Wed, September 16, 2026

ہجوم عید اور پس پردہ سیاست

ہجوم عید اور پس پردہ سیاست

عید کو کئی روز گزر چکے ہیں چھٹیاں بھی ختم ہو چکی ہیں مگر مارکیٹیں اور کا روبار تقریباً بے رونق ہیں خریداری کرنے والے صارفین پر ابھی تک تھکاوٹ کے آثار نمایاں ہیں یہ تھکاوٹ جسمانی سے زیادہ معاشی اور اقتصادی ہے، لوگوں نے اپریل کے مہینے کا سارا بجٹ عید پر خرچ کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ بازاروں کا رخ کرنے سے قاصر ہیں۔ دوسری طرف مہنگائی مافیا رمضان اور عید پر کی گئی تاریخی لوٹ مار کے بعد چین کی نیند سو رہا ہے۔ انہوں نے اپنا سیزن لگا لیا ہے جس میں مرغی کا گوشت 850 روپے کلو اور گائے کا گوشت 2000 روپے کلو تک فروخت کیا گیا۔ مہنگائی کے اس تیز رفتار گردشی پہیے کے بڑے بڑے کرداروں کی اکثریت نے رمضان کا آخری عشرہ بیت اللہ اور مسجد نبوی کی مقدس حدود میں عبادت میں گزارا۔ پرائس کنٹرول کی سرکاری مشینری اس سارے سیزن میں خاموش تماشائی بنی رہی۔
جب رمضان کی مہنگائی جوبن پر تھی تو وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ ان دنوں سرکاری ہسپتالوں پر اپنے کریک ڈاو¿ن میں مصروف تھیں جہاں عوام کو مفت دوائیاں نہ ملنے کی وجہ سے بڑے بڑے ایم ایس معطل کیے گئے لیکن خرابی کی ساری وجہ یہ تھی کہ پنجاب حکومت کی طرف سے دوائیاں سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے واجبات دو دو سال سے التوا کا شکار تھے۔ عوام کو ان کے دوروں کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ وزیر اعلیٰ کو پتہ چل گیا کہ مفت دوائی کی فراہمی ایم ایس اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک وزیر اعلیٰ آفس سے روکے گئے فنڈز جاری نہ کیے جائیں۔ البتہ وزیر اعلیٰ کے طوفانی دوروں میں انہیں یہ پتہ نہیں چل سکا اور نہ ان کے علم میں یہ بات لائی گئی کے ان ٹیچنگ ہسپتالوں میں علاج معالجے کا سارا نظام زیر تربیت ینگ ڈاکٹرز چلا رہے ہیں جن میں ہاو¿س آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹ PGR شامل ہیں اور یہ لوگ محدود تجربہ اور زیر تعلیم ہونے کی وجہ سے اپنی فیلڈ کے ابتدائی کیریئر کے مرحلے پر ہوتے ہیں۔ یہ 30-30 گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں جو ناقابل یقین ہے۔ آپ ان کے ڈیوٹی روسٹر چیک کر لیں لیکن ان کے مسائل کو کوئی نہیں پوچھنے والا۔ کیا کسی اور شعبے میں 30 گھنٹے کی لگاتار ڈیوٹی ہوتی ہے اتنی طویل ڈیوٹی میں قدرتی طور پر کارکردگی متاثر ہوتی ہے جس کا نقصان مریضوں کو ہوتا ہے۔ بات چونکہ عید سے شروع ہوئی تھی یہ عید تک ہی رہنی چاہیے ہماری عید کا آغاز بھی ایک سرکاری ہسپتال سے ہوا جہاں ہماری بیٹی ڈاکٹر ہیں اور چاند رات کو اس کی نائٹ ڈیوٹی تھی جو اگلے دن 2 بجے ختم ہونا تھی لہٰذا بیٹی کو عید ملنے کیلئے اس کی ڈیوٹی کے مقام پر جانے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ صدر پاکستان جناب آصف زرداری صاحب اپنی علالت کی وجہ سے عید کی نماز عوامی سطح پر ادا نہیں کر سکے ان کی بیماری کی وجہ سے سیاسی قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن ان کے قریبی حلقے اپنے رویوں کی وجہ سے معاملے کو مشکوک بنا رہے ہیں۔ ویسے تو 23 مارچ، تقریب میں ان کی صحت پر بڑے سوال اٹھے تھے کہ وہ کار سرکار چلانے کی اہلیت برقرار رکھ پائیں گے یا نہیں۔ لیکن اس پس منظر میں سیاست بھی سر ا ٹھا رہی ہے کہتے ہیں کہ صدر پاکستان نے 6 نئی نہروں کے منصوبے کے جس آرڈی نینس پر دستخط کیے ہیں اس کی سندھ میں ہر سطح پر مخالفت شروع ہو گئی ہے۔ ایک تاثر بن رہا ہے کہ صدر پاکستان جن کا اپنا تعلق سندھ سے ہے وہ ایک ایسے قانون پر کیسے دستخط کر سکتے ہیں جس میں ان کے اپنے لوگوں کا مفاد مجروح ہوتا ہو۔ لیکن جو لوگ آصف زرداری صاحب کی سیاست سے واقف میں ان کا خیال ہے کہ صدر نے دستخط بھی خود کیے ہیں اور سندھ میں احتجاج بھی خود ہی شروع کرایا ہے تا کہ الائنس بھی چلتا رہے اور سندھ کاز کو نقصان بھی نہ پہنچے دستخط سے انکار کی صورت میں ایک تو ن لیگ کے ساتھ چلنا مشکل ہو جاتا جبکہ مقتدر حلقوں سے بھی حالات خراب ہوتے جس کا نقصان بلاول بھٹو کے سیاسی کیریئر کو ہونا تھا جو ابھی تک ویٹنگ لسٹ میں ہیں۔
صدر خرابی صحت کی بنا پر جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عید کی نماز ادا نہیں کر سکے لیکن اگر مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جاتا تو عمران خان عید پر بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہ ہوتے۔ مفاہمت کی ذمہ داری کا زیادہ بوجھ حکمرانوں پر ہوتا ہے اور ضمیر کا بوجھ تو ہم سے کچھ لوگ برداشت نہیں کر پاتے مگر اقتدار کی دلکشی بعض اوقات ہر چیز پر غالب آ جاتی ہے۔
میاں نواز شریف کی صحت کے بھی مسائل ہیں وہ اب عوامی سطح پر اتنے فعال نہیں ہیں کہ عید کے اجتماعات میں عوام الناس میں گھل مل سکیں وہ خاص خاص موقعوں پر ہی نظر آتے ہیں ویسے بھی انہوں نے اپنی جانشینی کا فیصلہ مریم نواز کے حق میں کر دیا ہوا ہے۔ شہباز شریف عارضی طور پر Stop-Gap Arrangement کے طور پر ہیں جب تک مریم نواز کو وزیراعظم کی مسند پر نہیں بٹھایا جاتا۔ شہباز شریف صاحب سیاست میں مریم نواز کے نائٹ واچ مین کا رول کر رہے ہیں جو کرکٹ کی اصطلاح میں وکٹ بچانے کیلئے کی جاتی ہے۔
لیکن آنے والا وقت نا قابل پیش گوئی ہے کہ جانشینی کے بارے میں بلاول بھٹو مریم نواز کو تائید کہاں سے ملتی ہے اور اگر عوامی تائید ان دونوں کی بجائے کہیں اور ہو تو پھر کیا ہو گا۔ یہی وہ وجہ ہے جو جیل کے اندر اور جیل کے باہر کی قیادتوں کے درمیان مفاہمت نہیں ہونے دے رہی۔ ن لیگ کے لیے مقام فکر ہے کہ مفاہمت کا دائرہ محسن نقوی سے بڑھا کر ان سیاسی پارٹیوں تک پھیلایا جائے جو اب بھی عوام میں مقبول عام ہیں تا کہ فیصلے ووٹ کی طاقت سے ہو سکیں۔

ٹیگز: