Wed, September 16, 2026

بھارتی اجارہ داریاں اور امریکی تضادات

 بھارتی اجارہ داریاں اور امریکی تضادات

عالم انسانیت نے ابتداء سے تعمیر و ترقی اور اور تسخیر کائنات کے روز افزوں تجربات و مشاہدات سے فائدہ اٹھایا ہے۔ کہیں تو یہ فائدہ اقوا م عالم کی فلاح و بہبو د، امن واستحکام، ترقی و خوشحالی کا ضامن بنا اور کہیں معاشرتی بگاڑ، عدم توازن، بدامنی اور عدم استحکام کی علامت بنا۔ ترقی یافتہ ممالک نے اپنی سیاسی، سماجی، دفاعی اور پیشہ ورانہ ترقی کے بل پر اقوام عالم کو نہ صرف زیر نگیں کیا بلکہ بین الاقوامی تشخص اور وقار میں بھی سر فہرست رہیں۔ اس کے برعکس ترقی پذیر ممالک میں سے چند ممالک نے اپنی ساخت اور شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی اور نتیجتاً کچھ اقوام نے اس میں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل کی۔ پاکستان کا شمار ان ہی اقوام میں ہوتا ہے۔ یہ مملکت خداداد ،جس نے روز اول سے محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن بلکہ خطے میں امن و استحکام اور انسانی ہمدردی کے تمام تر اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک طرف ملک کو دنیائے اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ثابت کیا اور دوسری جانب اپنی دفاعی صلاحیتوں کی بنا پر امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک میں اپنا لوہا بھی منوا لیا۔انسداد دہشت گردی اور دفاعی میدان میں ملکی سرحدوں کو دشمن حملوں سے محفوظ رکھا تاہم بین الاقوامی امن وامان کے قوانین کی پاسداری کی۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکہ سمیت جنوبی ایشیا میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہو چکاہے۔ 
دوسری جانب بھارت نے نہ صرف پاکستان کو بارہا عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی اور اس کے معاشی و سیاسی انفراسٹرکچر کو قدغن پہنچائی بلکہ اب امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو بھی معاشی چکما دینے کی بھرپور کوششوں میں مصروف عمل ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ دنیا کی سیاست اس وقت غیر معمولی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے۔ یوکرین جنگ کے اثرات جہاں یورپ اور امریکہ کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں، وہیں بھارت نے ان حالات کو اپنے معاشی اور سفارتی فائدے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا اور پالیسی حلقوں میں اب یہ آواز بلند ہونے لگی ہے کہ بھارت، جو بظاہر واشنگٹن کا ’’قریبی شراکت دار‘‘ ہے، دراصل امریکہ کے اندرونی مسائل اور عالمی پالیسی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے پاکستان اور خطے پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔امریکہ جو ایک منظم معاشی پالیسی کے تحت سفارت کاری کی بنیادپر بھارت پر اعتماد کئے ہوئے تھا، حالیہ بھارتی معاشی چال بازیوں کو سمجھ چکا ہے۔ امریکی ادارے یو ایس سی آئی ایس کے مطابق 74 فیصد H-1Bویزاہولڈرز بھارتی شہری ہیں۔اور یہ حقیقت امریکی ماہرین کے لئے تشویش کا باعث بن رہی ہے کہ بھارتی کمپنیاں جیسے ٹی سی ایس، انفسوس اور ویپرو امریکی ٹیک سیکٹر پر اجارہ داری قائم کرکے مقامی ورکرز کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔واشنگٹن میں بڑھتی ہوئی بے چینی نے 2025ء میں بھارتی درخواست دہندگان کی مسترد شرح کو 40 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔
تاہم پاکستانی قارئین کے لئے یہ ایک اہم نکتہ ہے کیونکہ امریکہ میں بھارتی اجارہ داری کمزور ہونے کا مطلب خطے میں ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کیلئے مواقع پیدا ہونا ہے۔ اگر پاکستان درست منصوبہ بندی کرے تو اپنی آئی ٹی انڈسٹری کو امریکی مارکیٹ میں داخل کرنے کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔یہاں بلاشبہ افرادی قوت کی کمی نہیں ہے تاہم محدود وسائل کو بروئے کار لا کر اب بھی آئی ٹی کو بین الاقوامی سطح پر فروغ دیا جا سکتا ہے۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی عدم توازن (45 ارب ڈالر خسارہ) نے واشنگٹن کے حلقوں میں یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا بھارت کو’’ترجیحی تجارتی شراکت دار‘‘ کا درجہ دینا امریکی معیشت کے حق میں ہے یا نہیں۔ بھارتی پالیسی کے نتیجے میں امریکی کسان اور چھوٹے کاروبار دباؤ میں ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی زرعی برآمدات کو امریکی منڈیوں میں متعارف کرائے۔ اگر امریکہ بھارت پر دباؤ بڑھاتا ہے تو پاکستانی مصنوعات کو ایک متبادل کے طور پر آگے لایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب بھارت روزانہ 1.9 ملین بیرل روسی خام تیل درآمد کر رہا ہے، جو براہِ راست امریکی پابندیوں کے خلاف ہے۔ واشنگٹن کو ارربوں ڈالر ان پابندیوں کے نفاذ پر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ بھارت رعایتی تیل سے اپنی معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔ یہ معاملہ پاکستان کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ اگر بھارت روس سے سستا تیل خرید کر اپنی معیشت کو مستحکم کرتا ہے تو خطے میں توانائی کی قیمتوں کے توازن پر بھی اثر پڑے گا۔ پاکستان کو اس حقیقت سے سبق لینا ہوگا کہ عالمی تعلقات میں معاشی مفادات ہمیشہ سفارتی نعروں پر غالب آتے ہیں۔ امریکی میڈیا میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ بھارتی آؤٹ سورسنگ کمپنیاں وال اسٹریٹ پر اثر انداز ہو رہی ہیں اور امریکی ٹیکنالوجی انڈسٹری بھارتی مزدوروں پر حد سے زیادہ انحصار کر رہی ہے۔ اس سے امریکہ میں نہ صرف بے روزگاری بڑھے گی بلکہ پالیسی سازی پر بھی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان اگر اپنی آئی ٹی صنعت میں شفافیت، معیار اور مسابقت پیدا کرے تو مستقبل میں امریکی منڈی میں بھارتی اجارہ داری کمزور ہونے کے بعد نمایاں جگہ بنا سکتا ہے۔
الغرض، امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی پاکستان کے لیے ایک ’’موقع‘‘ بھی ہے اور ایک ’’چیلنج‘‘ بھی۔ موقع اس لیے کہ واشنگٹن بھارتی اجارہ داری سے نکلنے کے لیے متبادل ڈھونڈے گا، جس میں پاکستان کو اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔ اور چیلنج اس لیے کہ بھارت اپنی سیاسی لابنگ اور دوغلی پالیسیوں سے امریکہ کو مزید وقت تک متاثر رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو اس بدلتی صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے لیے بروقت فیصلے کرنا ہوں گے۔ آئی ٹی، زرعی برآمدات اور توانائی کے شعبے میں متحرک حکمت عملی پاکستان کو نہ صرف معاشی فائدہ دے سکتی ہے بلکہ عالمی منظرنامے پر ایک زیادہ فعال کردار بھی فراہم کر سکتی ہے۔

ٹیگز: