اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سندھ ہائی کورٹ کے 25 ستمبر کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اور استدعا کی ہے کہ اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے درخواست گزار کو فریق بننے کی اجازت نہیں دی اور متاثرہ فریق کو سنے بغیر یکطرفہ فیصلہ سنانا قانون کے منافی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت کے قابل ہونے کے مسئلے کو بھی نظر انداز کیا۔
درخواست میں سندھ ایجوکیشن کمیشن، کراچی یونیورسٹی، پیمرا اور دیگر ادارے فریق بنائے گئے ہیں۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری کا موقف ہے کہ ان کی ڈگری کی منسوخی بدنیتی اور غیر قانونی طریقہ کار کا نتیجہ ہے اور اس کیس کی سماعت آئینی بینچ میں نہیں ہو سکتی۔