عیدالفطر کے مقابلے میں عیدالاضحی کی زیادہ رونق ہوتی ہے، عیدالفطر کے ساتھ ایک دُکھ ماہ رمضان کی جُدائی کا بھی ہوتا ہے، جبکہ عیدالاضحی کی خوشیوں میں سب سے بڑی خوشی حج کی ہوتی ہے، یہ خوشی کسی مسلمان کے مقدر میں نہ بھی ہو وہ سیکڑوں مسلمانوں کو حج کرتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور دعا کرتا ہے یہ سعادت اُسے بھی نصیب ہو، حج صرف اُن لوگوں پر فرض ہے جو اُس کی استطاعت رکھتے ہوں، اس کے باوجود ہمارے کچھ لوگ زبردستی اس کی استطاعت حاصل کر لیتے ہیں، وہ اُدھار پکڑ کر حج پر چلے جاتے ہیں اور اس نیت سے اُدھار پکڑتے ہیں بعد میں یہ رقم اُنہوں نے واپس نہیں کرنی، ہمارے ایک جاننے والے اپنے ایک دوست سے اُدھار رقم لے کر حج پر چلے گئے، تین سال تک اُنہوں نے یہ رقم واپس ہی نہیں کی، دوست نے جب اپنی رقم کی واپسی کا تقاضا کیا وہ کہنے لگے ”آپ کو شرم آنی چاہیے اپنی رقم واپس مانگتے ہوئے، آپ کو پتہ نہیں یہ رقم کتنے نیک مقصد کے لیے استعمال ہوئی ہے؟“ اسی طرح ایک اور صاحب اپنے کزن سے اُدھار رقم لے کر عمرے پر چلے گئے، بعد میں اُن کے کزن نے اپنی رقم واپس مانگی کہنے لگے ”ایک عمرہ میں نے تمہاری طرف سے بھی کر لیا تھا، چنانچہ اب رقم کی واپسی نہیں بنتی“۔ بہت سال پہلے تھانہ ٹبی سٹی لاہور جس کا ایک علاقہ ہیرا منڈی یا بازار حُسن بھی ہے کے محرر نے بازار حُسن کے رہائشیوں سے مہینے کی پہلی تاریخ سے پہلے ہی منتھلی مانگنا شروع کر دی، جب اُس محرر سے پوچھا گیا ”اس بار تم پہلی سے پہلے منتھلی کیوں مانگ رہے ہو؟“ وہ بولا ”ایس ایچ او صاحب نے پہلی سے پہلے پہلے حج پر جانا ہے، وہاں سے اُنہوں نے اپنے ”صاحبوں“ کے لیے عجوہ، امبر اور اس ٹائپ کی دیگر اعلیٰ نسلی کھجوریں، قیمتی تسبیحاں، مخملی جائے نمازیں، ٹوپیاں اور ان سب سے ہٹ کے کچھ ”بابرکت تحائف“ بھی خریدنا ہیں، چنانچہ اس بار اُنہیں ایڈوانس منتھلی چاہیے“۔ بیرون مُلک خصوصاً حج اور عمرے سے واپسی پر جو تحائف دوستوں یا عزیزوں کے لیے لائے جاتے ہیں اُن کا اپنا ہی دھوکہ ہوتا ہے، کچھ تحائف مکے اور مدینے سے خریدے بھی جاتے ہوں گے، زیادہ تر لوگوں نے اپنا مکہ اور مدینہ اب ”شاہ عالمی“ کو بنایا ہوا ہے، دو برس پہلے میں عمرے سے واپس آیا، ابھی میں گھر پہنچا ہی تھا میرے عزیز کا فون آ گیا، کہنے لگے ”میں آپ کو عمرے کی مبارک دینے آ رہا ہوں“۔ میں نے گزارش کی ”آپ کل تشریف لائیے گا، آج میں شاہ عالمی جا رہا ہوں“۔ وہ بولے ”آج ہی آپ آئے ہیں ایک آدھ دن آرام فرما لیتے“، میں نے کہا ”اصل میں مکے اور مدینے سے جو تحائف آپ کے لیے لے کے آیا ہوں وہ شاہ عالمی سے خریدنے جا رہا ہوں“۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں پاکستان میں مذہب کی آڑ میں جو دھندے دھرا دھر ہو رہے ہیں وہ اگر بند ہو گئے معاشی طور پر پاکستان بالکل ہی تباہ ہو جائے گا، ہماری معیشت کو ایک بڑا سنبھالا ان دھندوں نے ہی دیا ہوا ہے۔ پاکستان کے علاوہ میں نے دُنیا میں کہیں نہیں دیکھا اپنے جائز ناجائز کاروباروں کے لیے مذہب کا اندھا دُھند غلط استعمال کیا جاتا ہو، ہمارے محلے میں ایک ”مدینہ سٹور“ ہے، ملاﺅٹی اور دو نمبر مال کا یہ ایک بڑا مرکز ہے، قریب ہی ایک ”محمدی ملک شاپ“ ہے، ا±س کا مالک سرعام دودھ میں پانی ملاتا ہے اور سرعام کہتا ہے ”میں اپنی دُکان کے نام ”محمدی ملک شاپ“ کے تقدس میں ہمیشہ صاف پانی ملاتا ہوں، حالانکہ میں چاہوں گندا پانی بھی ملا سکتا ہوں، میرا کسی نے کیا پُٹ لینا ہے؟“ اسی طرح ایک ”بسم اللہ سٹور“ ہے، ہر دو نمبر چیز وہاں دستیاب ہے، بندہ جائے تے جائے کتھے؟ اُوپر میں نے عرض کیا حج صرف اُن مسلمانوں پر فرض ہے جو اُس کی استطاعت رکھتے ہیں، قربانی تو فرض بھی نہیں ہے، یہ سُنت ابراہیمی ہے، اس کے باوجود کچھ لوگ دکھاوے کی قُربانی کے لیے اپنے عزیزوں سے اُدھار مانگتے ہیں، ایک صاحب نے چار بکرے خریدے اُن کے محلے دار نے آٹھ خریدے وہ اُن کے پاس گئے کہنے لگے ”دو بکرے اُدھار دے دیں اگلی عید پر واپس کر دُوں گا“۔ ہم نے حج اور قُربانی کو بھی فیشن بنا لیا ہے، یہ بھی سٹیٹس سمبل بن گیا ہے، میں نے بھی قربانی کے لیے خریدے گئے اپنے بیل، اُونٹ اور بکرے اپنے فیس بُک پر اس لیے لگائے کہیں میرے یہ جانور بُرا نہ مان جائیں کہ سب نے لگائے ہیں اس نے کیوں نہیں لگائے؟ اور کہیں نہ لگانے سے میرے ثواب میں کوئی کمی نہ رہ جائے یا اگر روز قیامت مجھ سے پوچھا گیا ”تم نے کتنے جانور قربان کیے تھے؟“ میں فیس بُک سے گن کر فوراً بتا دُوں گا اتنے کیے تھے، اس ”عظیم مقصد“ کے لیے میں ایک بکرے کی تصویر بنانے لگا اُس نے آگے سے مجھے ٹوڈ مار دیا، میں ابھی سنبھل ہی نہیں پایا تھا ایک ٹوڈ اُس نے مجھے پیچھے سے بھی مار دیا، میں صرف آگے کے درد سے نڈھال ہوں، جبکہ پیچھے کا درد بحیثیت ایک پاکستانی میں نے کبھی محسوس ہی نہیں کیا، ایک خاتون اپنے شوہر سے کہہ رہی تھی ”تم اگر عورت ہوتے تمہیں بچہ پیدا کرنا پڑتا تمہیں پتہ چلتا درد کیا ہوتا ہے“۔ شوہر بولا ”تم اگر مرد ہوتی تمہارے کسی نازک اعضا پر ٹانگ پڑتی تمہیں بھی پتہ چلتا درد کیا ہوتا ہے“۔ ہماری پچھلی دو بکرا عیدیں بیرون مُلک گزریں، پاکستان میں بکرا عید کی اپنی رونقیں ہوتی ہیں، اس موقع پر نائی بھی قصائی بنے ہوتے ہیں، عید الاضحی پر کچھ لوگوں کے بکرے وہی ذبح کرتا ہے جو عید سے پہلے اُن کے بکروں کی حجامت کرتا ہے، اس حج اور عید پر کچھ لوگوں کی روایتی ”مسخریاں“ بھی ہم نے بہت انجوائے کیں، ہمارے سابقہ کرکٹر وسیم اکرم باو¿لنگ کے جس انداز میں شیطان کو کنکریاں مار رہے تھے شکر ہے جوابی کارروائی کی اجازت نہیں تھی ورنہ وسیم اکرم ایمبولنس پر واپس آتے، شیطان سے کچھ مانگنے کی اجازت نہیں ہوتی ورنہ ہمارے کچھ لوگ شیطان سے بھی کہہ رہے ہوتے ”بابا جی ساہڈا حج قبول کرا دینا“ اب ہم ڈی ایچ اے میں شفٹ ہو گئے ہیں، یہاں قربانی کے رولز طے کیے گئے ہیں، اُن کی خلاف ورزی پر بھاری جُرمانہ ہوتا ہے، ہماری چونکہ رولز کی خلاف ورزی کیے بغیر قربانی نہیں ہوتی چنانچہ ہم نے ڈی ایچ اے سے باہر جا کے قربانی کی۔ (جاری ہے)