Wed, September 16, 2026

 امریکہ کو زبان بدلنی ہوگی؛عباس عراقچی کا واشنگٹن کو الٹی میٹم

 امریکہ کو زبان بدلنی ہوگی؛عباس عراقچی کا واشنگٹن کو الٹی میٹم

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران دباؤ کی سیاست کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی رابطے کے لیے پاکستان ہی تہران کا واحد اور باضابطہ سفارتی راستہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں دو ٹوک الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سفارتکاری کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹے، لیکن امریکہ کو یہ وہم نکال دینا چاہیے کہ وہ دھمکی آمیز لہجہ برقرار رکھ کر مذاکرات کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا"اگر واشنگٹن سنجیدہ ہے تو اسے اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ مذاکرات کے انعقاد کا فیصلہ ہوا تو ہم خود باضابطہ طور پر آگاہ کریں گے، فی الحال پاکستان ہی ہمارا باضابطہ ثالث ہے۔
 عباس عراقچی نے پاکستان کے کردار کو محض ایک سہولت کار نہیں بلکہ ایک "باضابطہ ثالث" (Official Mediator) کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ کیے بغیر برابری کی سطح پر بات چیت کا خواہاں ہے۔
 اس بیان کے ذریعے عراقچی نے ان تمام افواہوں کو ختم کر دیا ہے جن میں دیگر ممالک کی ثالثی کا ذکر کیا جا رہا تھا۔

ٹیگز: