Wed, September 16, 2026

 ہم آخرکب سیکھیں گے؟ 

 ہم آخرکب سیکھیں گے؟ 

رشید صاحب آج چوپال میں انتہائی افسردہ افسردہ داخل ہوئے۔نتھو اور پھتو نے ان سے پوچھا کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ اس پر رشید صاحب بولے کہ بھائی دنیا بھر میں حادثات اور آفات ہوتی رہتی ہیں لیکن ہم آخرکب سیکھیں گے؟ ۔ اسی اثنا میں چپ سائیں آئے اور خاموشی سے اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ رشید صاحب نے کہاکہ سائیں جی آج میں ایک عجیب سی کشمکش کاشکار ہوں۔ اس بارے میں بتائیں او رمجھے کشمکش سے نکالیں۔ چپ سائیں نے کہا ۔۔۔کہا ماجرا ہے بھائی۔۔۔ کچھ بولیں گے تو حل نکلے گا؟ اس پر بھائی رشید نے سوال دہرا دیاکہ ہم آخر کب سیکھیں گے اور سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹتے رہیں گے۔ سائیں جی۔ سانحہ سوات پر میرا دل اداس اورغمگین ہے۔ ۔ میں بوجھل قدموں سے چل رہا ہوں اور دکھ کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔سائیں جی کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ہم خوشی اور سکون حاصل کرنے کے اقدامات کرتے ہیں لیکن وہی خوشی اور سکون ہمیں ابدی منزل کی طرف لے جاتی ہے۔۔۔یہ کہتے کہتے رشید صاحب چپ کرگئے۔
اس پر چپ سائیں نے کہاکہ بھائی رشید اور چوپال کے دوستو! بات تو سچ ہے کہ ہم وقت گزرنے کے بعد ہی اقدامات اور انتظامات کی بات کرتے ہیں اور ماضی کے تجربات سے سیکھتے نہیں ہیں۔مجھے بھی سانحہ سوات کا دکھ ہے۔ میں بھی غمگین ہوں لیکن کچھ قصور تو ہمارا بھی ہوتا ہے۔ ہم لوگ بھی تو تفریح میں کسی کی بات سننے کی بجائے حد سے آگے نکل جاتے ہیں اور آخر میں صرف پچھتاوا بچتا ہے۔
دوستو!ہر ریاست اور معاشرے کی ترقی، فلاح و بہبود اور استحکام کا انحصار م¶ثر انتظامات، بروقت اقدامات اور قابل قیادت پر ہوتا ہے۔ جب کسی ملک یا ادارے میں انتظامی نظام فعال اور ذمہ دار ہوتا ہے، تو وہاں عوام کو بہتر سہولیات میسر آتی ہیں اور بحرانوں سے بخوبی نمٹا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس نظام میں نااہلی، کوتاہی اور غیرذمہ داری غالب آ جائے تو نہ صرف ترقی رک جاتی ہے بلکہ مسائل میں بھی کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
انتظامات سے مراد وہ تمام کوششیں ہیں جو کسی خاص موقع، منصوبے یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ یہ انتظامات وقتی بھی ہو سکتے ہیں، جیسے کسی تقریب، انتخابات یا قدرتی آفات کے دوران کیے گئے انتظامات، یا طویل مدتی بھی جیسے تعلیمی، صحت یا اقتصادی پالیسیوں کی منصوبہ بندی۔ایک منظم ملک یا ادارہ ہمیشہ پیشگی منصوبہ بندی کرتا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران یا مسئلے سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔ کامیاب انتظامات وہی ہوتے ہیں جو بروقت، جامع اور عوامی مفاد پر مبنی ہوں۔منصوبے اور انتظامات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے، وہ محض کاغذی خاکے ہی رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ م¶ثر اور فوری اقدامات کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔
صاحبو! آفات قدرتی ہیں لیکن اقدامات دراصل عملی قدم ہوتے ہیں جو کسی منصوبے کو حقیقت میں تبدیل کرتے ہیں۔ ان کا تعلق فیصلہ سازی، ترجیحات کے تعین، اور حالات کے مطابق ردعمل سے ہوتا ہے۔ کسی بھی بحران کے دوران اگر بروقت اور صحیح اقدامات نہ کیے جائیں، تو وہ معمولی بحران ایک بڑے المیے میں بدل سکتا ہے۔جب اداروں یا حکومتوں میں اہلیت، وژن، یا خلوص نیت کی کمی ہو تو اسے نااہلی کہا جاتا ہے۔ نااہلی کا مطلب صرف کسی کام کو نہ کر پانا نہیں، بلکہ وسائل کے باوجود صحیح طریقے سے نہ کرنا، غلط فیصلے کرنا، یا عوامی مسائل کو نظرانداز کرنا بھی نااہلی کے زمرے میں آتا ہے۔
نااہلی کی وجہ سے عوامی مسائل بڑھتے ہیں، وسائل ضائع ہوتے ہیں، عوام کا اعتماد کم ہوتا ہے۔ کرپشن اور اقربا پروری کو فروغ ملتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی شہر میں بارش کے پیش نظر بروقت نکاسی آب کے انتظامات نہ کیے جائیں اور متعلقہ ادارے حرکت میں نہ آئیں، تو معمولی بارش بھی سیلاب کا منظر پیش کر سکتی ہے۔ ایسی صورتحال نااہلی کی واضح مثال ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اکثر یہ شکایات سننے کو ملتی ہے، اقدامات صرف بیانات تک محدود رہتے ہیں، اور نااہلی عام ہے۔ چاہے وہ بجلی کا بحران ہو، مہنگائی، سیلاب یا کوئی وبائی مرض ۔ اکثر اوقات مناسب منصوبہ بندی اور عمل درآمد کا فقدان نظر آتا ہے۔ترقی، امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے لازم ہے کہ انتظامات م¶ثر ہوں، اقدامات بروقت ہوں، اور نااہلی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ یہ صرف حکومت یا اداروں کی نہیں، بلکہ ہر شہری کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی جگہ اپنی صلاحیت کے مطابق مثبت کردار ادا کرے۔
صاحبو !ایسا معاشرہ ہی کامیاب ہو سکتا ہے جہاں فیصلے خلوص نیت سے کیے جائیں، عملی اقدامات کا نظام مضبوط ہو، اور نااہل افراد کو جوابدہ بنایا جائے۔ تب ہی ہم ایک روشن، مستحکم اور ترقی یافتہ معاشرہ قائم کر سکیں گے۔دوستو! ایک بات نہایت ضروری ہے کہ نااہلی ایک ایسا زہر ہے جو کسی بھی نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ نااہل قیادت یا افسران محض عہدے رکھتے ہیں، مگر ان میں نہ فیصلہ سازی کی صلاحیت ہوتی ہے، نہ بحران سے نمٹنے کا وژن۔ انتظامی نااہلی میں فیصلے بروقت نہ لینا، ریکارڈ نہ رکھنا، منصوبوں میں تاخیر شامل ہے۔یہ سیاسی بھی ہوسکتی ہے اس میں پالیسی نہ بنانا، ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دینا شامل ہے۔اور اگر میں بات کروں تو اس کی میں اداراتی نااہلی بھی ہے جیسے کہ ہسپتال میں مریض مر جائیں، سکول میں استاد نہ ہوں، اور دفتر میں کام نہ ہو۔
دوستو!جب کراچی میں بارش ہوتی ہے اور پورا شہر ڈوب جاتا ہے، لوگ کرنٹ لگنے سے مر جاتے ہیں، گھنٹوں بجلی بند رہتی ہے، اور بلدیاتی ادارے ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہتے ہیں، تو یہ ہماری انتظامی، سیاسی اور ادارہ جاتی نااہلی کی بدترین مثال ہے۔پاکستان کی تاریخ میں کئی ایسے مواقع آئے ہیں جہاں ناکام انتظامات، ناقص اقدامات اور بدترین نااہلی کے نتائج قوم نے بھگتے۔ 
دوستو!انتظامات، اقدامات اور نااہلی تین ایسے الفاظ ہیں جو کسی بھی قوم کی ترقی یا تنزلی کا تعین کرتے ہیں۔ اگر ہم صرف منصوبہ بندی اور اعلانات تک محدود رہیں گے، اور نااہل افراد کو کلیدی عہدوں پر بٹھائیں گے تو بحران ہمارے مقدر میں لکھا رہے گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم م¶ثر انتظامات کریں، بروقت اقدامات اٹھائیں، اور نااہلی کے کلچر کو ختم کریں۔ تبھی ہم ایک ذمہ دار، فعال اور ترقی یافتہ قوم بن سکتے ہیں۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا۔

ٹیگز: