Wed, September 16, 2026

ملیر جیل سے 216 قیدی فرار، فائرنگ اور تصادم میں کئی زخمی، آپریشن جاری

ملیر جیل سے 216 قیدی فرار، فائرنگ اور تصادم میں کئی زخمی، آپریشن جاری

کراچی: کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ملیر جیل میں بڑا واقعہ پیش آیا جہاں 216 قیدی جیل کی دیواریں توڑ کر فرار ہو گئے۔ زلزلے کے باعث قیدیوں کو بیرکس سے نکالا گیا تھا، جس کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی۔

فرار کے دوران کچھ قیدیوں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فائرنگ شروع کر دی، جس میں ایک قیدی مارا گیا اور پانچ زخمی ہو گئے۔ فائرنگ اور بھگدڑ میں تین ایف سی اور دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

پولیس، رینجرز اور ایف سی نے فوری طور پر جیل کا گھیراؤ کر کے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ اب تک 80 سے زائد قیدی دوبارہ گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقیوں کی تلاش جاری ہے۔ 9 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

وزیر جیل سندھ علی حسن زرداری نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اور ڈی آئی جی جیل سے رپورٹ طلب کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ "فرار قیدیوں کو ہر حال میں پکڑا جائے گا اور جس نے بھی غفلت کی ہے، اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔"

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بھی جیل کا دورہ کیا اور پولیس و رینجرز کو تیز اور مؤثر کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "زلزلے کی وجہ سے قیدیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا، جس کا فائدہ اٹھایا گیا۔" ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد شمریز اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موقع پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

شہر بھر میں پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، ناکے لگا دیے گئے ہیں اور ہر آنے جانے والے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

ٹیگز: