نئی دہلی: بھارتی کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے خلاف "اعلانِ جنگ" کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ نئی دہلی نے اسرائیل کی خوشنودی کے لیے اپنے سب سے معتبر اتحادی ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ہے۔
انڈین ایکسپریس میں شائع اپنے مضمون میں سونیا گاندھی نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ دہائیوں سے جاری بھارت کی آزادانہ خارجہ پالیسی اب دم توڑ چکی ہے۔ انہوں نے کہا توازن کی تباہی: بھارت کی طاقت اسرائیل اور ایران کے درمیان توازن رکھنے میں تھی، جسے مودی نے اپنی سیاسی نمائش کے لیے قربان کر دیا۔ بحران کے وقت خاموشی اختیار کرنا سفارت کاری نہیں بلکہ "اخلاقی بزدلی" ہے، جس نے عالمی سطح پر بھارت کو ایک تابع دار ریاست بنا کر پیش کر دیا ہے۔
سونیا گاندھی نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر حکومتِ ہند کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر بھارت کا مدھم ردِعمل ثابت کرتا ہے کہ نئی دہلی اب اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ ان کے بقول، یہ رویہ بھارت کی تاریخی ساکھ کے منافی ہے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ ایران جیسے دیرینہ اسٹریٹجک پارٹنر کو نظر انداز کرنے کے نتائج بھارت کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔ مودی حکومت جسے اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے، وہ دراصل بین الاقوامی فورمز پر بھارت کی پوزیشن کو کمزور کر رہی ہے اور ہم اپنے پرانے دوستوں کو کھو کر خود کو تنہائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔