رات ایک بجے مظہر کی میت کے مختلف ٹکڑوں کی تدفین تھی۔ لاہور سے سر بریدہ لاشوں اور گوشت کے ٹکڑوں سے بھرے دو تابوت موصول ہوئے، ایک تابوت میں مظہر کی میت کے مسخ شدہ ٹکڑے تھے اور دوسرے تابوت میں عباس ولد ہاشم سنپال کی سر بریدہ لاش تھی۔ کبیروالا کے نواحی موضع جہان پور میں درگاہ حضرت علی اصحاب کی نو گزی قبر کے قریب، بارہ میل مخدوم پور روڈ پر اندھیری رات کے ہولناک سناٹے میں معصوم بیٹیوں کی چیخیں ہمارے ظالمانہ نظام کو بے نقاب کر رہی تھیں۔ وہاں میں بھی بت بنا کھڑا تھا۔ مظہر اور اس کے تین ساتھی عام سی مزدوری کرنے لاہور گئے ہوئے تھے کہ ڈمپر نے انہیں یوں کچل دیا کہ دو ساتھی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئے اور دو شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہیں۔ ڈمپر موقع سے بھاگ گیا اس لیے لاشوں کے کئی ٹکڑے خونی ٹائروں سے اتارے ہی نہیں جا سکے۔ مظہر کا میرے پاس آنا جانا تھا اور وہ رمضان خورشید کے ساتھ اکثر ملتان آتا یا پھر مخدوم پور انٹر چینج پر ملاقات ہو جاتی۔ مجھے اس کی سادہ شخصیت کا بے ساختہ پن بہت پسند تھا۔ اسی اپنائیت میں کبھی یہ بھی نہیں پوچھ سکا کہ اس کا نام مظہر حسین ہے یا محمد مظہر؟
مظہر غریب ترین آدمی تھا مگر اس کی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنی دونوں بیٹیوں اور ایک بیٹے کو پڑھا رہا تھا۔ سات سالہ بچی تو اس کے ساتھ اس قدر جڑی ہوئی تھی کہ وہ اپنے بابا کے ساتھ ملتان تک چلی آتی۔ میں نے سنا ہے کہ باپ کی میت کا
انتظار کرتے ہوئے وہ کسی معجزے کی منتظر تھیں یا شائد وہ باپ کی موت کو تسلیم ہی نہیں کر پائی تھیں اس لیے الہامی صبر ان پر طاری تھا یا وہ سکتے میں جا چکی تھیں مگر جب ٹکڑوں بھرے تابوت میں انہیں ان کا بابا نہیں ملا تو پھر ایک ناقابل بیان دکھ کی حالت میں چلی گئیں جہاں کوئی وعدہ، دلاسہ یا کوئی لوری ان کی آنکھوں سے حیرت کا نیلا رنگ کم نہیں کر سکی۔ ہفتہ بھر گزر جانے کے بعد بھی یتیم ہو چکی بیٹیاں ہمارے سفاک نظام سے جواب مانگ رہی ہیں۔ کچھ رشتہ دار انہیں بچیوں کی نفسیاتی الجھن سمجھ کر ڈاکٹر کے پاس لے جا رہے ہیں اور کچھ پیروں فقیروں سے دم کرا رہے ہیں مگر وہ گم سُم پتھر بنی ہوئی ہیں۔
سڑک پر سجے مقتل اور ایسے حادثات وہ اندھے قتل ہیں جن کا شکار ہونے والے رضا الٰہی اور تقدیر کے دلاسے کی چادر اوڑھ کر چپ کا روزہ رکھ لیتے ہیں۔ ہر مقتول کے ورثا لاش کو دفنا کر نئے حادثے کے انتظار میں جوان بیٹے پالتے ہیں اور پھر وہ اس نااہل نظام کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ کاش میرے پاس کوئی دلاسہ ہوتا کہ میں آٹھ سالہ بچی ایمن کے سامنے تھانہ اسلام پورہ لاہور کے مقدمہ نمبر 198/2026 کی نقل رکھ کر اسے سمجھاتا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ابو حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔ اس معصوم کو بتاتا کہ تفتیشی نے ضمنی نمبر ایک میں لکھا ہے کہ قاتل ڈرائیور کا پتہ نہیں چل سکا کیونکہ بارش نے شہر کو اندھیروں میں دھکیل دیا تھا۔ اگر وہ بچی سوال کر دیتی کہ شہر بھر میں لگے کلوز سرکٹ کیمرے گاڑی کا نمبر اور روٹ تلاش نہیں کر سکتے تو میں انہیں بتاتا کہ آپ کا ابو آپ کے لیے عمر بھر کا سہارا تھا ریاست کے لیے تو بس ایک لاش ہی تھا۔ ایسی لاوارث لاش کہ اگر وہ وصول نہ کی جاتی تو سرد خانے میں پڑی رہتی اور تم اپنے باپ کے ساتھ اپنے خوابوں کی تعبیروں کا انتظار کرتی رہتی۔ آٹھ سالہ ایمن کو میں کیسے سمجھاتا کہ روزی میں نکلا ہوا آپ کا باپ سرمایہ داروں کی نگاہ میں بس ایک مزدور تھا، جو تھا تو دیہاڑی ملتی تھی اب وہ نہیں ہے تو کچھ نہیں ملنے والا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز متحرک سربراہ صوبہ ہیں۔ کاش وہ ایک منٹ تھانہ اسلام پورہ لاہور میں درج مقدمہ نمبر 198/2026 کو دے دیں تو سکتے میں آ چکی بیٹیوں کے باپ کا قاتل آسانی سے مل سکتا ہے، وہ قاتل جس نے چار جوانوں کو حشرات سے بھی کم تر جان کر روند کر کچل ڈالا اور ایک لمحے کے لیے رکا ہی نہیں۔ میرے پاس دنیا بھر کے فلسفے اور علوم کی کوکھ سے جنم لیتے سوالوں کے جواب تو ہو سکتے ہیں مگر میں ایمن کی آنکھوں میں اترے سوالوں سے ڈر جاتا ہوں۔ کاش اسلام پورہ پولیس سٹیشن کا ایس ایچ او وہ ایف آئی آر داخل دفتر کرنے سے پہلے ان یتیم بچیوں کا دکھ سمجھ سکتا کہ وہ تو پندرہ دن کی مزدوری کے عوض ملنے والی اجرت کا انتظار کر رہی تھیں کہ ان بچیوں کے خواب بس اتنے سے تھے جن کا بوجھ اس قدر بھاری تو نہیں تھا کہ انہیں کچل کر مار دیا جاتا۔