سیٹھ رضوان صاحب دنیا کے بدلتے رنگ پر تبصرہ فرما رہے تھے۔ ان کے خیال میں پرانے دور میں زندگی ذرا پر سکون گزرتی تھی۔ مسائل کم تھے یا کم از کم لوگوں کے پاس ساتھ رہنے اور کھل کر جینے کے لیے وقت بہت تھا۔ زندگی اتنی ٹائٹ نہیں ہوا کرتی تھی۔ میں نے کہا سیٹھ صاحب اب تو ہم مشینوں کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔ بلکہ اب ہماری دوستی، دشمنی سب ربوٹس سے ہو گی۔ ہمارا مقابلہ بھی انسانوں کی بجائے ربورٹس سے ہوگا۔ وہ کہنے لگے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے نمٹنے کے لیے چاک و چوبند رہنا پڑے گا۔ میں نے کہا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ساتھ آگمنٹڈ ریئلیٹی کے لیے بھی تیار رہیں۔ جدید دنیا میں بڑے عرصے سے آگمنٹڈ ریلیٹی پر کام کیا جا رہا ہے۔ "یہ کیا بلا ہے بھئی؟" ۔
تو دوستو آگمنٹڈ ریئلٹی (AR) ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو حقیقی دنیا میں ڈیجیٹل چیزیں شامل کر دیتی ہے۔ یعنی، جب ہم اپنے فون یا کسی خاص چشمے (AR Glasses) کے ذریعے دیکھتے ہیں، تو ہمیں اصل دنیا کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر سے بنائی گئی چیزیں بھی نظر آتی ہیں، جو حقیقت میں وہاں موجود نہیں ہوتیں۔ میں پہلے کچھ سادہ مثالوں کی مدد سے اس کی وضاحت کرتا ہوں۔ اگر آپ نے Pokemon Go گیم کھیلی ہے، تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ فون کے کیمرے میں پوکیمون ایسے نظر آتے ہیں جیسے وہ آپ کے سامنے زمین پر موجود ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ وہاں نہیں ہوتے۔ اسی طرح جب ہم Snapchat یا Instagram کے فلٹرز استعمال کرتے ہیں، جیسے بلی کے کان، چشمے، یا چہرے پر ماسک، تو یہ AR کی ہی ایک شکل ہے، کیونکہ یہ فلٹرز آپ کے اصل چہرے پر ڈیجیٹل چیزیں شامل کر دیتے ہیں۔ اب فرض کریں کہ ہم ایک نیا صوفہ خریدنا چاہتے ہیں، لیکن سوچ رہے ہیں کہ وہ ہمارے کمرے میں کیسا لگے گا؟IKEA Place نامی ایپ ہمیں موبائل کے کیمرے کے ذریعے صوفہ ورچوئل طور پر ہمارے کمرے میں رکھنے کی سہولت دیتی ہے، تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ وہ وہاں فٹ ہوگا یا نہیں۔
اگر ہم سائنس کی کلاس میں پڑھ رہے ہیں اور دل (Heart) کا 3D ماڈل دیکھنا چاہتے ہیں، تو AR ایپ سے ہم فون کے ذریعے دل کو گھما کر، قریب سے دیکھ کر، اور اندرونی حصوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی طب کے میدان میں حیرت انگیز ترقی کا سبب بن رہی ہے۔ اس کی مدد سے بڑے پیچیدہ آپریشن بھی بڑی سہولت سے کیے جا سکتے ہیں۔ اس کا استعمال کاروباری سرگرمیوں میں بھی بڑھتا جا رہا ہے کچھ بیوٹی برانڈز، جیسے L’Oréal کی ایپس ہمیں موبائل کیمرے پر لپ اسٹک، آئی شیڈو، یا میک اپ آزمانے دیتی ہیں، تاکہ ہم خریدنے سے پہلے دیکھ سکیں کہ وہ ہم پر کیسا لگے گا۔ Zara اور Nike جیسی کمپنیاں AR استعمال کر کے ہمیں جوتے اور کپڑے پہن کر دیکھنے کا موقع دیتی ہیں، بغیر خریدے۔ یوں AR ہمیں ایسی چیزیں دکھا سکتی ہے جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں، لیکن وہ اتنی حقیقت پسندانہ لگتی ہیں کہ ہمارے خیالات اور سوچنے کے انداز کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اب ہم اس بنیادی تعارف سے تھوڑا آگے بڑھتے ہیں۔ ہم AR کے ذریعے کسی بھی تاریخی واقعے کو اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوا دیکھ سکتے ہیں، جیسے کوئی جنگ، پرانی تہذیب، یا مشہور شخصیات کے مجسمے جو حقیقت میں وہاں نہیں ہیں۔ خلائی تحقیق کے لیے بھی AR ہمیں ایسے تجربات دے سکتی ہے جیسے ہم خلا میں موجود ہیں، جس سے ہماری کائنات کے بارے میں سوچنے کا انداز بدل سکتا ہے۔ پر بات یہاں بھی نہیں رکتی۔ ان کی مدد سے چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا انداز بدل سکتا ہے۔ میرے خیال سے ایسی ٹیکنالوجی کے استعمال میں تب زیادہ کامیاب ہوا جا سکتا ہے جب ہم ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہوں۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے کم از کم ان کا تعارف بہت ضروری ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اس حد تک ترقی کر سکتی ہے کہ یہ زندگی اور موت کے بارے میں ہمارے خیالات کو بھی متاثر کر دے۔
مستقبل میں، AR ایسے ہولوگرام بنا سکتی ہے جو مرنے والے عزیزوں کی یاد کو زندہ رکھیں، جیسے وہ ہمارے سامنے بیٹھ کر بات کر رہے ہوں۔ یہ ٹیکنالوجی ڈیجیٹل اوتار (Digital Avatars) بنانے کے قابل ہو سکتی ہے جو کسی شخص کی عادات اور بولنے کے انداز کو محفوظ کر کے "زندہ" رکھنے کی کوشش کرے۔ یہ اوتار چلتے پھرتے ورچوئل کردار ہوتے ہیں جو روشنی کی مدد سے پورے انسانی وجود کو اصل حالت میں پیش کرتے ہیں۔ یعنی ہمارے سامنے مکمل چلتا پھرتا انسان دکھائی دے گا۔
کچھ کمپنیاں پہلے ہی AI اور AR کو استعمال کر کے ایسے ورچوئل کردار بنا رہی ہیں جو مرنے کے بعد بھی کسی شخص کی یادیں اور باتیں دوسروں کو سنا سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا رہا، تو انسان موت کو ایک "ڈیجیٹل بقا" (Digital Immortality) کی شکل میں دیکھ سکتا ہے۔ محققین کے مطابق آگمنٹڈ ریئلیٹی کے کچھ ایسے تصورات پر بھی کام کیا جا رہا ہے جو براہ راست انسانی دماغ کو کسی اور تصوراتی دنیا سے منسلک کر دے۔ اس سلسلے میں پالتو جانوروں پر بھی عام تجربات کیے جا رہے ہیں جو بڑی حد تک کامیاب ہو رہے ہیں۔ ایپل، گوگل، میٹا، مائیکروسافٹ جیسی کمپنیاں اے آر پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں تا کہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر کیا جا سکے۔
سیٹھ صاحب نے ایک کش لگایا، کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے: آنے دو آنے دو! ہمارے ہاں سوشل میڈیا آنے سے پہلے مردانہ کمزوری کے علاج کے اشتہار دیواروں پر لکھے جاتے تھے اب فیس بک، انسٹا گرام اور ٹک ٹاک پر آ گئے ہیں۔