گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک محدود لیکن انتہائی اہم فوجی تصادم ہوا، جسے پاکستان کی قیادت نے معرکہ حق کا نام دیا۔ یہ سلسلہ 22 اپریل 2025 کو اس وقت شروع ہوا جب بائسران ویلی، پہلگام مقبوضہ کشمیر (جو لائن آف کنٹرول سے تقریباً 200 کلومیٹر دور ہے) میں ایک حملے میں 26 افراد جاں کی بازی ہار گئے۔ اس افسوس ناک واقعے کے چند ہی منٹ بعد حسب عادت بھارتی حکومت اور ان کے میڈیا نے بغیر کسی طرح کی باضابطہ تحقیقات کے پاکستان پر الزمات عائد کرنا شروع کر دئیے جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس واقعے کو فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔
اس کے بعد بھارت نے 6 اور 7 مئی 2025 کی شب پاکستان کے شہری علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن کے نتیجے میں معصوم شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان حملوں میں مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا اور متعدد شہری جاں بحق ہوئے۔ پاکستان نے جواب میں آپریشن بنیان مرصوص (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) شروع کیا، جس میں صرف بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور کسی بھی شہری آبادی کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا جائز نہیں، اسی طرح بین الاقوامی جنگی قوانین بھی عام شہریوں اور شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس کے باوجود کہ بھارت نے معصوم پاکستانی شہریوں اور مساجد کو نشانہ بنایا، پاکستان نے جوابی کارروائی میں اسی طرزِ عمل کو اختیار کرنے کے بجائے اپنے آپ کو صرف فوجی اہداف تک محدود رکھا۔
یہ طرزِ عمل نہ صرف عالمی جنگی قوانین کی پاسداری کا مظہر ہے، بلکہ اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار اسلامی ریاست ہونے کے ناتے اسلامی احکام کی پیروی کو لازم سمجھتا ہے، جن کے مطابق عام شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی قطعی اجازت نہیں۔ اس مضمون میں اسی حوالے سے اسلامی تعلیمات کا مختصر جائزہ پیش کیا جائے گا۔
اسلامی شریعت نے انسانی زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح جنگ کو بھی تہذیب اور انسانیت کے دائرے میں رکھنے کے لیے واضح احکام، اصول اور قواعد مقرر کیے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفائے راشدینؓ کے طرزِ عمل کی روشنی میں فقہا نے آدابِ قتال کے متعلق مفصل ضوابط اور تفصیلی احکامات ذکر کیے ہیں، جن کی پابندی مسلمانوں پر ہر حال میں لازم ہے، خواہ فریقِ مخالف ان کی رعایت کرے یا نہ کرے۔
چنانچہ اسلامی شریعت نے دورانِ جنگ بھی انسانی اقدار کی پاسداری کو ضروری قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مقاتلین کو ہدف بنانے سے منع فرمایا، لاشوں کے مثلہ سے روکا، لوٹ مار اور قتلِ عام کی ممانعت فرمائی، امیر کی اطاعت کا حکم دیا اور جنگ کو منظم انداز میں لڑنے کی ہدایت دی۔ اسی طرح جنگی قیدیوں اور مفتوحین کے ساتھ حسنِ سلوک کی شاندار مثالیں قائم کیں اور معاہدات کی پابندی خود بھی کی اور دوسروں کو بھی اس کا پابند بنایا۔
اسلام میں عام شہریوں کے تحفظ کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ”اور اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں، اور حد سے تجاوز نہ کرو، یقینا اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔“(سورة البقرہ، آیت 190)
اس آیت میں ”لا تعتدوا“ (حد سے نہ بڑھو) کا مفہوم مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ زیادتی سے منع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، راہبوں اور ایسے عام شہریوں کو قتل نہ کیا جائے جو جنگ میں حصہ نہیں لے رہے۔
مزید برآں، اللہ تعالیٰ نے ایک بے گناہ انسان کے قتل کی سنگینی کو ان الفاظ میں بیان فرمایا: ”جس نے کسی شخص کو بغیر کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے ارتکاب کے قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔“ (سورة المائدہ، آیت 32)
احادیثِ نبویہ میں غیر مقاتلین کے تحفظ پر خاص زور دیا گیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے متعدد احادیث میں عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 4548) میں ہے: ”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو آپ نے عورتوں اور بچوں کے قتل پر (سخت) ناگواری کا اظہار فرمایا (اور اس سے منع فرما دیا)۔“
اسی طرح صحیح بخاری (حدیث نمبر 3015) میں بھی یہی حکم موجود ہے کہ رسول اللہﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
سنن ابی داو¿د کی روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ”تم کسی بہت بوڑھے، کسی بچے، کسی کم سن اور کسی عورت کو قتل نہ کرو۔“
فقہ حنفی کی معروف کتاب ”الہدای“ میں امام مرغینانی لکھتے ہیں کہ مسلمان دشمن کی عورتوں، بچوں اور راہبوں کو ان کے گھروں میں قتل نہیں کرتے۔ اگر دشمن ایسا کرے تو ان کے لیے پھر بھی جائز نہیں کہ وہ بھی جواب میں ایسا ہی کریں۔ یہ اصول معرکہ حق میں پاکستان کے طرز عمل کی واضح دلیل ہے کہ بھارت کی طرف سے شہریوں کو نشانہ بنانے کے باوجود پاکستان نے اسی قسم کے اقدامات نہیں کیے۔ اسلام کا قانونِ جنگ امن و عافیت کا ضامن ہے اور اس میں غیر مقاتلین کے تحفظ پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
اسلام نے جنگ میں عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے سے سختی سے منع کیا ہے، خواہ وہ مسجد ہو، کلیسا ہو یا مندر۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی مشہور ہدایت میں فوجیوں کو فرمایا تھا: ”تم راہبوں کو ان کی عبادت گاہوں میں مت چھیڑو، عبادت خانوں کو مت گراو¿، درخت مت کاٹو، کھیت مت جلاو¿۔“ (تاریخ طبری)