Wed, September 16, 2026

انگلینڈ کے سابق کپتانو ں الیسٹر کک اور مائیکل وان کی ٹیسٹ کرکٹ کے قوانین بدلنے کی تجویز

انگلینڈ کے سابق کپتانو ں الیسٹر کک اور مائیکل وان کی ٹیسٹ کرکٹ کے قوانین بدلنے کی تجویز

لندن : انگلینڈ کے سابق کپتان الیسٹر کک اور مائیکل وان نے ٹیسٹ کرکٹ میں اہم تبدیلیوں کی تجویز دی ہے تاکہ کھیل کو مزید بہتر اور دلچسپ بنایا جا سکے۔

الیسٹر کک کا کہنا ہے کہ ٹیموں کو نئی بال لینے کی آزادی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کوئی ٹیم 30 اوورز کے بعد نیا بال لینا چاہے، تو اسے اجازت ملنی چاہیے، بشرطیکہ وہ 160 اوورز کے اندر ہو۔ کک کا ماننا ہے کہ اس قانون سے بولرز کو وکٹیں لینے میں آسانی ہوگی اور میچ میں توازن بھی برقرار رہے گا۔

دوسری طرف، مائیکل وان نے زخمی کھلاڑیوں کے متبادل کے قانون میں نرمی کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی صرف "کنکشن" یعنی دماغی چوٹ کی صورت میں متبادل کھلاڑی کو کھیلنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن یہ اصول باقی انجریز پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔

وان نے اعتراض کیا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک کھلاڑی فیلڈنگ کے دوران زخمی ہو جائے، لیکن بیٹنگ کے وقت واپس آ جائے۔ انہوں نے رشبھ پنت کی حالیہ مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کنکشن کی صورت میں متبادل آ سکتا ہے تو دوسری انجریز کے لیے کیوں نہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ جیسے دوسرے کھیلوں میں مکمل متبادل کھلاڑی آ سکتے ہیں، ویسے ہی ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ایسا ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ انجری کی صورت میں ایک غیر جانبدار ڈاکٹر بھی موجود ہونا چاہیے جو کھلاڑی کی حالت کا درست اندازہ لگا سکے۔

ٹیگز: