اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ہولناک حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے ہوش ربا اضافے نے پاکستان میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ وزیراعظم نے ملک کو ممکنہ توانائی کے بحران اور مہنگائی کے طوفان سے بچانے کے لیے 18 رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سپلائی کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کرے گی۔
وزیراعظم آفس سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس اہم ترین کمیٹی کی سربراہی وزیرِ خزانہ کریں گے۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں درج ذیل ادارے شامل ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان، اوگرا (OGRA) اور ایف بی آر (FBR) کے اعلیٰ حکام۔
پہلی بار حساس اداروں کے نمائندوں کو بھی اس کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ ملک میں ایندھن کی مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کا سختی سے سدِ باب کیا جا سکے۔