ایران کے رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کا جسد خاکی سپردخاک کیا جا رہا ہے، انہوں نے قریباً سوا سو روز قبل امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے میں اپنے کچھ ساتھیوں اور اہل خانہ سمیت جام شہادت نوش کیا۔ اعلیٰ حضرت خامنہ ای نے اپنی شہادت سے چند روز قبل ایرانی عوام سے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی جان کی کوئی اہمیت نہیں، موت کا مطلب اس دنیا سے اٹھ کر ایک اور دنیا میں جا بسنا ہے جو اس دنیا سے بدرجہا بہتر ہے، اہمیت غیرت حمیت خودداری اور اصولوں کی ہے، ایرانی قوم اور اس کے قائدین کبھی ان پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اسلام و ایران کی حفاظت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، جناب خامنہ ای نے اس خطاب میں جو کچھ فرمایا ایرانیوں نے اس کا پاس کیا اور اسے سچ کر دکھایا، جناب خامنہ ای اور رفقاءکی شہادت کے بعد ایران سوگ میں ڈوبا ہوا تھا دنیا کے دانشور سر جوڑے بیٹھے تھے اور سوچ رہے تھے کہ ایران اس حالت سوگ سے کیسے نکلے گا اور کیونکر ان حملوں کا جواب دے پائے گا ، ٹھیک دوسرے روز ایرانی قیادت کے ایک فیصلے نے اہل ایران کے جسموں میں ایک نئی روح پھونک دی، فیصلہ یہ کیا گیا کہ اسرائیل اور امریکہ سے ان حملوں کا انتقام پہلے لیا جائے گا، رہبر معظم کی تدفین اس کے بعد ہو گی۔ ایرانیوں نے جس جذبے سے دو ایٹمی اور درجن بھر غیرایٹمی طاقتوں کو شکست فاش دی وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، بعض فیصلوں بعض شخصیات کے ارشادات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقتور دشمن کے خلاف جنگ کا تمام احوال ایران کی حکمت عملی بیک وقت کئی ملکوں کے حملوں کا جواب کچھ آسان نہ تھا، یہ پورا باب تاریخ میں سنہری حروف میں محفوظ ہو چکا ہے۔
جناب خامنہ ای شہید کی تدفین کے لئے ایران پہنچنے کی خواہش ان ممالک کے سربراہ بھی رکھتے ہیں جو کل تک ایران کے خلاف اس جنگ میں شریک تھے۔ اس فہرست میں بعض اسلامی ممالک کے علاوہ یورپی افریقی اور خلیجی ملک بھی شامل ہیں لیکن ایرانی حکومت نے ایک اور دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جو ملک اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں شریک تھے یا مخالفانہ طرز عمل اختیار کئے ہوئے تھے وہ ایران آنے کی زحمت نہ کریں۔
دیگر درجنوں ممالک کے سربراہان کی طرح وزیراعظم پاکستان بھی ایران پہنچے ہیں جبکہ بعض دیگر اہم شخصیات بھی ایران پہنچی ہیں، بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو بھی تقریبات میں شرکت کی دعوت دی گئی کہ وہ بھارت میں بسنے والے قریباً تیس کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی بھی کر رہے ہیں۔
وزیراعظم پاکستان کا ایران میں قیام مختصر ہو گا وہ پہنچنے کے بعد اسی روز ترکی چلے جائیں گے، ترکی کے ساتھ معاملات کے لئے تو ایک کتاب درکار ہے، ایک کالم کی کچھ سطور اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں لہٰذا یہ کہانی پھر سہی۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک کا جھکاﺅ ایران کی طرف بڑھتا نظر آتا ہے اس کی پہلی اور آخری وجہ ایک خوفناک دشمن کی چھیڑی گئی خوفناک جنگ میں ایران کی واضح فتح ہے جسے آج امریکہ کے اتحادی بھی تسلیم کر رہے ہیں جبکہ اس فتح کو تسلیم کرنے والوں میں امریکہ کے سابق صدر اور امریکہ کے سابق وزیر خارجہ بھی شامل ہیں۔
امریکی صدر اپنے پہلے دور صدارت میں اوبامہ اور بش انتظامیہ کے ادوار پر زبردست تنقید کرتے رہے ہیں، آج سابق امریکی صدر اوبامہ ان کے لتّے لیتے نظر آتے ہیں، امریکی عوام ان کی باتیں دھیان سے سنتے ہیں اور ان پر یقین کرتے ہیں، کچھ ایسا ہی معاملہ سابق سیکرٹری خارجہ جان کیری کا ہے وہ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں کو امریکہ کے لئے تباہ کن قرار دے رہے ہیں، درجن بھر سے زیادہ ریٹائرڈ امریکی جرنیل اور اہم عہدوں سے پسند ناپسند کی بنا پر فارغ کئے گئے سینئر بیوروکریٹ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف صف آرا ہو چکے ہیں، طبیعت میں حد سے زیادہ ڈھٹائی کے عنصر کے سبب ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے تنقید کو خاطر میں نہیں لاتے وہ اپنے آپ کو عقل کل اور دوسروں کو فاترالعقل سمجھتے ہیں، ان سے پہلے تاریخ میں کئی شخصیات ایسی گزری ہیں جن کا طرز عمل ایسا ہی تھا آج ان پر دنیا کے کونے کونے سے نفرین بھیجی جاتی ہے کوئی شخص عزت سے ان کا نام تک نہیں لیتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی کسی ایسی جیت کے لئے ہاتھ پاﺅں مارتے نظرآتے ہیں جس کا بظاہر کہیں دور دور تک وجود نہیں، جیت صرف انہیں شاید کہیں ہوا میں یا خلا میں نظر آتی ہے وہ اسے جھپٹ لینے کے لئے بے تاب ہیں، ناکامیوں میں گھرے امریکی صدر قطر کی طرف سے تحفے میں ملنے والے30کروڑ ڈالر کے جہاز کی پہلی پرواز کے لئے آئے تو بہت خوش تھے۔ وہ اس جہاز اور جہاز دینے والوں کی خوبیاں کچھ اس انداز میں بیان کر رہے تھے جیسے یہ جہاز بھی انہوں نے کسی کشتی میں اپنے حریف کو شکست دینے کے بعد جیتا ہے، اس تحفے کی حقیقت فقط اتنی ہے کہ انہیں یہ تحفہ اس لئے ملا کہ وہ صدر امریکہ تھے، اس تحفے کی اہمیت اس وقت زیادہ ہوتی جب انہیں صدارت سے ہٹنے کے بعد یہ تحفہ دیا جاتا، ایسے تحفے اہم ممالک کے سربراہوں کو بطور رشوت دیئے جاتے ہیں جن کا نام اب تحفہ رکھا گیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ آج ڈونلڈ ٹرمپ ایسے امریکی صدر کی حیثیت سے اس جہاز میں سوار ہوئے ہیں جسے ایران نے دھول چٹا دی ہے اور رہبر معظم ایران جناب آیت اللہ خامنہ ای ایک فاتح کی حیثیت سے لحد میں اتریں گے، جناب خامنہ ای ہر مسلمان کے دل میں گھر کر چکے ہیں، ٹرمپ کا نام اب کیا بن چکا ہے آپ خوب جانتے ہیں۔