ریاستی ہیئتیں معدوم ہو سکتی ہیں مگر انسانی تضادات فنا نہیں ہوتے۔ اقتدار کے جغرافیے تبدیل ہو سکتے ہیں مگر معاشی استحصال، طبقاتی جبر، سماجی ناہمواری اور انسان کی انسان پر بالادستی کی نفسیات یکسر نابود نہیں ہوتیں۔ اگر آج بھی کرئہ ارض کے کسی گوشے میں ایک مزدور اپنی پوری عمر محنتِ شاقہ کے باوجود ابتدائی انسانی وقار سے محروم ہے، اگر جنگ کے ملبوں تلے معصوم اجسام دب رہے ہیں، اگر کروڑوں انسان غذائی عدم تحفظ، نسلی تعصب، افراطِ زر، قرضی غلامی اور معاشی بے یقینی کے شکنجہ استبداد میں گرفتار ہیں، تو پھر یہ دعویٰ کہ تاریخ اپنے بنیادی تنازعات سے عہدہ برآ ہو چکی ہے، دراصل ایک فکری خودفریبی کے سوا کچھ نہیں۔
اکیسویں صدی بلاشبہ حیرت انگیز تکنیکی انکشافات اور سائنسی انقلابات کی صدی ہے۔ مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل سرمایہ کاری اور کارپوریٹ ٹیکنالوجی نے انسانی تمدن کو غیرمعمولی سرعت اور حیران کن جہتوں سے آشنا کیا ہے۔ دنیا کے عظیم شہروں میں فلک شگاف عمارتیں سرمایہ دارانہ ترقی کی علامت بن کر ایستادہ ہیں، مگر انہی سنگی میناروں کے سائے میں کروڑوں انسان معاشی بے یقینی، نفسیاتی اضطراب اور سماجی محرومی کے تاریک غاروں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ غزہ کے منہدم شفاخانے، افریقہ کے قحط زدہ خطے، ایشیا کی عرق ریز فیکٹریاں اور لاطینی امریکا کی قرضی معیشتیں اس امر کی ناقابلِ تردید شہادت فراہم کرتی ہیں کہ جدید دنیا نے استحصال کی ہیئتیں ضرور بدل دی ہیں مگر اس کی ماہیت ابھی تک برقرار ہے۔
یہ تصور بھی ازسرِ نو تنقیح و تجزیے کا متقاضی ہے کہ آیا دنیا نے واقعی اشتراکیت کو نظریاتی سطح پر مسترد کیا ہے یا محض بعض تاریخی تجربات کے جمود، انحراف اور سیاسی ناکامیوں سے بیزاری اختیار کی ہے۔ تاریخ کو اگر صرف انتخابی نتائج، ریاستی انہدام یا ذرائع ابلاغ کے سرمایہ دارانہ بیانیوں کی عینک سے دیکھا جائے تو حقیقت کے بے شمار پہلو نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ سرد جنگ کے اختتام کے بعد عالمی سرمایہ داری نے جس انداز سے اپنے معاشی، عسکری اور ابلاغی تسلط کو وسعت بخشی، اس نے دنیا کے کئی خطوں میں سیاسی توازن کو یکسر تبدیل کر دیا۔ لاطینی امریکا، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں متعدد ایسی حکومتیں معرضِ وجود میں آئیں جنھیں عوامی تائید و حمایت حاصل تھی، مگر وہ معاشی پابندیوں، خفیہ مداخلتوں، فوجی بغاوتوں اور سفارتی دباو¿ کے مرکب حربوں کے ذریعے تدریجاً کمزور کر دی گئیں۔
اس حقیقت سے بھی صرفِ نظر ممکن نہیں کہ اشتراکی تجربات کی ناکامیوں میں خارجی سازشوں کے ساتھ داخلی انجماد بھی دخیل تھا۔ متعدد ریاستی ڈھانچے رفتہ رفتہ بیوروکریٹک تحکم، طاقت کے ارتکاز، سیاسی جمود اور فکری عدمِ رواداری کا شکار ہو گئے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں نظریہ اور اقتدار ایک دوسرے سے بیگانہ ہونے لگے۔ مساوات، اجتماعی فلاح اور معاشرتی عدل کے خواب کے ساتھ ابھرنے والا فلسفہ بعض مقامات پر ریاستی سخت گیری، فکری تصلب اور غیرلچکدار نظمِ اقتدار میں تبدیل ہو گیا۔ تاہم اس تاریخی انحراف کو خود عدلِ اجتماعی، مساواتِ انسانی اور استحصالی نظام کے خلاف مزاحمت کے کلی تصور کی نفی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کیرالہ اس فکری مباحثے میں ایک نہایت اہم اور بصیرت افروز مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہاں کی بائیں بازو کی سیاست نے محض اقتدار کے حصول کو اپنا مطمح نظر نہیں بنایا بلکہ تعلیم، صحت، شرحِ خواندگی، سماجی بہبود اور انسانی ترقی کے میدانوں میں ایسے عملی نمونے پیش کیے جنھیں عالمی سطح پر تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اگر آج وہاں سیاسی مدّوجزر اور انتخابی اتار چڑھاو¿ موجود ہے تو یہ جمہوری عمل کی فطری حرکیات کا حصہ ہے۔ اقتدار کا زوال کسی نظریے کی موت کا اعلان نہیں ہوتا، ورنہ سرمایہ دارانہ حکومتوں کی مسلسل ناکامیوں، مالیاتی بحرانوں، جنگی حکمتِ عملیوں اور بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریوں کے بعد سرمایہ داری کو بھی تاریخ کے مقتل میں دفن ہو جانا چاہیے تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید دنیا میں استحصال کی صورتیں پہلے سے کہیں زیادہ دقیق، پوشیدہ اور پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ ماضی میں سامراج توپوں، بحری بیڑوں اور عسکری قبضوں کے ذریعے اپنی قوت مسلط کرتا تھا، آج وہ عالمی مالیاتی اداروں، قرضی معاہدوں، کارپوریٹ اجارہ داری، ڈیجیٹل نگرانی اور ذرائع ابلاغ کے نفسیاتی بیانیوں کے وسیلے سے اقوام کی اجتماعی زندگیوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ پہلے نوآبادیات جغرافیوں پر قائم کی جاتی تھیں، اب معیشتوں، پالیسیوں اور فکری نظاموں پر مسلط کی جاتی ہیں۔ پہلے مزدور فیکٹری کے دروازے پر استحصال کا شکار ہوتا تھا، آج ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، غیرمستقل ملازمتوں اور مصنوعی ذہانت کے عہد میں بھی انسانی محنت سرمایہ کے جبر سے آزاد نہیں ہو سکی۔
اسی باعث نئی نسل کے اندر ایک بار پھر مساوات، سماجی انصاف، ماحولیاتی تحفظ اور انسانی وقار کے سوالات شدّت کے ساتھ ابھر رہے ہیں۔ دنیا کی جامعات، مزدور تحریکوں، ماحولیاتی جدوجہدوں، نسلی مساوات کی تحریکوں اور خواتین کے حقوق کی عالمی مہمات میں سرمایہ دارانہ نظام کے اخلاقی بحران پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ممکن ہے اصطلاحات تبدیل ہو گئی ہوں، ممکن ہے سرخ پرچم کی جگہ نئے استعاروں نے لے لی ہو، مگر بنیادی سوالات آج بھی اپنی پوری معنویت کے ساتھ موجود ہیں: دولت چند ہاتھوں میں کیوں مرتکز ہے؟ جنگوں کے ثمرات کس طبقے کو حاصل ہوتے ہیں؟ بھوک کے باوجود خوراک کیوں تلف کی جاتی ہے؟ اور انسانی محنت کے حقیقی ثمرات آخر کس کے حصے میں آتے ہیں؟
تاریخ کبھی خطِ مستقیم میں سفر نہیں کرتی۔ کبھی انقلابات جنم لیتے ہیں، کبھی جابر قوتیں انھیں روند ڈالتی ہیں، کبھی خواب حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں اور کبھی حقیقتیں دوبارہ خواب بن جاتی ہیں۔ مگر انسانی ضمیر کے باطن میں عدل و انصاف کی آرزو ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔آج اگر دنیا میں کوئی عظیم اشتراکی سپر پاور موجود نہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ استحصال کا عہد اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ جب تک ظلم، معاشی ناہمواری، جنگی سیاست، بھوک اور انسانی تذلیل موجود ہے، تب تک ان کے خلاف اٹھنے والی آوازیں بھی زندہ رہیں گی۔ اصل سوال کسی مخصوص نظریے کے عنوان کا نہیں بلکہ انسان کی عزت، روٹی، آزادی، عدل اور مساوات کا ہے۔ اگر جدید دنیا واقعی انسانی ارتقا کی آخری منزل ہے تو پھر ہمیں دیانت داری کے ساتھ یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ آج بھی کروڑوں انسان خوف، محرومی اور جبر کے حصار میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور جب تک یہ حصار قائم ہے، تاریخ کا مقدمہ ابھی اپنے اختتامی فیصلے تک نہیں پہنچا۔