، جرنیل کے طور پر سامنے آئے۔ اب عمران خان نے ان کے خلاف، ان کی بے عزتی کرنے کے لئے ایک اور شوشا چھوڑا ہے کہ جب انہوں نے بطور وزیراعظم جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا تھا تو انہوں نے ان کی بیوی کے ذریعے ان پر اثرانداز ہونے کی کاوش کی۔ عمران خان کا حالیہ بشریٰ ٹویٹ عمرانی سیاست کا عظیم الشان شاہکار ہے۔ جھوٹ، کذب گوئی اور بہتان طرازی کے ذریعے انہوں نے جو کلچر فروغ دیا تھا وہی ان کے گلے پڑ چکا ہے۔ عامتہ الناس پر ان کی سیاست عیاں ہو چکی ہے۔ جھوٹ آخر جھوٹ ہی ہوتا ہے۔ ایک دن اسے ظاہر ہونا ہوتا ہے پاکستان کے عوام، ان کے یو ٹرنوں اور جھوٹوں سے آشنا ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان کی احتجاجی کالوں پر کوئی بھی سنجیدگی سے غور و فکر نہیں کرتا ہے۔ عمران خان نے ایک بار پھر احتجاجی تحریک چلانے اور جیل سے اس کی قیادت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسے حکومت و مقتدر حلقے زیادہ تو کیا تھوڑی سنجیدگی سے بھی نہیں لے رہے ہیں۔ عوام کا تو کچھ بھی نہ پوچھئے انہیں یہ کال اور اس کی قیادت دیوانے کی بڑ نہیں بلکہ جھوٹے اور مکار کی مکاری نظر آتی ہے۔

ٹیگز: