تہران، واشنگٹن :امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر دھماکہ خیز مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر براہِ راست حملوں کا اعتراف کیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرین میں امریکی بحری فوج کے ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹرز اور کویت میں امریکی ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے ان دعووں کو غلط قرار دیتے ہوئے ایران کے جزیرہ قشم میں جوابی کارروائی کی ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق یہ حملے امریکی جارحیت کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹرز پر داغے گئے میزائلوں نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ امریکی ایئر بیس پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں وہاں کھڑے متعدد ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچا۔ ایران نے واضح کیا کہ وہ اپنی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایران کے تمام دعووں کو مسترد کرتے ہوئے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس کے مطابق امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام (Air Defense) نے بحرین اور کویت کی طرف آنے والے تمام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی مار گرایا۔ ففتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر اور ایئر بیس مکمل محفوظ ہیں۔
امریکی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے جزیرہ قشم میں داخل ہو کر پاسدارانِ انقلاب کی اس فوجی تنصیب اور مواصلاتی ٹاور کو تباہ کر دیا ہے جہاں سے ڈرون حملوں کی نگرانی کی جا رہی تھی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی اور بحری ٹکراؤ کے بعد آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس میں تجارتی جہاز رانی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے اور خطے میں بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔