ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کے زیر اہتمام جنوبی بلوچستان کے ضلع کیچ میں ’’معاشرتی ترقی میں بلوچ خواتین کا کردار‘‘ کے عنوان سے ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس کا مقصد بلوچستان کی خواتین کی معاشرتی و سماجی اہمیت اور علاقائی ترقی میں ان کے کردارکو اجاگر کرنا تھا، سیمینار میں ارکان بلوچستان اسمبلی، مقامی سیاست دانوں، سول انتظامیہ، سکیورٹی اداروں کے نمائندگان، اساتذہ، ڈاکٹرز، دانشوروں اور طالبات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی تقریباً 200 خواتین نے شرکت کی۔ سیمینار کے پینل میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، صوبائی وزیر برائے کھیل و امور نوجواناں مینا مجید، سابق رکن بلوچستان اسمبلی مسز ماہ جبین شیران اور یونیورسٹی آف بلوچستان کی پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ حبیب شامل تھے۔ پینل اراکین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ خواتین نے ہمیشہ اپنی صلاحیت، استقامت اور حوصلے سے معاشرتی ترقی میں قابل فخر کردار ادا کیا ہے۔ چاہے میدان تعلیم ہو، طب، بیوروکریسی ہو یا سیاست، انتظامی امور ہوں یا سکیورٹی ادارے بلوچ خواتین نے ہر سطح پر اپنی موجودگی اور صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ان کا عزم اور عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ بلوچستان کی بیٹیاں کسی سے کم نہیں۔ سیمینار کے دوران سوال و جواب کے سیشن میں شرکاء نے بلوچ خواتین کے ابھرتے کردار کو قومی فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی شرکت کے بغیر کسی بھی معاشرے کی ترقی ادھوری رہتی ہے۔ آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشرتی ترقی ایک منظم ارتقائی عمل ہے، جس میں بلوچ خواتین کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ بلوچ خواتین آج اپنی محنت، عزم اور صلاحیتوں کے بل پر قومی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ ترقی کے اس سفر میں اپنے اخلاقی و ثقافتی اقدار کو برقرار رکھیں، مشکلات کے سامنے ہمت نہ ہاریں، دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی ذمہ داریوں کو دیانتداری سے نبھائیں۔ سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچ خواتین کو تعلیم، روزگار اور قیادت کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے عمل کو مزید فرغ دیا جائے گا، تاکہ وہ صوبے کی ترقی اور استحکام میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ جنوبی بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے سے لے کر عوام کی خدمت تک ایف سی بلوچستان (سائوتھ) کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اپنی دفاعی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ایف سی (سائوتھ) معاشی و سماجی میدانوں میں بھی اپنا کلیدی کردار نبھا رہی ہے۔ خصوصاً بلوچ خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں، جنوبی بلوچستان کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں جہاں کبھی خواتین کے لیے تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے، وہاں آج امید کی نئی کرنیں روشن ہو چکی ہیں۔ یہ تبدیلی ایف سی بلوچستان (سائوتھ) کی ان مسلسل فلاحی اور سماجی کوششوں کا نتیجہ ہے جو خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ کیونکہ تعلیم یافتہ خواتین کامیاب معاشرے کی ضمانت ہیں اور عورت کے بغیر انسانی نسل کا استحکام اور نشوونما ناممکن ہے۔ اس لیے ایک خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے ایف سی (سائوتھ) کی جانب سے خواتین کی صحت، تعلیم اور روزگار کے حوالے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، اسی سلسلہ میں گذشتہ سال 29 اکتوبر 2024 کو ایف سی بلوچستان (سائوتھ) کے زیر اہتمام گورنمنٹ گرلز کیڈٹ کالج تربت میں پہلی بار خواتین کے لیے بریسٹ کینسر آگاہی کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ جس کا مقصد خواتین کو اس موذی مرض کے خطرات، وجوہات، احتیاطی تدابیر اور بروقت تشخیص کی اہمیت سے آگاہ کرنا تھا، تربت شہر میں اس مہلک مرض کی آگاہی کے حوالے سے پوسٹرز اور بینرز آویزاں کیے گئے، جنہوں نے خواتین میں شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کنونشن کے انعقاد پر مختلف کالجز کی طالبات اور مقامی خواتین نے ایف سی (سائوتھ) کی اس کاوش کو بے حد سراہا۔ اسی تسلسل میں رواں سال، مئی 2025 میں آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے گرلز کیڈٹ کالج تربت کی بارہویں جماعت پاس کرنے والی دوسرے بیچ کی 64 طالبات میں
لیپ ٹاپ تقسیم کیے۔ جس کا مقصد خواتین کے تعلیمی تجربے کو بہتر بنانا اور انہیں جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا تھا، کیونکہ آنے والا دور مکمل طور پر ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جہاں ہر شعبہ زندگی میں کمپیوٹر کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ تعلیم، کاروبار اور روزگار کے مواقع میں کامیابی کے لیے کمپیوٹر کی تعلیم ضروری ہے۔ آج کے دور میں کمپیوٹر سیکھنا زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اسی مقصدکے پیش نظر ایف سی (سائوتھ) نے خواتین کی ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کے لیے بھی قابل قدر اقدام اٹھایا۔ رواں سال یکم جولائی 2025ء سے 31 جولائی تک ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) اور ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر تربت کے اشتراک سے خواتین کو ڈیجیٹل میدان میں بااختیار بنانے کے لیے 30 روزہ ’’شارٹ کورس‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد تربت کی خواتین کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا تھا تاکہ وہ خودمختار، باعزت روزگار حاصل کر سکیں اور ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوں۔ اس کورس میں خواتین کو کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم، جدید سافٹ ویئرز کے استعمال اور فری لانسنگ کے ذریعے روزگار کے مواقع سے روشناس کرایا گیا، تاکہ انہیں ڈیجیٹل دنیا میں مؤثر طریقے سے قدم رکھنے کے قابل بنایا جا سکے۔ آج جنوبی بلوچستان میں خواتین کا بڑھتا ہوا تعلیمی رجحان، ان کی سماجی شمولیت اور معاشی خودمختاری ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کی ان انتھک کاوشوں کا واضح ثبوت ہے جو اس نے ایک پُرامن، ترقی یافتہ اور باوقار بلوچستان کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کی ہیں۔ بلوچ خواتین جو کبھی پسماندگی، محرومی اور فرسودہ روایت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھیں، آج انہی خواتین کے ہاتھوں میں قلم، علم اور ہنر کی مشعل روشن ہے۔ یہ محض ایک سماجی تبدیلی نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب ہے، جس کی بنیاد ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے اپنے عزم، جذبے اور عملی اقدامات سے رکھی۔ آج تربت، کیچ، پنجگور اور مکران کی بیٹیاں تعلیم، صحت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جب عورت تعلیم یافتہ، باہمت اور بااختیار ہو جائے تو وہ صرف اپنا نہیں بلکہ اپنے پورے خاندان اور معاشرے کا مقدر بدل دیتی ہے۔ ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کی انہی کوششوں نے بلوچستان کی بیٹیوں کے دلوں میں یہ یقین پیدا کیا ہے کہ وہ اس ملک کی تعمیر و ترقی میں ایک فعال اور کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ آج وہ خود اعتمادی، وقار اور حب الوطنی کی علامت بن چکی ہیں۔