Wed, September 16, 2026

کیپٹن صفدر نے پردہ اٹھا دیا!

 کیپٹن صفدر نے پردہ اٹھا دیا!

بعض سوالات تاریخ پر قرض ہوتے ہیں، جلدیا بدیر جن کے جوابات بعض صورتوں میں واقعاتی شواہد کی صورت اور بسا اوقات تمام تر جزیات کے ساتھ روشن ہو جایا کرتے ہیں جبکہ بعض سوالات اٹھانے والے خود تاریخ کی ان دیکھی وادیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ برصغیر کی تقسیم پاکستان پھر بنگلہ دیش کا قیام، پاکستان کی تخلیق میں انگریزوں، مسلمان لیڈروں کے کردار کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے سوالات کے جوابات اتفاق اور عدم اتفاق کی دھنلاہٹ میں کس کا یقین کیجئے ، کس کا یقین نہ کیجئے کا معاملہ ہے۔ گزرتی تاریخ میں تین سوالات ایسے ہیں جو ایک مدت سے جواب طلب تھے سوال نمبر ایک صدر غلام اسحق خان اور وزیراعظم نوازشریف کے مابین شدید اختلافات کی بنیاد کیا تھی سوال نمبردو، نوازشریف کی کسی بھی آرمی چیف سے کیوں نہیں بنی، نوازشریف کے خلاف پانامہ کیس کس کے ایماء پر اور کیوں بنایا گیا، سوال نمبرتین کیا جنرل قمر جاوید باجوہ کو نوازشریف کی رضامندی سے ایکسٹینشن دی گئی۔ ان سوالات کے جوابات پر بھی ذہنی الجھاؤ سایہ فگن رہتا اگر کپٹن صفدر کی لب کشائی سامنے آنے کا ذریعہ نہ بنتی پہلے سوال کا جواب یہ واقع ہے وزیراعظم نوازشریف کے طیارے نے لاہور ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی تو محسوس ہوا جہاز کو رن وے پر نہیں بلکہ کسی کچی آبادی کی سڑک پر اترنے کی کوشش کی جارہی ہے وزیراعظم نے پائلٹ سے وجہ پوچھی اس نے بتایا کہ رن وے کی حالت خراب ہے جہاز میں کوئی خرابی نہیں، وزیراعظم نے تعجب سے کہا یہ رن وے میں نے کچھ ہی عرصہ پہلے تو بنوائی ہے اتنی جلدی کیسے خراب ہوگئی۔ وزیراعظم نے ایم کیوایم سے تعلق رکھنے والے شہری ہوابازی کے وزیر شاہد حمید کو انکوائری کی ہدایت دی انہوں نے رپورٹ دی شہری ہوابازی کے مشیر اجلال حیدر زیدی ذمہ دار ہیں۔ صدر غلام اسحاق خان نے جن کی بیوروکریسی کے دور سے دوستی تھی وزیراعظم کو اجلال حیدر زیدی کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا کہا وزیراعظم نے نااہلی اور کرپشن کسی صورت معاف نہ کرنے کی اپنی سوچ کے تحت یہ بات ماننے سے انکارکرکے اجلال حیدر زیدی سے استعفیٰ لے لیا صدر نے اسے ذاتی توہین سمجھا اوریوں دونوں میں اختلاف کی بنیاد رکھ دی تاہم صدر غلام اسحاق خان کی دیانت داری، راست گوئی، نااہلی اور کرپشن برداشت نہ کرنے کی شہرت پر بھی داغ لگ گیا۔ 
دوسرے سوال کا جواب اس واقعہ کے آئینہ میں دیکھاجاسکتا ہے ۔کیپٹن صفدر نے آرمی چیف سے اختلافات کی بات ایک سوال کے جواب میں جنرل راحیل شریف سے کی ہے۔ کہا جاتا ہے جنرل جہانگیر کرامت نے کوئٹہ میں نیشنل سکیورٹی کونسل کی بات کی جس پر وزیراعظم نے ان سے استعفیٰ لے لیا اور کہا جاتا ہے جنرل جہانگیر کرامت نے کسی ترددکے بغیر اس لئے استعفیٰ دے دیا کہ فوج سے فراغت کے فوراً بعدواشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک میں معقول ملازمت منتظر تھی۔ تاہم اس دور میں ایک انگریزی میگزین میں صحافی عامر میر کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پہلے دورحکومت میں جب سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ملک نعیم وزیرمملکت برائے دفاع تھے فوجی قیادت کو پیغام بھیجا گیا کہ فوج میں غیر عسکری اخراجات کی تفصیل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بھیجی جائے اس کا جواب آیا فوج میں آڈٹ کا مضبوط ترین نظام قائم ہے ایک پیسے کی گڑ بڑ کی گنجائش نہیں ہے حکومت کے اس اقدام نے تعلقات میں دراڑ پیدا کی اس انکار کی وجہ یہ خدشہ بھی ہوسکتا ہے کہ سویلین آڈیٹرز اور بالخصوص قائمہ کمیٹی کے بعض یا کسی ایک رکن نے بھی فوجی معاملات کے تقاضوں کو سمجھے بغیر یا خودکوبڑا ’’حریت پسند‘‘ ثابت کرنے کیلئے بعض اخراجات پر انگشت نمائی کردی تو اس سے فوج کی ساکھ پر منفی اثر پڑ سکتا ہے یادش بخیر 1970ء کی بات ہے فارغ وقت راولپنڈی صدر ریلوے روڈ پرواقع حکیم سروسہارنپوری کے مطب میں گزرتا ایک صاحب علاج کیلئے آیا کرتے جو فوج کے شعبہ آڈٹ میں ملازم تھے ایک روز اشنائے گفتگو بتایا کہ فوج میں آڈٹ کی صورت یہ ہے کہ بال میں سے کھال نکال کر اس کھال میں سے بھی بال نکالنا پڑتا ہے اس لیے رتی برابر بھی گڑ بڑ ممکن نہیں ہے۔ 
جنرل راحیل شریف اور میاں نوازشریف کے مابین اختلافات کے حوالے سے کیپٹن صفدر نے اس کی وجہ بھی ایکسٹینشن نہ دینا بتایا دوسری وجہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرکے رہا کرنے سے انکار کرنا تھا۔ جواب میں نوازشریف نے کہا تھا جنرل پرویز مشرف نے میرے ساتھ جو کچھ کیا فراموش کرسکتا ہوں لیکن اس نے ملک وقوم کے ساتھ جو کیا وہ قابل معافی نہیں ہے۔ اسی طرح جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ایکسٹینشن کے معاملے پر اختلاف ہوا۔ جنرل فیض حمید آرمی چیف بننے کیلئے رابطوں میں ناکامی پر نوازشریف کا دشمن بنا۔ (ن) لیگ کے بعض رہنماؤں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کیلئے لندن کے کئی چکر لگائے اور نوازشریف کو راضی کرنے کیلئے انہیں نفع ونقصان کی صورتیں بتائیں آخر نوازشریف نے زچ ہوکر کہا ’’ جاؤ جو مرضی کرو‘‘ نوازشریف کے راضی نہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ نوازشریف کے گھر کے دوووٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹینشن کے حق میں نہیں گئے ان میں ایک نوازشریف کے بہت قریب پرویز رشید دوسرے میرے بھائی محمدسجاد اعوان شامل ہیں جو میرے جیل میں ہونے کی وجہ سے میرے حلقہ سے ایم این اے منتخب ہوئے تھے نوازشریف کی مرضی شامل ہوتی تو سب سے پہلے یہ دوووٹ جنرل باجوہ کو ملتے۔ 

ٹیگز: