یہ بات روز روشن کی طرح صاف عیاں ہے کہ کسی بھی معاشرے کا امن و امان کا تعلق براہ راست اس کے عدل و انصاف کے شعبہ سے ہوتا ہے، یہ شعبہ جس قدر مضبوط ہو گا اسی قدر معاشرے میں مساوات ، امن و امان کی صورتحال بہتر ہو گی، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے نظام میں عدل و انصاف کے شعبہ میںوہ ترقی نہ ہو پائی جس کی ضرورت ہر دور میں رہی، اب اس کی وجوہات کیا تھیں وہ کون سے محرکات تھے کہ اس شعبہ کی ساکھ متاثر رہی، عالمی سطح پر بھی اس شعبے میں پاکستان کا شمار آخری نمبروں میں ہونے لگا، قیام پاکستان کے بعد سول و ملٹری حکومتیں آتی جاتی رہیں اور یہ شعبہ اپنی آزادانہ ، غیر جانبدارنہ ، منصفانہ، پہچان ماضی کے مقابلے میں روز بروز کھوتا نظر آیا، کسی تقریب میں ایک بار سابق صدر پاکستان و چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جناب رفیق تارڑ مرحوم نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہمارا عدل و انصاف کا شعبہ سب سے زیادہ کرپٹ ہے اگر آپ باقی تمام شعبوں میں ترقی و بہتری لانا چاہتے ہیں تو سب پہلے اس شعبے کو کرپشن ، اقربا پروری، جانبداری سے آزاد کرنا ہو گا، جس دن آپ نے اس شعبے کو درست کر دیا باقی تمام ادارے خودبخود درست ہونے لگیں گے، ‘‘ اس شعبے میں انقلابی اصلاحات لانا وقت کی اہم ضرورت ہے، ایک دور تھا کہ عدالت کے بیرونی حصے سے گزرتے ہوئے پولیس افسران جج صاحب کی نیم پلیٹ پر ان کانام دیکھ کر فوری سر پر اپنی کیپ درست کرنے لگتے تھے اور جج صاحبان بھی ایسے بااصول تھے کہ حکومتی تقاریب میں جانے سے گریز کرتے تھے بلکہ یہاں تک بھی ہوا کہ اگر کسی جج صاحب کو کسی ایسی تقریب میں مدعو کیا جاتا تو وہ اس بات نوٹس لیتے اور باور کراتے کہ عدالتوں میں حکومت مخالف مقدمات زیر سماعت ہوتے ہیں لہٰذا انہیں ایسی تقاریب میں مدعو نہ کیا جائے ، ہائیکورٹ کے ایک جج صاحب تو ایسے باکمال با اصول تھے کہ ہوٹل کے ایک کمرے میں زندگی کے ایام پورے کر دیئے اور اپنے عدالتی فرائض کے دوران ایسے فیصلے دئیے جو بعد ازاں عدالتی نظائر قرار پائے، ایسے قابل ، ذہین، ایماندار، غیر جانبدار جج صاحبان صبح عدالتی کام کے آغاز سے پہلے لا کالج میں قانون کے طلبا کو مختلف موضوعات پر لیکچر دیتے اور اس تدریسی عمل کے بعد عدالت میں انصاف فراہم کرنے پہنچتے، جج صاحبان بلا خوف خطر فیصلے لکھواتے اور ان فیصلوں پر عملدرآمد کراتے، فیصلہ لکھتے ہوئے میرٹ کو مدنظر رکھا جاتا، تاکہ کسی بھی فریق سے نا انصافی نہ ہو جائے،لیکن پھر وقت نے پلٹا کھایا اور یہ درخشندہ روایات دم توڑنے لگیں، آئین کے بنیادی ڈھانچے میں پے درپے ترامیم کی جاتی رہیں، جج صاحبان کو’’ پی سی او‘‘ کے تحت حلف اٹھانے کا حکم دیا جاتا رہا جس پر جسٹس فخر الدین جی ابراہیم ، جسٹس کے ایم صمدانی جیسے دلیر ، اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والی شخصیات نے اپنے باضمیر با اصول با وقار ہونے کا ثبوت فراہم کیا اور ’’ نظریہ ضرورت‘‘ پر نظریہ غیرت و حمیت کو ترجیح دی اور منصب سے الگ ہو گئے، لیکن دوسری طرف کچھ افراد نے ان عہدوں کو ضروری جانا بلکہ سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہر جج اتنا بہادر نہیں ہوتا کہ وہ اپنی نوکری ان اصولوں کی خاطر قربان کر دے‘‘ماتحت عدلیہ پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم کیا جائے تاکہ عام آدمی تک اس نظام کے ثمرات اس حد تک پہنچ پائیں، اس سلسلے میں بار کونسلز، بار ایسوسی ایشنز اپنا مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں ، نظریاتی وکلا صاحبان عدل و انصاف کے شعبہ میں وقار کو قائم دائم رکھنے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، محفوظ و مضبوط معاشرہ عدل و انصاف سے مشروط ہے۔