پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا زرعی صوبہ ہے جہاں گندم، چاول، کپاس اور گنے جیسی فصلیں بڑی مقدار میں پیدا کی جاتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں پنجاب میں جھینگا فارمنگ یا ”شرمب فارمنگ“ کا رجحان بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ جھینگا فارمنگ عموماً ساحلی علاقوں میں کی جاتی ہے، لیکن جدید ٹیکنالوجی اور بائیو فلوک سسٹم کی بدولت اب پنجاب جیسے غیر ساحلی علاقوں میں بھی اس کاروبار کو کامیابی سے شروع کیا جا رہا ہے۔ جھینگا ایک قیمتی سمندری خوراک ہے جس کی عالمی منڈی میں بہت زیادہ طلب موجود ہے۔ دنیا کے کئی ممالک جھینگا درآمد کرتے ہیں، اسی لیے پاکستان میں بھی اس صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پنجاب میں جھینگا فارمنگ کو ایک نئے اور منافع بخش کاروبار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ان کسانوں کی طرف سے جو روایتی زراعت کے ساتھ اضافی آمدنی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
پنجاب میں جھینگا فارمنگ کے لیے زیادہ تر بائیو فلوک ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے۔ اس نظام میں جھینگوں کو بڑے تالابوں یا ٹینکوں میں پالا جاتا ہے جہاں پانی کو مسلسل صاف اور متوازن رکھا جاتا ہے۔ اس طریقے میں کم پانی استعمال ہوتا ہے اور جھینگوں کی افزائش تیزی سے ہوتی ہے۔ بائیو فلوک سسٹم پنجاب کے موسم کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں پانی کے معیار اور درجہ حرارت کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ مظفرگڑھ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور اور ساہیوال جیسے شہروں میں کچھ کسان تجرباتی بنیادوں پر جھینگا فارمنگ کر رہے ہیں۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب میں گرم موسم جھینگا فارمنگ کے لیے نسبتاً زیادہ موزوں ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مناسب تربیت اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں تو پنجاب میں یہ صنعت تیزی سے ترقی کر سکتی ہے۔
جھینگا فارمنگ شروع کرنے کے لیے سب سے پہلے مناسب جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد تالاب یا ٹینک تیار کیے جاتے ہیں۔ جھینگوں کے بچوں یعنی ”سیڈ“ کو خصوصی ہیچریوں سے خریدا جاتا ہے۔ انہیں متوازن خوراک دی جاتی ہے اور پانی میں آکسیجن کی مقدار برقرار رکھنے کے لیے ایریٹر مشینیں استعمال کی جاتی ہیں۔ تقریباً چار سے پانچ ماہ کے اندر جھینگے فروخت کے قابل ہو جاتے ہیں۔ پنجاب میں جھینگا فارمنگ کے کئی فوائد ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ زیادہ منافع ہے۔ ایک چھوٹے فارم سے بھی لاکھوں روپے کمائے جا سکتے ہیں اگر مناسب دیکھ بھال کی جائے۔ اس کے علاوہ یہ کاروبار نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔ دیہی علاقوں میں فارمنگ، پیکنگ، ٹرانسپورٹ اور مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
تاہم پنجاب میں جھینگا فارمنگ کو کچھ چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ چونکہ یہ ایک نئی صنعت ہے، اس لیے بہت سے کسانوں کو اس کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہیں۔ معیاری سیڈ، جدید مشینری اور تربیت یافتہ عملے کی کمی بھی مسائل پیدا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کے معیار کو برقرار رکھنا بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ حکومت پنجاب اور زرعی یونیورسٹیاں اس شعبے کی ترقی کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہیں۔ کسانوں کو تربیتی پروگرام فراہم کیے جا رہے ہیں اور جدید ایکوا کلچر ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے۔ اگر حکومت مزید سرمایہ کاری کرے اور کسانوں کو آسان قرضے فراہم کیے جائیں تو پنجاب میں جھینگا فارمنگ ایک بڑی صنعت بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں جھینگا فارمنگ مستقبل میں زرعی معیشت کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔ جدید تحقیق، سائنسی طریقوں اور حکومتی تعاون کے ذریعے اس شعبے میں بے پناہ ترقی ممکن ہے۔ یہ نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گی بلکہ پاکستان کی برآمدات میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں جھینگا فارمنگ ایک ابھرتا ہوا اور منافع بخش کاروبار ہے۔ اگر کسان جدید طریقوں کو اپنائیں اور حکومت مناسب سہولیات فراہم کرے تو یہ صنعت صوبے کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔