Wed, September 16, 2026

وفاقی حکومت کے اقدامات اور ذمہ داریاں

وفاقی حکومت کے اقدامات اور ذمہ داریاں

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں غریب عوام کی بہتری کے لئے جہاں موجودہ وفاقی حکومت نے کئی عوام دوست اقدامات کئے ہیں وہیں مزید کی اشد ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2018 سے 2022 تک رہنے والی حکومت نے جانتے بوجھتے عوام پہ مہنگائی کا ناقابل برداشت بوجھ ڈالا۔ بقول اس وقت کی حکومت کے کچھ وزراء کے، ہم نے آنے والی حکومت کے لئے بارودی سرنگیں بچھائیں جس کا نتیجہ ناقابل کنٹرول بیروزگاری اور مہنگائی نکلا اور غریب عوام اس چکی میں آج تک پس رہی ہے۔ موجودہ حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ جہاں انہوں نے ملک کو ڈیفالٹ جیسے خطرے سے بچایا وہیں حتی المقدور کوشش کی کہ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کر کے ان کی زندگی کو آسان بنایا جائے۔ لیکن جتنی تباہی پی ٹی آئی حکومت کر گئی تھی اس پہ قابو پاتے بہت وقت لگے گا۔ یہاں یہ بات بھی لکھنا ضروری ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اب ایسے پائیدار منصوبے اور پالیسیاں وضع کرے جو نہ صرف عوام کو فوری ریلیف فراہم کریں بلکہ طویل مدت میں بھی ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنائیں۔ اس ضمن میں حکومت کی اب تک کی کارکردگی اور عوام دوست منصوبوں پہ سرسری نظر ڈالنا بھی مناسب ہو گا۔ 
موجودہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے مختلف منصوبے اور اسکیمیں متعارف کروائی ہیں جن کا مقصد غربت میں کمی اور عوام کی زندگی کو آسان بنانا ہے۔ احساس پروگرام کے تحت غریب اور کمزور طبقے کو مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ پروگرام بیواؤں، یتیموں اور معذور افراد کو بھی امداد فراہم کرتا ہے۔
مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لئے حکومت نے سستا آٹا اور راشن سکیم متعارف کرائی جس کے ذریعے غریب طبقے کو ضروری اشیائے خوردونوش کم قیمت پر فراہم کر کے دو وقت کی روٹی سے محرومی جیسی مشکل پہ کسی حد تک قابو پایا گیا۔ غربت میں پستی عوام کے لئے صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لئے صحت کارڈ اسکیم متعارف کروائی گئی تاکہ اس کے ذریعے ملک کا کمزور طبقہ مفت علاج کی سہولت 
حاصل کر سکے۔ اسی طرح حال ہی میں وفاقی حکومت نے عوام کو بجلی کے بلوں میں فی یونٹ خاطر خواہ کمی کر کے ماہانہ بلوں میں بڑا ریلیف دیا ہے۔ 
لیکن کیا یہ اقدامات کافی ہیں۔ جواب نفی میں ہے۔ نہیں ابھی منزل بہت دور ہے۔ ابھی حکومت کو مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے بے شمار اقدامات کرنے ہیں جن سے عوام کا معیار زندگی بتدریج بہتر ہو تاکہ ملک کا ہر شہری با عزت گزر بسر کر سکے۔ ان میں چند ایک کا یہاں ذکر کرنا ضروری ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ہمارا زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ حکومت کو کسانوں کے مسائل حل کرنے، ان کے لئے سبسڈی فراہم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے پر مزید توجہ دینی ہوگی۔ اسی طرح ٹیکس کا منصفانہ نظام عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ضروری ٹیکسوں کی بروقت وصولی کے نظام کو بہتر بناتے ہوئے غیر ضروری ٹیکسوں کو ختم کرکے عام شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو شفافیت اور کڑے احتساب کے نظام کو فروغ دینا ہوگا تاکہ معاشرے میں جڑ پکڑ جانے والی کرپشن جیسے ناسور اور لعنت کی موثر روک تھام کی جا سکے۔ اس سے عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد بڑھے گا اور وسائل کا صحیح استعمال ممکن ہوگا۔ آخر میں سب سے اہم کام ملک کی عوام کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات کی بلا تعطل اور آسان نرخوں پہ فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ یقینا" ان سہولیات میں تعطل یا ان کی عدم موجودگی عوام کے روز مرہ کے مسائل میں خاطر خواہ اضافہ کرتی ہیں۔
یہاں اہم سوال یہ ہے کہ ملک کی غریب عوام کو فوری ریلیف کیسے دیا جا سکتا ہے؟ لہٰذا حکومت کو قلیل المدتی اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ جن میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی سر فہرست ہے۔ مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے غریب طبقے کے لئے ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں فوری کمی لانا انتہائی اہم ہے۔ اس کے لئے حکومت کو سبسڈی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی منافع خوری کو روکنا ہوگا۔ بے روزگاری کا خاتمہ دوسرا بڑا چیلنج ہے۔ بلا شبہ بے روزگاری غربت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ حکومت کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہوگا۔ اس ضمن میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولیات فراہم کرکے روزگار کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح عوام اور بالخصوص نوجوان طبقے کو ہنر مند بنانا ہو گا تاکہ وہ اپنے ہنر کا استعمال کر کے اپنے لئے روزگار بھی پیدا کریں اور اپنی آمدن بھی بڑھا سکیں۔ تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی عوام کے مسائل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ حکومت کو سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے اور ان تک عام عوام کی رسائی کو ممکن اور آسان بنانا ہوگا۔ غریب اور امیر کے درمیان فرق کو کم کرنے کے لئے معاشرتی مساوات کو فروغ دینا ہوگا۔ اس کے لئے تعلیم، صحت اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے پہاڑ نما مسائل کے حل کے لئے معیشت کو مستحکم کرنا ضروری ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور برآمدات میں اضافہ کرنے کے لئے حکومتی طویل مدتی اور قلیل مدتی پالیسیاں وضع کرنی ہوں گی۔ حکومت کو یقینی بنانا ہو گا کہ عوام کو حکومتی منصوبوں اور پالیسیوں میں شامل کیا جائے جو کہ ان کی ضروریات اور مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مددگار ہو گا۔ یقینا" عوام کی رائے کو اہمیت دے کر مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہر ایک قومی ضرورت اور ہر حکومت کا اولین فریضہ ہے۔ موجودہ حکومت کو موجود مسائل کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے کر ایسی پالیسیاں نافذ کرنی ہوں گی جو عوام کے لئے فوری اور طویل مدتی فوائد فراہم کریں۔ تعلیم، صحت، روزگار، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے شعبوں پر توجہ دینے سے عوام کی زندگیوں میں سکون اور خوشحالی لائی جا سکتی ہے۔ عوامی بہبود کے لئے کیے گئے اقدامات نہ صرف سماجی ترقی کا باعث بنیں گے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنائیں گے۔ بلا شبہ وزیر اعظم نے اس ضمن میں دن رات کام کیا ہے لیکن ابھی منزل بہت آگے ہے اور حکومت کو اسی سپیڈ سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ایمان ہے، کہ اگر موجودہ حکومت اسی نیک نیتی سے آگے بڑھتی رہی تو وطن عزیز پاکستان سے جلد مسائل کا خاتمہ ہو گا اور قوم اور ملک کا مستقبل روشن ہے۔ ان شاء اللہ۔

ٹیگز: