Wed, September 16, 2026

اسرائیل کی حمایت مجرموں کی پشت پناہی ہے

 اسرائیل کی حمایت مجرموں کی پشت پناہی ہے

ہر گزرتے لمحے کے ساتھ چین اور روس کے تیور بدل رہے ہیں اور چین نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ دنیا امریکہ کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے ۔ یہ بیان اپنے اندر ایک نئے سامراج کی گونج سناتا دکھائی دے رہا ہے مگر اس بار سامراج بھی مہا سامراج ہو گا اور اُس کی شکل روس اور چین کے اتحاد کی صورت میں کچھ نمایاں ہو چکی ہے۔ اس جنگ میں امریکہ اگر اپنے وجود کے ساتھ اترتا ہے تو جنگ کی شکل تو خوفناک ہوجائے گی لیکن اس کے ساتھ امریکی سپر پاور کا وہ بھرم بھی ٹوٹ جائے گا جس کو ابھی تک کسی مضبوط مدمقابل اور یکطرفہ فتوحات کی وجہ سے قائم ہوا ہے ۔امریکہ دنیا کی پہلی یا آخری سپر پاور نہیں ہے کہ اس سے پہلے بھی زمین پر لا تعداد سپر پاورز برباد ہو چکی ہیں جنہیں زعم تھا کہ اُن کا سورج غروب نہیں ہوتا اور تقدیر کا فیصلہ دیکھیں کہ اب اُن کا سورج نکلتا ہی نہیں ۔ہر سپرپاور نے اپنی بربادی کے اسباب خود مرتب کیلئے ہیں اور آج ہم جب ماضی کی سپر پاورز کی زوال کے اسباب پڑھتے ہیں تو حیرت سے آنکھیں پھٹ جاتی ہیں کہ اتنی بڑی طاقت رکھنے کے باوجود اُن کے غیر عقلی فیصلے اُن کو لے ڈوبے ۔ شاید فطرت کو اپنے سوا کسی کی حاکمیت زمین پر قابل قبول نہیںسو یہ سائیکل بدلتا رہتا ہے۔ امریکہ بھی اُسی گرداب میں پھنستا نظر آ رہاہے ۔ بظاہر بیوقوف اور مسخرہ دکھائی دینے والا ٹرمپ اپنے سابق صدر سے زیادہ مکار اوربے رحم ہے۔ وہ محسنوں سے بدید ہوتے بھی ایک لمحہ نہیں لگاتاجس کی زندہ مثال ایلن مسک ہمارے سامنے موجود ہے ۔ خیر سے سب کچھ تو چلتا رہے گا لیکن آج اس حقیقت سے انکا ر ممکن نہیںرہا کہ دنیاایک ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے جو صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہے گی ۔ چین کا بڑھتا ہوا غصہ اور روس کی خاموشی ہمیں ایک خوفناک پیغام دے رہی ہے ۔ چینی صدر کا یہ کہنا کہ دنیا امریکہ کے بغیر بھی چل سکتی ہے دراصل دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ امریکہ جنگ سے باز نہ آیا تو وہ دنیا پر بھی نہیں رہے گا ۔اس بیان کی یہی تفسیر مجھے سمجھ آئی ہے جبکہ امریکی صدر نے ایک کروڑ سے زائد آبادی کے شہر تہران کے شہریوں کو دھمکی دی ہے کہ وہ تہرا ن خالی کردیں ۔ اب ایک لمحے کیلئے سوچیں کہ اُن پر کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کی جا رہی جیسی کرفیو میں ہوتی ہے بلکہ انہیں اپنا شہرٗ گلی ٗ محلہ ٗ کاروبار سب کچھ چھوڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے جس کا دوسرا مطلب انتہائی خوفناک ہے کہ اسرائیل ایران پر ایٹمی حملہ کرسکتا ہے ۔ اس بیان کو ٹرمپ کی حماقت بھی سمجھا جا سکتا ہے جیسے کچھ لوگ سمجھ رہے ہیں لیکن اگر وہ ایسا کردیتا ہے تو پھر دنیا کیا کرے گی کہ اس سے پہلے بھی امریکہ کی تاریخ جنگ کے حوالے سے بالخصوص 1945ء کے بعد بربریت اور خون ریزی کے سوا کچھ نہیں ۔ ماسکو کے چینی سفارت خانے نے ان ممالک کی فہرست شائع کی ہے، جن پر جنگِ عظیم دوم کے بعد امریکا نے بمباری کی:جاپان: 6 اور 9 اگست 1945ٗ کوریا اور چین: 1950–1953 (جنگِ کوریا) ٗگواتی مالا: 1954، 1960، ٗ 1967–1969 انڈونیشیا : 1958ٗکیوبا: 1959–1961ٗکانگو: 1964ٗلاؤس: 1964–1973ٗویتنام: 1961–1973ٗکمبوڈیا: 1969–1970ٗگریناڈا: 1983ٗلبنان: 1983، 1984 (لبنان اور شام میں اہداف پر حملے) ٗلیبیا: 1986، 2011، 2015ٗایل سلواڈور: 1980ٗنکاراگوا: 1980ٗایران: 1987ٗپاناما: 1989ٗعراق: 1991 (خلیجی جنگ) ٗ،0 1991–200 (امریکی و برطانوی حملے)، 2003–2015ٗکویت: 1991ٗصومالیہ: 1993، 2007–2008، 2011 ٗبوسنیا: 1994، 1995ٗسوڈان: 1998افغانستان ٗ: 1998، 2001–2015 ٗیوگوسلاویہ: 1999ٗیمن: 2002، 2009، 2011ٗپاکستان: 2007–2015ٗشام:   ئ2014–2015 ء ۔ یہ فہرست 20 سے زائد ممالک پر مشتمل ہے۔ چین نے زور دیا ہے کہ ''ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا کے لیے اصل خطرہ کون ہے۔''
پھر سوال اُٹھتا ہے:کیا کبھی مغربی معاشرے نے امریکا پر برہمی ظاہر کی؟کیا کبھی اس کے خلاف زوردار آوازیں بلند ہوئیں؟کیا کسی ایک بار بھی امریکا پر پابندیاں عائد ہوئیں؟یہ پورا دنیاوی نظام، جسے ہم ''بین الاقوامی برادری'' کہتے ہیں، خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے، جبکہ امریکا دنیا بھر کے ممالک پر ڈاکوؤں کی طرح حملہ آور ہو کر ان کے خوابوں کو بھی خوفناک کابوس میں بدل دیتا ہے۔نہ کوئی مذمت، نہ کوئی سرزنش، نہ کسی قسم کی ناراضی۔ ایک بزدل، بے شرم، اور منافق عالمی ضمیر۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فہرست کو ہر ممکن پلیٹ فارم پر بار بار نشر کیا جائے۔ ایسی ویڈیوز بنائی جائیں جو ان تمام مغربی منافقوں کو بے نقاب کریں اور امریکا کے ہاتھوں دنیا بھر میں ہونے والے جرائم کی ہر حقیقت یاد دلاتی رہیں۔چینی سفارتخانے کی جانب سے یہ فہرست سفارتِ چین برائے روس (ماسکو) نے ایک سیاسی اور اخلاقی پیغام کے طور پر اُس وقت جاری کی، جب عالمی میڈیا اور مغربی ممالک ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کی شدید مذمت کر رہے تھے، لیکن خود امریکا کے ماضی کو مکمل نظرانداز کیا جا رہا تھا۔یہ فہرست اس دوہرے معیار (double standards) کو بے نقاب کرنے کے لیے شائع کی گئی، جو امریکا اور مغرب انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور عالمی سلامتی کے معاملات میں اپناتے ہیں۔جب ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کیا تو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایران کو ''عالمی خطرہ'' قرار دینا شروع کر دیا۔ چینی سفارتخانے نے اس تنقیدی مہم کے جواب میں یہ فہرست جاری کی تاکہ یاد دلایا جا سکے کہ حقیقی خطرہ وہ ملک ہے جس نے جنگِ عظیم دوم کے بعد 30 سے زائد ممالک پر بمباری کی ہے۔چین کا موقف ہے کہ امریکا کسی بھی اخلاقی مقام سے بات کرنے کے اہل نہیں، کیونکہ خود اس کا ماضی اور حال انسانی حقوق کی پامالیوں اور عالمی جارحیت سے بھرا پڑا ہے۔چین نے اس فہرست کو جاری کر کے ایک وسیع تر پیغام دیا:
''دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ کون اصل خطرہ ہے۔ مغربی میڈیا اور حکومتیں منافقت سے کام لیتے ہیں، اور جب امریکا قتل عام کرتا ہے تو وہ خاموش رہتے ہیں۔'' یہ اقدام صرف سفارتی یا معلوماتی نہیں، بلکہ سیاسی جواب اور اخلاقی چارج شیٹ بھی ہے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جاری یک طرفہ بیانیے کے خلاف۔۔فیکٹس اینڈ فگرز فراہم کرنے پر میں کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان کے کنوینیر جناب نوید پوشکن کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔

ٹیگز: