پاکستان نیا ہو پرانا یا نو زائیدہ عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی اور استحصال میں کمی دیکھنے میں نہیں آرہی خصوصاً بچوں اور عورتوں کے ساتھ ہونے والے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے المیہ یہ کہ اس واقعات کے انسداد کی کوئی عملی شکل نظر نہیں آرہی ’’مردوں کے اجارہ دار‘‘ معاشرئے میں بچے اور عورت ایک ارزان جنس کے علاوہ کچھ نہیں ان کے ساتھ ہونے والے ہولناک سلوک پر ملک کے اعلیٰ ایوانوں سے لیکر عام افراد میں بھی کہیں آپ کو کوئی جنبش نظر نہیں آتی ہاں البتہ کوئی واقعہ سوشل میڈیا سے ہوتا ہوا مین سٹریم میڈیا کی زینت بن جائے تو پھر ایکشن پر ایکشن اور بھاگ دوڑ میں گرد اور دھول اڑتی ضرور نظر آئے گی مگر ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات اٹھانے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش پھر بھی نظر نہیں آتی۔ اگر یہ کہا جائے کہ بحیثیت معاشرہ ہم گل سڑ چکے ہیں تو کیا یہ غلط ہے؟۔ مشہور چیک ناول نگار این کلیما کو دس سال کی عمر میں ایک نازی کیمپ میں لے جایا گیا تھا جہاں وہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے تک موجود رہے۔ ان کے کئی ساتھی اس کیمپ سے زندہ نہیں لوٹے۔کلیما نے اپنے اس تکلیف دہ تجربے کی یاد میں ایک کتاب چائلڈ ہوڈ ان تیریزین لکھی۔ اس میں کلیما لکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ سبق سیکھا کہ جس معاشرے کی بنیاد بے ایمانی پر ہو، جو جرم کو برداشت کرے، خواہ یہ صرف کچھ منتخب لوگوں کیلئے ہو اور دوسری طرف کسی اور گروپ کو خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا ہو اسے اس کے زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیا جائے تو وہ معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہو کر آخرکار تباہ ہو جائے گا۔کیا ہم اس بات پر غور کرنے کے لئے تیار ہیں؟ ۔
ابھی حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ نے پاکستانی معاشرے کے چہرے سے پردہ اٹھانے کے ساتھ اداروں کی کار کردگی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں ۔پاکستان میں ایک
غیرسرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کے پہلے چھ ماہ میں ملک بھر میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے رپورٹ ہونے والے واقعات میں قریب 32 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔۔ اس تنظیم کے مطابق ملک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کا رپورٹ ہونا، اس اضافے میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ ماضی کے مقابلے میں اب ایسے واقعات زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔ جنسی زیادتی کے واقعات کے اعتبار سے صوبہ پنجاب دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں آگے ہے تاہم اس بابت یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دیگر صوبوں میں مختلف سماجی وجوہات کی بنا پر ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو سکتے۔
اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسے واقعات کے حوالے سے متعدد اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں تھانوں میں وہ خصوصی کاؤنٹرز شامل ہیں، جو ’چائلڈ فرینڈلی ہوں۔ ’’ایسے واقعات بہت حساس ہوتے ہیں۔ اس میں ڈی این اے، میڈیکل رپورٹ، قتل کی صورت میں پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد سے متعلق عمومی طریقہ کار کی بجائے خصوصی طریقہ کار اختیار کرنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا کوئی نظام نہیں ہے۔ ایسے کسی واقعے کی صورت میں جب متاثرہ بچہ اور اس کے والدین تھانے پہنچتے ہیں، تو انہیں ایک اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔‘‘آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک پاکستان میں سالانہ اوسطًایک ہزار سے زائد بچے بچیاں اغوا کر لیے جاتے ہیں۔ ریپ اور اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے معصوم لڑکے لڑکیوں کی اوسط تعداد بھی ہزار سے زائد ہوتی ہے۔یہ اعداد و شمار ایسے جرائم کے ہیں، جو پولیس کو رپورٹ کیے جاتے ہیں جب کہ ایسے بہت سے جرائم سماجی بے عزتی کے خوف یا مجرموں کی طرف سے دھمکیوں جیسی وجوہات کے باعث پولیس کو رپورٹ کیے ہی نہیں جاتے۔ پاکستان میں اس نوعیت کے جرائم کا قومی سطح پر ریکارڈ رکھنے کا کوئی خصوصی نظام موجود نہیں لیکن چند ملک گیر غیر سرکاری تنظیمیں اس شعبے میں بڑی محنت سے کام کر رہی ہیں جن کا کہنا ہے کہ ایسے جرائم کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکار اگر ان جرائم کے عملی اسباب کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو بہت سے ماہرین یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سماجی طور پر ایسے جرائم کے پس منظر محرکات کیا ہوتے ہیں۔کئی سماجی، نفسیاتی اور عمرانیاتی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں ان جرائم کے ارتکاب کے بڑے اسباب غربت، بے روزگاری، سماجی طور پر عزت اور غیرت کا تصور اور انصاف کی فراہمی کے نظام میں پائی جانے والی خامیاں ہیں۔ متعدد دیگر ماہرین کے مطابق انفرادی اخلاقی سطح پر خود احتسابی کی کمی اور معاشرے میں موجود گھٹن اور محرومی کے احساس کو بھی ایسے جرائم کے اسباب کی فہرست سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔یا جنسی جرائم کا کسی معاشرے کے مجموعی ماحول اور وہاں باہمی برداشت کی بہتر یا خراب صورت حال سے بھی کوئی تعلق ہوتا ہے۔ہمارے ہاں مجموعی سیاسی ماحول بدعنوانی اور سماجی ماحول دباؤ کا شکار ہے۔ معاشرے میں برداشت کم اور عدم برداشت بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم، تفریح اور تخلیق کے بہتر مواقع دستیاب ہوں گے تو ان کی توانائیاں مجرمانہ اور غیر تعمیری کاموں میں ضائع نہیں ہوں گی۔ چوری، قتل اور ڈکیتی کی طرح کسی معاشرے میں جنسی جرائم کا تعلق بھی وہاں کے مجموعی ماحول، باہمی برداشت، شہریوں کی قانون پسندی، ذہنی اطمینان اور دوسروں کے لیے احترام جیسے عوامل سے ہوتا ہے۔ جہاں ایسے عوامل کی شرح غیر تسلی بخش ہو گی، وہاں جرائم بھی زیادہ ہوں گے۔ عوام کو اجتماعی طور پر آزادی کے ساتھ ساتھ ذمے داری اور ہر حال میں قانون پسندی کا احساس دلانا بھی لازمی ہوتا ہے۔ لوگوں کی صرف صحت ہی نہیں بلکہ سوچ اور سماجی رویوں کو بھی صحت مند ہونا ہو گا۔