جاری برس کو جنگوں اور معاہدوں کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا جبکہ یہ سال اہم شخصیات کی طرف سے کئے گئے اہم دعوئوں پر عملدرآمد میں ناکامی کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ دعوے کئے گئے کہ جنگیں بند کرائیں لیکن اس کے برعکس نئی جنگیں چھیڑی گئیں۔ دو جھڑپیں ایسی ہیں جن میں ایک کے بارے میں عالمی طاقت کی خواہش تھی کہ وہ بڑھتے بڑھتے جنگ کی صورت اختیار نہ کرے جبکہ ایک اور گرم بارڈر کی طرف سے اسی طاقت نے مکمل طور پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ پاکستان ائیرفورس نے بھارتی فضائیہ کے نصف درجن سے زیادہ طیارے مار گرائے تو طیارے تیار کرنے والے ملک کے دوست خفیہ طور پر متحرک ہوئے۔ امریکی صدر سامنے آئے انہوں نے جھڑپوں کو آگے بڑھنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کیا جسے پاکستان تو تسلیم کرتا ہے لیکن بھارت نہیں مانتا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں تو امریکہ سمیت تمام یورپ نے اسی طرح عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا جس طرح وہ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے کرتے نظر آئے، جسے جنگیں بند کرانے کا کریڈٹ لینے کی زبردست خواہش ہے اس نے کہا میں چاہوں تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو ایک دن میں ختم کرا سکتا ہوں لیکن مجھے امریکہ کے معاملات کو بھی دیکھنا ہے، مجھے فرصت نہیں۔
تاریخ بتاتی ہے امریکہ اور مغربی طاقتوں کو متحارب مسلمان قوتوں کے جنگ کی طرف بڑھنے یا جنگ میں الجھنے کا معاملہ ہو تو سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ کسی کو ادھر دیکھنے کی فرصت نہیں ہوتی لیکن وہ متحارب ملکوں کو خفیہ طور پر اپنا اسلحہ فروخت کرنے کے لئے ہمہ وقت دستیاب رہتے ہیں۔
عراق ایران کا معاملہ دنیا کے سامنے ہے۔ یہ جنگ برسوں جاری رہی۔ غزہ میں جنگ کو دو برس سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا۔ اسرائیل کو مالی امداد اور اسلحے کی سپلائی جاری رہی۔ جنگ بندی کے لئے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے اقوام متحدہ میں جتنی مرتبہ بھی قرارداد پیش کی گئی امریکہ نے اسے چھ سے زیادہ مرتبہ ویٹو کیا۔ اس ویٹو کا مقصد اسرائیل کو وقت مہیا کرنا تھا کہ وہ غزہ کے علاقوں پر زیادہ سے زیادہ قبضہ کر لے اور فلسطینیوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچائے۔ فلسطینیوں کے جذبہ حریت کو لاکھوں سلام، انہوں نے اپنے کردار جرأت و ہمت سے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ فلسطینی وہ واحد قوم ہیں جنہوں نے بموں کی برسات بھوک پیاس اپنے ہاتھوں میں اپنے معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اترتے دیکھا۔ عورتوں، جوانوں اور بزرگوں کو زخموں سے چور دیکھا لیکن وہ میدان میں ڈٹے رہے۔ کسی نے اپنی زمین نہیں چھوڑی بلکہ موت کو گلے لگانا منظور کیا۔
دنیا میں جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں جنگ زدہ علاقوں سے آبادی کا انخلا شروع ہو جاتا ہے۔ مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی اتاری گئی تو لاکھوں افراد قریبی ملکوں کی طرف جان بچانے کے لئے نکل گئے۔ پہلے روس بعدازاں امریکہ نے افغانستان پر یلغار کی تو تیس لاکھ افغان پاکستان میں پانچ لاکھ ترکی پندرہ لاکھ ایران اور قریباً دو لاکھ افغان یورپ کے مختلف ممالک کی طرف نکل گئے۔ کچھ افغان خلیجی ریاستوں کی طرف گئے لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ کمزور ممالک کے وسائل پر قبضہ عالمی ایجنڈا ہے۔
مختلف ممالک نے انہیں درپیش خطرات کے پیش نظر مختلف طاقتوں سے معاہدے کئے ہیں جن میں مرکزی نکتہ ایک ہی ہے۔ ایک ملک پر حملہ اس کے حلیف پر حملہ تصور ہو گا۔ بیشتر معاہدوں کی تفصیلات خفیہ ہیں، ان کی اہم شقیں کیا ہیں دنیا اس سے بے خبر ہے۔ راز اس وقت کھلے گا جب ان معاہدوں میں پابند کسی ملک پر کسی طرف سے حملہ ہو گا تو دیکھا جائے گا کس ملک نے کس ملک کی کتنی اور کیا مدد کی۔ اسی وقت واضح ہو گا کہ یہ معاہدے کتنی حقیقت کتنا فسانہ تھے۔ یہ دفاعی معاہدے تھے یا دفاعی معاہدوں کے نام پر فقط سیاسی فائدہ اٹھانے کے حربے تھے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ، قطر اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے بعد تازہ ترین معاہدہ بھارت اور امریکہ کے مابین ہوا ہے۔ اس میں پاک فضائیہ کے ہاتھوں بھارت کو محفوظ رکھنے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ اس معاہدے پر پاکستان کے ساتھ پوری مسلم دنیا بری طرح چونکی ہے لیکن کسی طرف سے کسی واضح ردعمل کا اظہار نہیں ہوا، سب انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ معاہدے کرنے والے ممالک میں ایک آدھ کو چھوڑ کر دیگر کسی کو اس بات کا ادراک نہیں کہ ہر ملک کو درپیش خطرات کے پیچھے وہی ایک ملک اور اس کا سربراہ ہے جسے جنگیں بند کرانے کا بہت شوق چڑھا ہے۔ وہ چاہتا تو فوراً غزہ میں جنگ بند ہو سکتی تھی وہ چاہتا تو یوکرین کی جنگ چوبیس گھنٹے میں بند ہو سکتی تھی وہ چاہتا تو اسرائیل ایران پر حملہ نہ کرتا وہ چاہتا تو بھارت پاکستان پر حملے سے باز رہتا لیکن اس کے ایما پر اسرائیل نے قطر میں امن مذاکرات کے دوران اس پر حملہ کیا جبکہ امریکہ نے اسرائیل کو خوش کرنے کے لئے امن مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا۔ امریکی طرز عمل اور امریکہ کے براہِ راست ایران پر حملے سے امریکی پالیسی کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ وہ کس حد تک دنیا میں جنگیں بند کرانے میں دلچسپی رکھتا ہے اور دنیا کو کس حد تک اس پر اعتبار کرنا چاہئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے بلاوجہ چین کے خلاف اقتصادی جنگ چھیڑی اپنے حلیفوں کواس جنگ میں خواہ مخواہ گھسیٹا لیکن اس جنگ میں بالآخر امریکہ کو چین کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے جبکہ امریکہ کی حمایت کرنے والوں کے حصے میں سیاہی آئی۔
امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونے والا معاہدہ دراصل ایک معاہدے کی تجدید ہے۔ یہ معاہدہ 2005ء میں ہوا بعدازاں 2015ء میں اس کی تجدید ہوئی۔ اب مزید دس برس بعد یعنی 2025ء میں اس کی تجدید کا وقت تھا جو ہو گئی۔ کیا یہ تجدید رک سکتی تھی اور صرف اس بنا پر کہ امریکہ پاکستان اور پاکستانی قیادت پر دل و جان سے فدا ہے تو جواب ہے بالکل نہیں، جو ایسا سوچ رہے تھے کہ اب امریکہ ہماری جیب میں ہے تو یہ ان کی بھول تھی۔ پچیس کروڑ کی مارکیٹ کو سینے سے لگا کر امریکہ ڈیڑھ ارب نفوس کی مارکیٹ، کئی ہزار ارب ڈالر کا نقصان کیوں اٹھائے گا۔ اسے کسی پاگل کتے نے نہیں کاٹا، البتہ وہ ہمیں پاگل بنانے میں کامیاب رہا۔ اس نے ہم سے جو حاصل کرنا تھا وہ کر چکا۔ وہ ضرور چاہے گا پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑی جنگ ہو۔ وقت کا فیصلہ بھی امریکہ کرے گا بھارت نہیں، ٹرمپ نے جدید اسلحے کی ٹیسٹنگ اور مینوفیکچرنگ کا حکم دے دیا ہے۔