Wed, September 16, 2026

100 نشستوں کا مینڈیٹ جعلی؟ مودی سرکار کا اخلاقی جواز زیرِ سوال

100 نشستوں کا مینڈیٹ جعلی؟ مودی سرکار کا اخلاقی جواز زیرِ سوال

نئی دہلی: بھارتی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے عام انتخابات کے نتائج کو مشکوک قرار دیتے ہوئے مودی سرکار پر انتخابات میں منظم دھاندلی کا الزام عائد کیا۔

راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے عوام کے حقِ رائے دہی پر ڈاکہ ڈال کر جمہوری اقدار کو پامال کیا ہے۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ "جلد ہم وہ حقائق منظرِ عام پر لائیں گے جن سے پورے ملک کو پتا چلے گا کہ اقتدار کس طرح چُرایا گیا۔"

اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ جو کچھ ہم پیش کرنے جا رہے ہیں، وہ ملک کی سیاسی فضا کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گا۔ "یہ انکشافات بم کی مانند ہوں گے، جن کے بعد کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ بھارت کا انتخابی نظام آزاد اور شفاف ہے،" راہول نے دعویٰ کیا۔


راہول گاندھی نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ پارٹی نے صرف ووٹ نہیں چرائے بلکہ قوم کے ساتھ دھوکہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نتائج میں چالاکی نہ کی جاتی تو نریندر مودی آج اس عہدے پر نہ ہوتے۔

انہوں نے کہا، "جمہوریت کے نام پر مذاق کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا نظام کھڑا کیا گیا ہے جس میں سچائی اور شفافیت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔"


راہول گاندھی کے ان بیانات کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس اپنے دعووں کے حق میں ناقابل تردید ثبوت سامنے لاتی ہے، تو یہ نہ صرف انتخابی کمیشن کی ساکھ کو متاثر کرے گا بلکہ مودی حکومت کو بھی شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بی جے پی کی جانب سے فوری طور پر کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم پارٹی کے قریبی ذرائع نے راہول کے بیانات کو "سیاسی ڈرامہ" اور "ہار کا بہانہ" قرار دیا ہے۔

ٹیگز: