اپریل کی ایک نیم گرم شام، اسلام آباد کے پوش ریسٹورنٹ کے لان میں شاہ صاحب نے کہا تھا ’’جنرل سید عاصم منیر پاکستان کے لیے عزت و وقار میں اضافے کا سبب بنیں گے‘‘ میں ان کی پیشین گوئی سے متفق نہیں تھا، پھر بھی چپ رہا مگر دل ہی دل میں سوچتا رہا کہ اس وقت ملک کی مقبول مگر زیر عتاب سیاسی جماعت جنرل عاصم منیر کے خلاف کھل کر بول رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر تنقید اپنی اخلاقی حدیں عبور کر چکی ہے، ان کے کھلے عام کارٹونز بنائے جا رہے ہیں تو کون سی طاقت مخالفین کے دلوں کو لمحوں میں پھیر سکتی ہے؟ میرے دماغ میں غوطے کھاتی بات زبان پر آ ہی گئی۔ ’’شاہ جی تو کیا جنرل صاحب کو اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے کوئی سکرپٹ درکار ہو گا‘‘؟۔
وہ میری کیفیت کو بھانپ گئے اور بولے ’’نہیں سچے اور وفادار سپاہی کو سکرپٹ کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں ہوتی، ان کے لیے سکرپٹ خود رب تعالیٰ لکھے گا‘‘۔ اور پھر دیکھا گیا کہ تین گھنٹے پینتیس منٹ کے دوران دنیا بھر میں پھیلے پاکستانیوں کے دلوں کو پھیر دیا گیا۔ بین الاقوامی ماہرین دفاعی امور پاکستان پر رب تعالیٰ کی عنایات و معجزات پر حیران رہ گئے۔ ایک فیصلہ کن لمحہ پاکستان کو فاتح کر گیا اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر احمد کو یوں ہیرو بنا گیا کہ ناقدین بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے فکری محاذوں پر ڈٹے نظر آئے۔ یہ فتح اللہ تعالیٰ کی عطا ہے کہ وطن عزیز کی عسکری قیادت نے اپنے آقا سرکار محمد مصطفیؐ کے فرمان کے عین مطابق حملے میں پہل کی اور نہ ہی عورتوں و بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ رات کے اندھیرے میں وار کیا اور نہ پھل دار درختوں کو آگ لگائی۔ جنگی ہتھیاروں کو اس احتیاط سے استعمال کیا کہ کوئی نشانہ خطا نہ ہوا۔ پناہ مانگنے والوں کو جنگ بندی کی شکل میں پناہ بھی دے دی۔ 1968ء میں پیدا ہونے والا سپوت 2025ء میں فائیو سٹار جنرل کے عہدے پر ایک منتخب حکومت کی طرف سے یوں فائز کیا گیا کہ فیلڈ مارشل کہلایا۔ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر احمد صرف حافظ قرآن ہی نہیں ماسٹر آف فلاسفی بھی ہیں۔ 29 نومبر 2022 کو چیف آف آرمی سٹاف بننے سے پہلے بھی بطور سربراہ آئی ایس آئی ان کی خدمات قوم پر عیاں تھیں مگر دس مئی 2025 کو تو ازلی دشمن بھارت نے بھی اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے اپنی ناکامیوں کو تلاش کرنے کے لیے ’’کمیٹیاں‘‘ بنا ڈالیں اور اپنی بزدلانہ شکست کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے لگا۔ انڈین فوج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف انیل چوہان نے بھی اعتراف کر لیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ہونے والی حالیہ کشیدگی میں انڈین طیارے تباہ ہوئے، تاہم ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ یہ اہم نہیں کہ طیارے گرے، اہم ہے کہ یہ کیوں گرے۔
بھارت نے 22 اپریل 2025 کو اپنے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کا الزام اسلام آباد پر عائد کرتے ہوئے چھ اور سات مئی کی درمیانی شب ’آپریشن سندور‘ کے نام سے پاکستان کے مختلف مقامات پر حملے کیے تھے۔ پاکستان پہلگام حملے میں ملوث ہونے کے انڈین الزام کی تردید بھی کرتا رہا۔ یہ سب کچھ تو دنیا بھر کے ممالک کو یہ دکھانے کے لیے تھا کہ پاکستان کی حفاظت مضبوط ہاتھوں اور بلند حصاروں میں ہے۔ افغانستان سمیت دیگر کئی سانپ جو ہمیشہ وطن عزیز کی آستینوں میں رہے، انہیں بھی خبردار کر دیا گیا۔
شاہ صاحب کی پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی کہ جنرل سید عاصم منیر کی تصویر کے کتبے ان ہاتھوں میں بھی نظر آئے جو ہمیشہ ان کے خلاف نو مئی برپا کرنے میں شامل تھے اور ان زبانوں پر فیلڈ مارشل کے لیے نیک کلمات تھے جو زہر اگلنے میں بھارت نواز ہو چکے تھے۔
تین گھنٹے پینتیس منٹ کے دورانیے نے دنیا بھر کے بھارت نواز چہروں پر حیرانی کی کالک مل دی اور پاکستان کے اندر ہر سو پلے کارڈز پر فیلڈ مارشل کی تصویر نظر آئی۔