Wed, September 16, 2026

 شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا ناجائز کیوں؟

 شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا ناجائز کیوں؟

یہی اصول جدید بین الاقوامی قوانین میں بھی شامل ہے۔ گزشتہ سال مئی میں بھارتی حملوں میں مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا جوکہ بین الاقوامی قانون کے تناظر میں جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
اسی طرح اسلام نے جنگ میں شہری تنصیبات (پانی کے ذرائع، بجلی گھروں، ہسپتالوں، سکولوں) کو نشانہ بنانے سے منع کیا ہے۔ یہ اصول فساد فی الارض (زمین میں تباہی پھیلانے) کے زمرے میں آتا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں منع فرمایا ہے: چنانچہ سورة البقرہ میں ہے: ”اور جب وہ (آپ سے) پھر جاتا ہے تو زمین میں (ہر ممکن) بھاگ دوڑ کرتا ہے تاکہ اس میں فساد انگیزی کرے اور کھیتیاں اور جانیں تباہ کر دے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں فرماتا“ (سورہ البقرہ، آیت 205)
اسلام نے جنگ میں بھی درختوں اور کھیتیوں کو تباہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ مصنف عبد الرزاق میں روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے دشمن کے کھجور کے باغات نہ کاٹنے اور نہ جلانے کا حکم دیا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے جنگ کے موقعوں پر بھی درختوں اور کھیتیوں کو برباد کرنے سے منع فرمایا۔
جنگ میں اسلام کا ایک اور اصول بہت واضح ہے کہ حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ سورہ النحل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی تمہیں تکلیف دی گئی ہے اور بلاشبہ اگر تم صبر کرو تو یقینا وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔“ (سورة النحل، آیت 126)
اس آیت میں اگرچہ بدلہ لینے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم یہ اجازت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ فریقِ مخالف کے خلاف کوئی تجاوز نہ ہو؛ بصورتِ دیگر بدلہ لینے والا خود ظلم کا مرتکب قرار پائے گا۔ اس کے ساتھ ہی معاف کر دینے اور صبر اختیار کرنے کو زیادہ بہتر اور پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ جب مظلوم ظالم سے بدلہ لے تو وہ حد سے نہ بڑھے، بلکہ اسی قدر سزا دے جتنی اس پر زیادتی کی گئی ہو۔
جب کسی موقع پر دشمن عام شہریوں کو نشانہ بنائے تو اس کا بدلہ شہریوں کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ ایسے جنگی جرائم کے مرتکب فوجیوں کو ان کے جرم کی سزا دینا ہے۔ اسی اصول کے تحت معرکہ حق میں پاکستان نے جوابی کارروائی کے دوران بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، نہ کہ بھارتی شہریوں کو۔
اسلام نے جنگی قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ”اور وہ کھانا کھلاتے ہیں، اس کی محبت کے باوجود، مسکین، یتیم اور قیدی کو۔“ (سورة الدہر، آیت 8)
اس آیت میں اسیر سے مراد جنگی قیدی ہیں، اور ان کے کافر ہونے کے باوجود انہیں کھانا کھلانا اور ان سے حسن سلوک بڑی نیکی کا کام ہے۔ اسلام نے ایک ایسے دور میں جنگی قیدیوں کو حقوق عطا فرمائے جس دور میں جنگوں میں ہر قسم کا ظلم روا رکھا جاتا تھا۔ جنگی قیدیوں کو ہاتھ آئے شکار کی مانند سمجھا جاتا تھا۔
شریعتِ اسلامی کے اہم اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ جنگ کسی منظم اور ذمہ دار قیادت کے تحت لڑی جائے۔ اس شرط کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جنگ بے قابو صورت اختیار نہ کرے اور اس کے نتیجے میں لوٹ مار، دہشت گردی یا رہزنی جیسی خرابیاں جنم نہ لیں۔ زمان جاہلیت میں جنگ ایک غیر منظم اور انتشار کا شکار عمل تھا، جس میں کوئی واضح نظم و ضبط یا اخلاقی حدود موجود نہ تھیں۔ اسلام نے اس صورتِ حال میں بنیادی اصلاحات متعارف کرائیں، جن میں ایک نمایاں اصلاح یہ تھی کہ جنگ کو ایک باقاعدہ نظم کے تحت لایا گیا اور اسے حکمران یا امیر کی قیادت اور اطاعت کے ساتھ مشروط کر دیا گیا۔ اس طرح جنگ کو محض طاقت کے استعمال کے بجائے ایک ذمہ دار اور اصولی عمل کی شکل دی گئی۔
رسول اللہﷺ نے اس اصول کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جنگ دو طرح کی ہوتی ہے: ایک وہ جس میں انسان اللہ کی رضا کے لیے نکلے، امام کی اطاعت کرے، اپنا بہترین مال خرچ کرے اور فساد سے بچے، تو اس کا سونا اور جاگنا سب اجر کا باعث بنتا ہے۔ اور دوسری وہ جس میں کوئی شخص دکھاوے اور شہرت کے لیے لڑے، امام کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد پھیلائے، تو وہ برابر بھی نہیں چھوٹتا (یعنی کچھ حاصل نہیں کرتا)۔“ (سنن ابی داو¿د، کتاب الجہاد، حدیث نمبر: 2154)
اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر دشمن امن یا جنگ بندی کی طرف مائل ہو تو اسے قبول کرنا چاہیے، اور معاہدے کی پاس داری ہر حال میں لازم ہے، جب تک وہ معاہدہ برقرار ہے۔ معرکہ حق میں جب بھارت کی طرف سے مختلف ذرائع اختیار کرتے ہوئے جنگ بندی کی درخواست کی گئی تو پاکستان نے اسے قبول کر لیا، حالانکہ بھارت نے اس سے قبل شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔
معرکہ حق نے پوری دنیا کے سامنے یہ مثال قائم کر دی کہ پاکستان ایک ایسی قوم ہے جو اپنے دفاع کے حق میں اسلامی اصولوں اور انسانی اقدار کی پابندی کو یقینی بناتی ہے۔ جہاں ایک طرف بھارت نے شہری آبادیوں کو نشانہ بنا کر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا، وہیں پاکستان نے جوابی کارروائی میں صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنا کر ثابت کر دیا کہ اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہی ہے کہ جنگ میں بھی انسانیت کو فراموش نہ کیا جائے۔
اسلامی اصول جنگ کوئی نظریاتی چیز نہیں بلکہ یہ ایک عملی دستور ہے جس پر عمل کر کے قومیں دشمن کے دل میں بھی عزت پیدا کر سکتی ہیں۔ قرآن و سنت کی تعلیمات یہ ہیں کہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور دیگر غیر مقاتلین کو کبھی نشانہ نہ بنایا جائے، عبادت گاہوں اور شہری ڈھانچے کو تحفظ دیا جائے، جنگی قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے، اور بدلہ لیتے وقت بھی حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ 
اللہ ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھے اور ہمارے شہدا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

ٹیگز: