Wed, September 16, 2026

ن لیگ کو کیا یاد آگیا ؟

 ن لیگ کو کیا یاد آگیا ؟

وزیر اعظم شہباز شریف اچانک چودھری نثار کے گھر پہنچ گئے، پھر پتہ چلا کہ انہوں نے ن لیگ میں دوبارہ شمولیت کی دعوت دی ہے ، چودھری نثار نے جواب میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے مشورے بعد کوئی جواب دیں گے ، کسی کو نہیں معلوم چودھری نثار کے ساتھی کون ہیں ، لیکن ہر کوئی اس بات سے بھی لاعلم ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ وزیر اعظم کو خود چل کر جانا پڑگیا ۔یقیناً اس ملاقات کے لیے پہلے پارٹی کے سربراہ نواز شریف سے اجازت لی گئی ہوگی یا پھر شہباز شریف بڑے بھائی کے کہنے پر ہی چودھری نثار کے گھر گئے ہوں گے ۔ جہاں تک نواز شریف کا تعلق ہے وہ خود اور پوری ن لیگ طویل عرصے سے سیاست سے لاتعلق ہیں ، اور ان کی لا تعلقی بھی بیزاری کی حد تک ہے ، ایسے میں چودھری نثار واپس آ بھی گئے تو کون سا تیر مار لیں گے ، چودھری نثار کوئی عوامی رہنما نہیں ، ان کی واحد خصوصیت اسٹلیشمنٹ کے ساتھ خصوصی تعلقات ہونا تھی۔ وقت نے ثابت کردیا کہ اب وہ حالات بھی نہیں رہے ، ایسا نہیں کہ وہ شیخ رشید کے مقام پر آگئے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ خود شہباز شریف کی موجودگی میں اس حوالے سے وہ اپنے طور پر کوئی مؤثر کرداد ادا کرسکیں ، نواز شریف نے بھائی کو وزیر اعظم اور بیٹی کو وزیر اعلیٰ بنوا کر جو سمجھوتہ کیا ہے اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو مزید خوش کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ، اگر کوئی غلط فہمی یا ناراضی چل رہی ہے تو اس معاملے میں جو کچھ شہباز شریف کرسکتے ہیں ، چودھری نثار اس کا ہزاروں حصہ بھی نہیں کرسکتے ، ن لیگ نے جب چودھری نثار کو پارٹی سے باہر نکالا تو اس کے پیچھے کوئی ایک آدھ واقعہ نہیں بلکہ پوری داستان موجود تھی ۔ جوابا ًچودھری نثار نے بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی ، یہ تو ان کہ پہاڑ جیسی انا اور بعد میں صورتحال کی تبدیلی تھی جو آڑے آگئی ورنہ وہ کب کے تحریک انصاف کو پیارے ہو چکے ہوتے ۔ جہاں تک پارٹی تنظیم اور عوامی رابطوں کا تعلق ہے تو شہباز شریف اس حوالے سے پہلے ہی مکمل طور پر گریز کرتے ہیں اور اس عمل پر نادم بھی نہیں ہوتے، اب یہی شکایت وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بارے میں بھی ہے ، صرف پارٹی کارکنان ہی نہیں اراکان اسمبلی بلکہ وزرا تک گلے شکوے کرتے پائے جارہے ہیں ۔ پنجاب میں جن لوگوں کو معمول کے کاموں کے لیے بیورو کریسی سے رابطہ کرنا پڑتا ہے وہ زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں کہ حکومتی مشینری کس طرح سے عوام کی زندگی اجیرن بنا رہی ہے ، کسی حد تک ڈرامے بازی کا تاثر بھی ہے لیکن بظاہر وزرا اختیارات نہ ہونے کا رونا روتے ہیں ،مختلف محکموں کے سیکرٹری صاحبان وزرا سے لے کر سائلین تک کے ساتھ چکر بازیاں کررہے ہیں ، کرپشن کی شکایات عام ہوچکی ہیں ، دوسری جانب پنجاب حکومت میں شامل غیر سیاسی کردار خوشامد پر مبنی اپنے بچگانہ مشوروں کے ذریعے نہ صرف حکمران شخصیات کی سبکی کرارہے ہیں بلکہ ان کی عوامی مقبولیت کو بھی گرہن لگانے کے درپے ہیں ۔ دل کے امراض کے انسٹیٹویٹ کے حوالے سے نام کی تبدیلی کے فیصلے کو ( جس کا اعلان پنجاب اسمبلی میں خطاب کے دوران خود وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کیا تھا) شدید عوامی ردعمل کے بعد  تردید کرکے واپس لینا پڑا یقیناً یہ غیر ذمہ دارانہ طرز حکومت کی علامت ہے۔ ہر جگہ اپنی اور اپنے خاندان کی تصویریں لگانا ناپسندیدہ حرکت ہے ، حکومت کو یہ لکھا پڑھا، ثابت شدہ سبق بھی کوئی یاد نہیں کرا رہا کہ ایک حد سے زیادہ تشہیر الٹا منفی تاثر پھیلانے کا سبب بن جاتی ہے ۔ مرکز میں وزیر اعظم شہباز شریف ہائبرڈ پلس سسٹم کے باعث پہلے ہی ایک رسمی کردار تک محدود ہوتے جارہے ہیں ، ایسے میں پارٹی کو زندہ کرنا ہی مقصود ہے تو ان لوگوں کو آگے لایا جاسکتا ہے جو عوام سے رابطے رکھتے ہوں ۔ چودھری نثار کو واپس لینے سے پہلے شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسمعیل سے رابطہ کرلیا جاتا تو بات سمجھ میں آسکتی تھی ، شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کی نااہلی کے بعد سخت دباؤ والے ماحول میں بطور وزیر اعظم بے حد متحرک انداز میں کام کیا ، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کیلئے شہباز شریف حکومت میں مفتاح نے بطور وزیر خزانہ ہر طرح کے طعنے اپنے سر مول لیے ، اسی لیے شہباز شریف بعد میں بھی ان کی تعریف کرتے رہے ۔ان دونوں کا پارٹی قیادت کے خلاف مؤقف بھی چودھری نثار جیسا نہیں رہا ، یہ بات بھی درست ہے کہ سیاسی جماعتوں خصوصاً جنہوں نے اپنے ادوار حکومت میں اچھی کارکردگی دکھائی ہو کے پاس اپنی مقبولیت بحال کرنے کے مواقع ختم نہیں ہوتے ، شرط صرف یہ ہے کہ وہ اس ٹارگٹ کو پانے کے لیے معقولیت پر مبنی عملی اقدامات والا راستہ اختیار کیا جائے ۔ اگر ایسا نہیں کرنا تو پارٹی میں چاہے جس کو مرضی لے آئیں کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔
اب کچھ ذکر بین الاقومی حالات کا ، امریکی حملے میں ایران کی جوہری تنصیبات کی مکمل تباہی کے حوالے سے اب تک متضاد اطلاعات آرہی ہیں ، ٹرمپ اپنی عادت کے مطابق ایک ہی سانس میں کہہ دیتے ہیں کہ ایران سے مذاکرات کریں گے، ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ بات چیت کی کوئی ضرورت نہیں ، ایران نے یورنیم افزودہ کرنے کی کوشش کی تو بمباری کردیں گے ، ادھر ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے اس بات کی ضمانت دی جائے کہ اس دوران امریکہ حملہ نہیں کرے گا۔ ایران کا مطالبہ سو فیصد درست ، سفارتی آداب اور بین الاقومی قوانین کے عین مطابق ہے لیکن یہ آج کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ ٹرمپ کی گارنٹی کوئی بھی نہیں دے سکتا ۔دعا کی جانی چاہیے کہ امن قائم ہو جائے ، دوسری جانب اگرچہ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں ساٹھ روزہ جنگ بندی پر رضامند ہوگیا ہے لیکن یہ بات نوٹ کی جانی چاہیے کہ ایران سے جنگ کے دوران بھی فلسطینیوں کی نسل کشی کا گھناؤنا فعل اسی شدت سے جاری رہا اور آج بھی جاری ہے ، دوسری تشویشناک اطلاع یہ ہے کہ اسلحے سے لدے 13 امریکی اور جرمن کارگو جہاز تل ابیب پہنچے ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے آگے کیا ہوگا  ؟

ٹیگز: