Wed, September 16, 2026

مجرموں سے ہمدردی کیوں؟

مجرموں سے ہمدردی کیوں؟

پاکستان کی تاریخ میں نو مئی اور26نومبرکو ایک سیاسی جماعت کی جانب سے برپا کی جانے والی دہشت گردی، ہلڑ بازی اور تخریب کاری کو ہمیشہ ایک سیاہ باب کے طور پر یا د رکھا جائے گا۔ اس سارے عمل میں دو پہلو بہت دلچسپ اور اہم ہیں۔ ایک ہے مذکورہ سیاسی جماعت کی قیادت اور اس کے کارکنوں کے تبدیل ہوتے ہوئے رنگ و روپ اور دوسرا ہے ہمارے میڈیا (بالخصوص الیکڑانک میڈیا) کا کردار۔ 
پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے ریاست اور بالخصوص اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اختلافات یا لڑائی کوئی نئی بات نہیں ۔ہم نے سالہا سال سے اسی قسم کا ماحول دیکھا ہے۔ اس دوران فوجی حکومتیں بھی قائم رہیں، منتخب وزیر اعظموں کو پھانسی پر بھی چڑھایا گیا، ان کی حکومتوں کو راتوں رات چلتا بھی کیا گیا اور انہیں جبری جلاوطن بھی کیا گیا۔ لیکن کبھی کسی نے اتنی جرات نہیں کی کہ کینٹ کے علاقہ میں داخل ہو کر فوجی تنصیبات، عسکری اداروں کے دفاتر اور شہدا کی یادگاروں کو نقصان پہنچائے۔ لیکن نو مئی کو نہ صرف یہ ریڈ لائین عبور کی گئی بلکہ اس موقع پر فخریہ انداز میں اپنی ویڈیوز بنا بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ بھی کی گئیں ۔ اس کے بعد 26نومبر کو بھی ہم نے اسی رویہ کا تسلسل دیکھا جب ایک صوبائی حکومت اپنے تمام تر سرکاری وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے وفاق پر حملہ آور ہوئی۔ 
یہ سب کچھ انتہائی قابل مذمت تھا لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک صورتحال اس وقت بن گئی ہے جب ان شرپسندوں (چاہے ان میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ، اراکین سینٹ یا قومی سطح کے سیاستدان شامل ہوں)کو عدلیہ کی جانب سے سزائیں سنائے جانے کے عمل کو مشکوک بنانے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ سیاستدانون کی جانب سے سچ کو جھوٹ بنانے کی کوششیں کرنا اور اپنی ہی کی ہوئی بات سے یکسر بدل جانا تو خیر ایک روٹین کی بات ہے لیکن اس موقع پر ہمارے مین سٹریم میڈیا کا کردار بھی عجیب ہے۔ 
وہی میڈیا جو ہمیں نو مئی کی ہلڑ بازی اور 26 نومبر کی ریاست دشمنی بہت زور و شور سے دکھاتا تھا آج جب عدالتوں کی جانب سے ا سی کے ذمہ داروں کو سزائیں سنائی جا رہی ہیں تو اسے ان سے ہمدردی ہونے لگی ہے۔ یہ اپنی ہی دکھائی گئی خبروں اور تجزیوں کو بھول کر موجودہ صورتحال کو مشکوک بنانے پر کمر بستہ نظر آتا ہے۔ اب ایسا کر کے وہ کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے یا کس کے مفاد کا تحفظ کر رہا ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔  
موجودہ صورتحال میںکبھی کبھی دل اداس ہو جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے سچ، جھوٹ کے نیچے دب رہا ہو، جیسے جرم سیاست کی چادر اوڑھ کر معصوم بن رہا ہو اور جیسے انصاف میڈیا کے شور میں دبک رہا ہو اور سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب وہ لوگ، جو پڑھے لکھے ہیں، باشعور ہیں، جو حق اور باطل کا فرق جانتے ہیں، وہ بھی مجرموں کیلئے نرم لہجے، دلیلیں اور ہمدردی کے لفظ ڈھونڈنے لگتے ہیں۔
ایک دلیل بہت عام ہے کہ یہ تو صرف سیاست کی لڑائی تھی، نوجوانوں کو ورغلایا گیا، اُن سے غلطی ہو گئی انہیں معاف کر دینا چاہیے۔ بہت خوب، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی صورتحال کسی اور مذہبی یا لسانی گروہ نے پیدا ہوتی تو کیااسی قسم کے جذبات ان کے لیے بھی ہوتے؟ اس کا یقینی جواب نفی میں ہے۔ہم سب مل کر انہیں دہشتگرد کہتے اور انہیں ریاست دشمن گردانتے۔ جانے کیوں ہم اپنی پسند، اپنے نظریے، اپنے لیڈر کیلئے معیار تبدیل کر لیتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم جرم کو جرم کہیں چاہے وہ کسی سے بھی سرزدہوا ہو۔ اگر آج قومی مجرموں کے ساتھ رعائت برتی گئی تو کل یہ ایک مثال بنے گی اور آئندہ بھی اس قسم کی حرکات میں ملوث لوگوں کے ساتھ نرمی برتنی پڑے گی کیونکہ جب ایک جرم کو برداشت کر لیا جاتا ہے تو پھر وہ اسی قسم کے مزید جرائم کی بنیاد ڈال دیتاہے۔
موجودہ حالات میں یہ امر بھی انتہائی افسوسناک ہے کہ جب عدالت کوئی فیصلہ سناتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی تحقیق کے بعد اور ثبوتوں کے ساتھ ہو تب بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ جانبدار ہے، یہ تو دباؤ میں آ کر لکھا گیا ہے یایہ تو سیاسی ہے۔ کیا عدلیہ کو صرف اسی وقت اچھا کہا جائے گا جب یہ ہمارے حق میں فیصلے دے، ورنہ ہم سوشل میڈیا پر ججوں کی تصاویر لگا کرانہیں بدنام کریں گے؟
اگر کچھ دیر کیلئے اس دلیل کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ کچھ سیاسی کارکن جذبات میں آ گئے تھے اور لاعلمی میں بہک گئے تھے تو بھی یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ لاعلمی اتنی زیادہ تھی کہ وہ فوجی دفاتر کو آگ لگا دیں؟ کیا ساری دنیا اندھی اور بیوقوف ہے کہ وہ یہ اندازہ نہ لگا سکے کہ یہ سب اچانک نہیں ہوا؟حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک ترتیب، ایک تیاری، اور ایک منصوبے کے تحت ہوا۔ اب اُسی منصوبے کو ’ردعمل‘ کا نام دیا جا رہا ہے اور اُسی منصوبے کے کرداروں کوسیاسی قیدی کہا جا رہا ہے۔
کسی کا تعلق چاہے جس بھی سیاسی یا مذہبی جماعت سے ہو سب پر ایک بات اچھی طرح سے واضح ہونی چاہیے کہ یہ ملک کسی ایک لیڈر یا کسی ایک جماعت کا نہیں۔ یہ سب کا ہے اور اگر آج ہم نے جرم کو جرم نہ کہا، تو کل کو کوئی بھی کسی کو بھی معاف نہیں کرے گا۔ پھر کل کوئی بھی اُٹھے گا اور یہی سب کچھ دوبارہ کرے گا کیونکہ اُسے معلوم ہوگا کہ یہاں جرم پر ہمدردی ملتی ہے، انصاف پر تنقید ہوتی ہے، اور سچ بولنے والوں کو غدار کہا جاتا ہے۔
 یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اصل مجرم وہ نہیں جو ہلڑ بازی یا دہشت گردی کرتا ہے، بلکہ اصل مجرم وہ ہے جو اسے ایسا کرنے پر اکساتا ہے، اور پھرمعصوم بن کر کہتا ہے کہ ’مجھے کسی بات کا کچھ پتہ ہی نہیں‘۔ اصل مجرم وہ بھی ہے جو ریاستی اداروں پر حملے کو سیاسی احتجاج کہتا ہے۔ اور اصل مجرم وہ بھی ہے جو عدالت کے فیصلے کو جھوٹ کہہ کر اسی قسم کی وارداتوں میں ملوث مجرموں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ اگر ہم نے اداروں کو کمزور کر دیا، عدالتوں کو متنازع بنا دیا، فوج کو بدنام کر دیا، تو پھر باقی کچھ نہیں بچے گا؟ 
ہمیں اب بیدار ہونا ہو گا۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ اپنے عمل سے اپنی نئی نسل کو ہم کیا پیغام دے رہے ہیں؟ ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اُسے سزا ملنی چاہیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو۔ قانون سے بڑا کوئی نہیں، عدالت سے بالاتر کوئی نہیں اور ریاست سے طاقتور کوئی نہیں۔ یہی شعور، یہی اصول اور یہی انصاف ہمیں ایک مہذب قوم بنائے گا۔

ٹیگز: