Wed, September 16, 2026

ایران اور پاکستان پر ہونے والے حملوں کو ملا کر دیکھیں

ایران اور پاکستان پر ہونے والے حملوں کو ملا کر دیکھیں

امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنائی کی شہادت مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک ہولناک موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ واقعہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی سیاسی ٹارگٹ کلنگ ہے جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی نظام پر بھی مرتب ہوں گے۔ سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران تہران، قم، مشہد، اصفہان، نیشا پور، شیراز، اہواز اور دیگر درجنوں شہروں میں دسیوں لاکھ افراد کا انہیں انکی باوقار رخصت پر خراج عقیدت اور آخری سلام پیش کرنے کیلئے سڑکوں پر نکل آنا گواہی دیتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں اور بے تحاشا معاشی دباو¿ نے اس نازک موڑ پر مضبوط ایرانی قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے مزید متحد کر دیا ہے۔ ایرانی قیادت کے خلاف اس نوعیت کے حملوں کے پیچھے بنیادی محرک ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضے کے علاوہ انکا جوہری اور میزائل پروگراموں سے انکار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل طویل عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ جوہری اور میزائل صلاحیت سے لیس ایران اسرائیل اور امریکہ کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھنے سے آبنائے ہرمز عالمی معیشت کا سب سے نازک مقام بن چکی ہے۔ دنیا کا بیس فیصد سے زائد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ جنگ اور بحری ناکہ بندی نے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کو بڑھانا شروع کر دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ممالک پر پڑے گا۔ مہنگائی، ایندھن کا بحران اور زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباﺅ پاکستان کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں یہ صورتحال نہایت حساس ہے۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد اور مذہبی و ثقافتی روابط پاکستان کو مکمل غیر جانبداری اختیار کرنے میں دشواری پیدا کر سکتے ہیں۔
اس جنگ کی وجہ سے سرحدی سلامتی، سمگلنگ، مہاجرین کی آمد اور فرقہ وارانہ کشیدگی جیسے مسائل سر اٹھا سکتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی دہشت گردی، معاشی دباو¿ اور سیاسی عدم استحکام جیسے مسائل سے دوچار ہے، لہٰذا ایک نیا علاقائی بحران اس کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ ہمارے برادر ہمسایہ ملک ایران میں تیزی سے بگڑتی 
ہوئی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹی ٹی پی، افغان طالبان، داعش خراسان اور بی ایل اے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ اور سیاسی مفاد پرست سیاسی ہنگامہ آرائی سے دباو¿ بڑھا سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال پاکستان کے لیے ایسے مسائل پیدا کر دے گی جس کا پاکستان کے دشمنوں کو فائدہ پہنچے گا۔
پاکستان ایران کی صورت حال سے براہ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ ایران اندرونی طور پر کمزور ہوتا ہے یا بیرونی دباو¿ میں آتا ہے تو اس کے اثرات پاک ایران سرحد کے اس جانب شورش زدہ بلوچستان تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے پورا خطہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جائے گا۔ پاکستانی بلوچستان میں بد امنی پیدا کرنے کے بعد امریکہ اور اسرائیل ایران کے صوبہ بلوچستان جسے ایران میں سیستان کہا جاتا ہے میں علیحدگی کی تحریک کو منظم طور پر ہوا دیں گے۔ یوں پاک ایران سرحد کے دونوں اطراف بلوچستان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ پاکستان اور ایران دونوں کو جغرافیائی طور پر توڑ کے خاکم بدھن الگ کیا جائے۔ پاکستان کے لیے اس تباہ کن صورتحال کے مضمرات نہایت گہرے اور خوفناک ہونگے۔
مودی کے اسرائیل کے دورے کے دوران افغانستان کا پاکستان پر حملے کی جرا¿ت کرنا معمولی بات نہیں۔ اس جرا¿ت کے پیچھے بھارت اور اسرائیل کی مکمل شہہ کارفرما ہے۔ مودی کے حالیہ دورہ اسرائیل کے موقع پر اسرائیلی پارلیمنٹ میں نیتن یاہو اور مودی کی افغان طالبان کے حق میں تقاریر اور مالی امداد کے اعلانات نے پاکستان مخالف شیطانی گٹھ جوڑ کو مکمل طور پر واضح کر دیا ہے۔ مودی کی بھارت واپسی کے اگلے ہی روز امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ ساری سازش کھول کر رکھ دیتا ہے۔ افغانستان کے پاکستان پر حملے اور امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کو ملا کر دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان، افغانستان اور ایران کے درمیان مشترکہ سرحد ہے۔ اس وقت تینوں ممالک جنگی صورتحال سے دوچار ہیں۔ شیطانی ٹولے نے بیک وقت پاکستان اور ایران پر حملے کر کے دباو¿ بڑھانے کی حکمتِ عملی اختیار کر رکھی ہے۔ پاکستان کے ہاتھوں 10 مئی 2025 کی عبرتناک شکست کے بعد اس صورتحال سے بھارت فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
روس اور چین، جو ایران کے ساتھ سٹرٹیجک تعلقات رکھتے ہیں، ممکن ہے کھل کر ایران کی سفارتی یا دفاعی حمایت کریں۔ اس کے نتیجے میں عالمی طاقتوں کے درمیان صف بندی مزید واضح ہو سکتی ہے۔ نیٹو ممالک کے اندر بھی پالیسی اختلافات جنم لے سکتے ہیں۔ سائبر جنگ، معاشی پابندیاں اور پراکسی محاذ آرائی عالمی سلامتی کے ڈھانچے کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔
یہ بھی اہم سوال ہے کہ کیا بیرونی قوتیں واقعی ایران میں رجیم چینج لا سکتی ہیں؟ بیرونی مداخلت اکثر داخلی مزاحمت کو مضبوط کرتی ہے۔ عراق اور افغانستان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں فوجی طاقت سیاسی استحکام پیدا کرنے میں ناکام رہی۔ ایران ایک منظم ریاستی ڈھانچہ، نظریاتی بنیاد اور عسکری صلاحیت رکھتا ہے۔ ممکن ہے قیادت کی تبدیلی سے وقتی طور پر مقامی اور بین الاقوامی سیاست میں ہلچل پیدا ہو، مگر ایرانی ریاستی ڈھانچہ مکمل طور پر منہدم ہو جائے، یہ مفروضہ مکمل طور پر حقیقت سے بعید ازقیاس دکھائی دیتا ہے۔
ایرانی قوم میں پائے جانے والے گہرے قوم پرستانہ جذبات نے بیرونی جارحیت کے خلاف قومی یکجہتی کو بڑھا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم لیڈر سید علی خامنائی کی شہادت کے بعد ہر شہر میں لاکھوں افراد کا سڑکوں پر نکلنا اس امر کی علامت ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود بیرونی دباو¿ کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا ہوا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی عسکری حکمتِ عملی وقتی طور پر انہیں عسکری فوائد تو دے سکتی ہے لیکن طویل المدتی استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنا محض فضائی حملوں سے ممکن نہیں۔
سفارتی مذاکرات، علاقائی سکیورٹی فریم ورک اور اعتماد سازی کے اقدامات ہی پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔ پاکستان اور پورے خطے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دانشمندانہ سفارت کاری کو فروغ دیں، غیر جانبداری اور توازن کی پالیسی اپنائے، اور کسی بھی بڑے تصادم سے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی طویل جنگوں کا بوجھ اٹھا چکا ہے۔ اس نئی تباہ کن جنگ نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کو بھی آگ میں جھونک دیا ہے۔ آنے والا وقت اس بات کا تعین کرے گا کہ فریقین خطے کی مزید تباہی کی راہ اختیار کرتے ہیں یا مذاکرات اور تحمل کے ذریعے ایک نئی توازن کی فضا قائم کرتے ہیں۔

ٹیگز: