Wed, September 16, 2026

یہ نہ تھییہ نہ تھی ہماری قسمت !

یہ نہ تھییہ نہ تھی ہماری قسمت !

پتا نہیں آپ کو ایسی فون کالز آتی ہیں یا نہیں لیکن مجھے گذشتہ چند برسوں سے مسلسل ایسی بلکہ ”ایسی ویسی“ فون کالز آرہی ہیں ۔ رب جانے دنیا جہان کے ٹھگ بازوں کو میرے حوالے یہ غلط فہمی کیسے ہوگئی ہے کہ میرے پاس کسی قسم کا کوئی خزانہ چھپا ہے جسے ہتھیانے کے لئے میرے یہ سب ’ ’ رشتے دار“ مرے جارہے ہیں۔ جب کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ میں گریڈ اٹھارہ کا ایک ایسا معصوم سرکاری ملازم ہوجو اپنی محدود تنخواہ اور لامحدود ضرورتوںکی وجہ سے ہر مہینے کے آخری دس دن اپنی اور پچھلی حکومتوں کی نالائقیوں کو کوستا اگلی تنخواہ کے انتظار میں گن گن کردن گزارتا ہے ۔ اچھے وقتوں میں بُرے وقتوں کے لئے جوڑی ہوئی تھوڑی بہت جمع پونجی جومیرے پاس تھی وہ گذشتہ چار ساڑھے چار ماہ کے مختصر عرصے میں میرے اسلام آباد تبادلے کے بعد ”ٹوہر ٹپے“ اور ”پھیروں ٹُوروں“کی نذر ہوچکی ہے۔تنخواہ کے علاوہ میرا کوئی دوسرا تیسرا یا چوتھا ذریعہ آمدن تو ہے نہیں۔ سو اب اندر کی بات یہ ہے کہ جن دوستوں کو حاتم طائی بن کر میں نے کبھی تھوڑا بہت اُدھار دیا تھا اُن سے ناصرف وہ اُدھار واپس مانگنے بلکہ اُلٹا اُن سے اُدھار لینے کی نوبت آگئی ہے۔اسلام آباد جانے کا یہ مہنگاپنگا بھلے میںنے کسی بھی وجہ سے لیا ہومگر اس سارے پنگے میں مجھے ” پنگا“ لینے کا انجام اچھی طرح معلوم ہوگیا ہے۔ بالکل اس سردار کی طرح جو گلی میں بندھی ہمسائے کی بھینس کے قریب سے روزانہ گزرتے ہوئے یہ سوچا کرتا تھا کہ اگر اس کے بڑے بڑے سینگوں میں میری ٹانگیں پھنس جائیں تو کیا ہوگا۔آخر ایک دن سردار نے خود ہی اپنی ٹانگیں بھینس کے سینگوں میں پھنسا دیں۔ بھینس نے سردار کو گھما کر نیچے دے مارا جس سے اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔اگلے روز ہمسایہ اُن سے معذرت کرنے آیا کہ اُس کی بھینس کی وجہ سے اُن کی ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں تو سردار نے کہا ’ ’ چھوڑوجی ٹانگوں کی خیر ہے یہ ٹینشن تو ختم ہوئی کہ بھینس کے سینگوں میں ٹانگیں پھنس جائیں تو کیا ہوگا“۔ممکن ہے یہ لطیفہ پڑھ کر آپ اسے انجوائے کر رہے ہوں مگر میں یہ وضاحت کردوں کہ آپ کے ساتھ یہ لطیفہ شیئر کرنے کا میرا واحدمقصد اپنے پیچھے پڑے ٹھگوںکو یہ بتانا تھا کہ میرے پاس جو تھوڑی جمع پونجی تھی وہ پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں رہنے کی وجہ سے ختم ہوچکی ہے لہٰذا اب مجھ پر اپنی توانائیاں اور قیمتی وقت ضائع نہ کریں۔ابھی ابھی کالم لکھنے کے دوران بھی مجھے ایک اور اُلو کے دُم کی کال آئی ہے جو میری دولت ہتھیانے کے چکر میں باتوں باتوں میں مجھے چکر دینے کی کوشش کررہا تھا مگر میں نے جیسے ہی اسے تہذیب حافی کے دوچار بیہودہ قسم کے شعر سنائے تو وہ اللہ معافی کہہ کر دُم دبا کے بھاگ گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میرے بینک بیلنس کے حوالے سے صرف میرے دوست ،رشتہ دار اور ٹھگ مافیاہی نہیں بڑے بڑے پراپرٹی آئیکون بھی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ آئے روز مجھے مختلف فون کالز کے ذریعے کسی نہ کسی چھوٹے بڑے ہاﺅسنگ یا کمرشل پراجیکٹ میں نقد یا قسطوں پر گھر یا پلاٹ خریدنے کی پیشکش موصول ہوتی رہتی ہیں۔ گذشتہ دنوں ایسی ہی ایک اورمترنم فون کال مجھے لاہور کی ایک بہت بڑی نجی ہاﺅسنگ سوسائٹی کے ہیڈ آفس سے موصول ہوئی۔ کال کرنے والی لڑکی نے بڑے شیریں انداز میں اپنا اور اپنی سوسائٹی کا تعارف کراتے مجھے نقد اور آسان قسطوں پر پانچ اور دس مرلے کے پلاٹ خریدنے کی پیشکش کی۔ اللہ جانے اس آواز میں کوئی جادو تھا کہ مجھے ایک دم سے شرارت سوجھی اور میں نے اس سے پوچھا ” محترمہ آپ نے میرا نمبر کہاں سے لیا ہے“۔ وہ لڑکی کہنے لگی ”ایک کمپنی ہے جو ہمیں لوگوں کے نمبر فراہم کرتی ہے“۔ میں نے کہا ”جس نے آپ کو میرا نمبر دیا ہے اس نے آپ کو میرے بارے میں کچھ بتایا نہیں“۔ وہ کہنے لگی ”کمپنی ہمیں صرف نمبر فراہم کرتی ہے دیگر تفصیل نہیں“۔ اس پر میں نے کہا ”آپ زمیندارہ سمجھتی ہیں؟“۔ کہنے لگی ”جی سرتھوڑا بہت مجھے اندازہ ہے“۔ میں نے کسی منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح بڑا سا جھوٹ بولتے 
ہوئے کہا ” محترمہ میرے پاس سرگودھا میں تین سو مربع اراضی اور چند فیکٹریاں ہیں۔ میری تین بیویاں ہیںمجھے کم از کم پانچ سے چھ کنال کا پلاٹ درکار ہے جس پرمیں نے اپنے ہونے والی چوتھی بیوی کو گھر بناکر گفٹ کرنا ہے“۔ لڑکی نے کہا ”سر میں سمجھ گئی ہوں آپ کے مطابق جیسے ہی کوئی آپشن نکلا میں آپ سے رابطہ کرونگی“۔ میں نے ایک دم سے اسے کہا ”آپ پلاٹ کا کہہ رہی ہیں یا رشتے کا؟“۔ لڑکی جو میرے لہجے اور گفتگو سے پوری طرح متاثر لگ رہی تھی میرے اس اچانک سوال پر غالباََ بغیر سوچے سمجھے ہی اس نے فوراََ کہہ دیا ”سر دونوں کا“۔ اگلے روز میرے واٹس ایپ پر اس لڑکی کا میسج آیا اس نے لکھا تھا ”سر میرے پاس آپ کے لئے ایک پڑھی لکھی،سمجھدار اور خوبصورت لڑکی کا رشتہ ہے“۔ میں نے جواب میں لکھا ”مختصر تفصیل کے ساتھ لڑکی کی تصویر شیئر کر دیں“۔ اگلے دو منٹ سے بھی کم وقت میں مجھے اس لڑکی نے تین عدد تصویریں بھیج دیں جنھیں دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ یہ پچیس سے تیس برس عمر کی ایک بہت پیاری شکل و صورت کی لڑکی کی تصویریں تھیں۔ جس قدر جلد مجھے اس لڑکی نے تصویریں بھیجی تھیں مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ اس لڑکی کی اپنی تصویریں تھیں۔ حیرت کے ساتھ مجھے اس بات کی تکلیف بھی ہورہی تھی کہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں خواتین اپنے شوہر کی دوسری شادی کا سن کر لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتی ہیں۔ نجانے کس مجبوری کے تحت ایک اچھی خاصی خوبصورت اور پڑھی لکھی لڑکی خود سے بڑی عمر کے ایک ایسے شخص سے شادی کے لئے تیار تھی جو پہلے سے تین بیویوں کا شوہر تھا۔ دکھ اور افسوس کی وجہ سے اس کے بعد نہ تو مجھے اس لڑکی کو کوئی جواب دینے کی ہمت ہوئی اور نہ ہی اس لڑکی نے مجھ سے اس حوالے سے دوبارہ کوئی سوال کیا۔ شاید میری اس خاموشی کو انکار سمجھ کر اس لڑکی نے بھی دوبارہ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس واقعہ کو کافی دن گزر گئے ہیں مگر جب بھی میری آنکھوں کے سامنے اس مجبور اور بے بس لڑکی کا چہرہ آتا ہے میرے دل سے بے اختیار اس کے اچھے مستقبل کے لئے دعا نکلتی ہے۔ ہے کوئی اللہ کا نیک اورسخی بندہ جو نیکی کے اس کام میں میرا ساتھ دے اور میرا کالم پڑھ کر رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں خالص رب کی رضا کے لئے مجھے ضلع سرگودھا میں تین سو مربع اراضی اور دو چار فیکٹریاں دے دے۔

ٹیگز: