Wed, September 16, 2026

امن خط....سندھ طاس کا ذکر نہیں! 

امن خط....سندھ طاس کا ذکر نہیں! 

بھارت اور پاکستان کی 117 ممتاز شخصیات نے سنٹر فار پیس اینڈ پراگریس کے پلیٹ فارم سے پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم میاں محمد شہبا ز شریف اور نریندر مودی کے نام کھلا خط لکھا ہے جس میں دو طرفہ تعلقات معمول پر لانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ خط میں امن و مکالمے کی فوری اپیل کے ساتھ اسلام آباد و نئی دہلی میں ہائی کمشنرز تعیناتی ، ویزہ سروسز اجراء، فضائی حدود اور کمرشل پروازوں کی بحالی سمیت اعتماد سازی کے اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔
خط میں پاکستان اور بھارت کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی کے لئے بہت سارے اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ان میں اٹاری واہگہ بارڈر کو تجارت اور آمدورفت کے لئے دوبارہ کھولنے ، سری نگر ، مظفر آباد بس سروس کی بحالی اور سرحد پار روابط کے لئے دیگر منصوبوں کے دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ تمام حل طلب مسائل بشمول مقبوضہ جموں و کشمیر پر جامع دو طرفہ مذاکرات کی بحالی، 2004 ءسے 2007 ءکے دوران طے شدہ فریم ورک پر نظر ثانی ، فوجی تناﺅ میں کمی اور ایک دوسرے کے بارے میں جائز سکیورٹی خدشات کے دور کرنے پر زور دیا گیاہے تو اس کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات کے طور پر کرتار پور صاحب راہداری کو دوبارہ فعال کرنے اور دونوں ممالک کی جانب سے مذہبی و ثقافتی مقامات تک آسان سفری سہولیات فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ 
پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے نام 117 شخصیات کی طرف سے لکھے گئے اس کھلے خط کے مندرجات کو یقینا اہم سمجھا جا سکتا ہے لیکن اس میں سندھ طاس معاہدے جس کو بھارت نے یکطرفہ طور پر معطل کر رکھا ہے اور جو اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا نزاع کا معاملہ بنا ہوا ہے کا سرے سے ذکر نہ ہونا انتہائی افسوس کی بات سمجھی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس خط پر دستخط کرنے والی شخصیات سابق وزیرِ خارجہ جناب خورشید محمود قصوری، ممبر قومی اسمبلی اسفند یار بھنڈار اور پروفیسر پرویز ہود بھائی کیا اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت تین دریاﺅں سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا اور بھارت کو محدود پیمانے پر دریائے چناب کے پانی کو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے استعمال کی اجازت دی گئی تھی لیکن بھارت نے اس کے بجائے دریائے چناب پر کتنے ڈیم ہی تعمیر نہیں کر رکھے ہیں بلکہ اس کے رُخ کو بدلنے کے لئے بھی کوششیں کرنے لگا ہے۔ اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ چار سال سے بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنرز کا اجلاس نہیں ہوا اور پچھلے سال پہلگام واقعہ کے بعد سے بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد بھی معطل کر رکھا ہے جبکہ معاہدے کی شرائط کے تحت وہ اس طرح کا یکطرفہ اقدام کرنے کا مجاز نہیں۔ 
محترم خورشید محمود قصوری اور جناب پرویز ہود بھائی جیسی شخصیات یقینا اس حقیقت سے آگاہ ہونگی کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لئے کتنی اہمیت کا حامل ہے اور بھارت اس پر عملدرآمد کی بجائے پاکستان کے حصے کے پانیوں پر ڈاکہ ڈالتا ہے تو یہ پاکستان کے خلاف ایک طرح کی آبی جارحیت ہے جسے پاکستان کسی صورت میں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا ۔بھارت کے اس طرح کے اقدامات کے جواب میں پاکستان کی طرف سے انتہائی سخت جواب سامنے آ سکتے ہیں۔ اگلے دن اسلام آباد میں ”سندھ طاس معاہدہ۔ امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں جہاں عالمی ماہرین نے اس معاہدے کی معطلی کو ایک سنگین فرو گزاشت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا وہاں پاکستان کے قومی سیاسی قائدین نے بھی بھارت کی طرف سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا نام دے کر اسے سختی سے مسترد کیا۔ اس موقع پر نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ جناب اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی دریائی معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے ۔
سیمینار میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹوزرداری نے اپنے خطاب میں جن خیالات کا اظہار کیا بلاشبہ وہ عالمی رائے عامہ بالخصوص بھارت کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی سمجھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہر صورت اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ دریائے سندھ اور معاون دریاﺅں کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے ۔ سمندری گزر گاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لئے خطر ناک رجحان ہے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کے پانی کو روکنا جنگ کے مترادف ہے۔ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہر صورت اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا وجود ہی اسی مقصد کے لئے ہے ۔ فریق مخالف یعنی بھارت کو جان لینا چاہیے کہ سُرخ لکیر عبور کرنے کی صورت میں اُسے کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ 
یہاں سندھ طاس معاہدہ کا ذکر کرنا اس لیے ضروری تھا کہ پتہ چلے کہ پاکستان کےلئے اس کی کتنی اہمیت ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی بحالی کے لئے خط لکھنے والے اگر اسے نظر انداز کرتے ہیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا کوتاہی یا زیادتی ہو سکتی ہے۔

ٹیگز: