پاکستان میں لوگ جتنا پریشان بجلی تقسیم کرنے کی ذمہ دار کمپنیوں کے ہاتھوں ہیں، شاید ہی کسی اور ادارے کے ہاتھوں اتنا پریشان ہوں۔ دیگر اداروں سے تو کم ہی لوگوں کا واسطہ پڑتا لیکن بجلی کی یہ تقسیم کار کمپنیاں جنہیں عرف عام میں ڈسکوز کہا جاتا ہے جب سے وجود میں آئی ہیں عوام کو مسلسل ڈسکو ڈانس کرا رہی ہیں۔ ان ڈسکوز میں لیسکو، فیسکو اور حیسکو جیسی درجن بھر کمپنیاں شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کے ظہور سے قبل عوام کو یہی تگنی کا ناچ واپڈا نچایا کرتا تھا، اسی لیے بجلی سے متعلقہ مسائل کا سامنا کرنے والے بہت سے لوگوں کے ذہنوں سے ابھی تک واپڈا ہی نہیں نکل پایا اور وہ اب بھی لوڈ شیڈنگ وغیرہ جیسے مسائل پر اسی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں حالانکہ اس وقت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نگرانی کے لیے نیپرا کے نام سے بھی ایک ادارہ بھی وجود میں آ چکا ہے جو بجلی کی قیمتوں کا تعین بھی کرتا ہے تاہم عوام الناس کا اس وقت براہ راست رابطہ ڈسکوز کے ساتھ ہی رہتا ہے کیونکہ بجلی تو ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر آج کے دور میں زندگی بے معنی ہو چکی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اشیائے خورونوش کا درجہ بھی اب تو بجلی کے بعد ہی آتا ہے کہ ان سب چیزوں کی دستیابی بھی بجلی ہی کی مرہون منت ہے۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اس وقت ملک میں کوئی ایک بھی گھر، حتیٰ کہ کوئی جھگی، جھونپڑی بھی ایسی نہیں ہو گی جس کا ان ڈسکوز سے تعلق نہ ہو۔
ستم یہ ہے کہ ملک میں بجلی کے حصول کا واحد ذریعہ یہی ڈسکوز ہیں۔ کوئی متبادل موجود ہوتا تو آدمی کہیں اور سے اپنی پسند کی بجلی خرید لیتا۔ سولر کی صورت میں ایک نیا ذریعہ سامنے آیا ہی ہے تو وہ ویسے ہی اتنا مہنگا اور ناپائیدار ہے کہ فی الحال ہر کس و ناکس اس پر پیسہ خرچ کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دوسرے لفظوں میں سرکاری بجلی پر انحصار بدستور لوگوں کی مجبوری ہے اور اسی مجبوری کے ہاتھوں لوگ مسلسل ذلیل ہو رہے ہیں۔ بھاری بل ادا کرنے کے باوجود لوگوں کو ہمہ وقت بجلی کے گونا گوں مسائل کا سامنا رہتا ہے لیکن ڈسکوز کی طرف
سے ان مسائل کے حل کے کوئی ٹھوس اقدامات دیکھنے میں نہیں آتے۔ ڈسکوز اگر نجی کمپنیاں ہوتیں تو شاید زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتیں لیکن سرکاری کمپنیاں ہونے کے باعث ان کے حکام اور عملے کا مزاج ابھی تک سرکاری ہی ہے۔ یہ لوگ بجلی سے متعلقہ مسائل کے حل کے لیے اس فرض شناسی اور مستعدی کا مظاہرہ نہیں کرتے جس کے یہ مسائل متقاضی ہوتے ہیں۔ شاید سرکاری ملازم ہونے کے باعث عوام سے تعاون کرنا ان کی سرشت ہی میں شامل نہیں حالانکہ جتنا پیسہ عوام کا یہ ڈسکوز نچوڑتی ہیں انہیں تو سارے کام خود کار طریقے سے ہی کرتے رہنا چاہیے، کسی شہری کی طرف سے شکایت درج کرائے جانے یا کسی مخصوص علاقے کے عوام کی طرف سے کوئی احتجاجی مظاہرہ شروع ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
مسائل حل کرنے کا تو ذکر ہی کیا، ان ڈسکوز نے تو عوام کو پریشان کرنے کے نت نئے طریقے وضع کر رکھے ہیں۔ لائن لاسز کو پورا کرنے کے لیے لوگوں کے استعمال شدہ یونٹس سے زیادہ ریڈنگ لکھ کر بلوں کو دگنا تگنا کر دیا جاتا ہے اور لوگ بے چارے بل ٹھیک کرانے کے لیے انہی دفتروں چکر لگاتے میر کے اس شعر کی تفسیر بنے رہتے ہیں:
میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
وہ لوگ اس قسم کی پریشانی سے بچ جاتے ہیں جو لائن مین یا کسی متعلقہ اہلکار کی مٹھی گرم کر دیتے ہیں۔ مٹھی گرم کرنے والوں کو تو نئے میٹر بھی مل جاتے ہیں ورنہ عام لوگوں کو یہی لالی پاپ دیا جاتا ہے کہ ابھی میٹر دستیاب نہیں، جلد نئے میٹر آئیں گے تو آپ کو بھی مل جائے گا اور یہ ”جلد“ بھی کئی کئی مہینے طویل ہوتا ہے۔ چونکہ مٹھی گرم کرنے والے معاملے کی کوئی رسید اور ثبوت نہیں ہوتا، اس لیے کوئی بھی اہلکار مانتا ہی نہیں کہ اس نے کوئی مخصوص خدمت انجام دینے کے عوض کوئی نذرانہ یا عوضانہ وصول کیا ہے۔ یوں یہ دھندا چلتا رہتا ہے بلکہ الٹا شکایت کرنے والا ہی پریشان ہوتا ہے تاہم مٹھی گرم کرنے کا الزام اس بار ایک ایسے ذریعے سے سامنے آیا ہے جسے جھٹلانا کم از کم لیسکو حکام کے بس میں تو نہیں۔ اس الزام پر ذمہ دار افسروں اور ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی بھی عمل میں آ چکی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف جو ماضی میں خود بھی بجلی اور پانی کے وزیر رہ چکے ہیں، حال ہی میں ان کا ایک ٹویٹ منظر عام پر آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے گھریلو ملازم کے گاو¿ں کا ٹرانسفارمر جل گیا۔ انہوں نے لیسکو کے کسی سابق اعلیٰ عہدیدار سے ٹرانسفارمر ٹھیک کرنے کی سفارش کی جس کے بعد ٹرانسفارمر ٹھیک تو ہو گیا لیکن لیسکو کا عملہ گاو¿ں والوں سے 80 ہزار روپے اینٹھ کر لے گیا۔ خواجہ صاحب کے ٹویٹ پر لیسکو کے پانچ ذمہ داران کو معطل کیا جا چکا ہے جن میں ایگزیکٹو انجینئر پھول نگر ڈویژن، ایس ڈی او رورل سب ڈویژن پتوکی، ایک لائن سپرنٹنڈنٹ اور دو لائن مین شامل ہیں۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ خواجہ صاحب کی شکایت پر لیسکو کے عملے کے خلاف کارروائی عمل میں آ گئی ہے لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لیسکو کے ہاتھوں پریشان ہزاروں شہریوں اور ملک بھر میں لیسکو جیسی درجن بھی ڈسکوز کی چیرہ دستیوں کا شکار لوگ کہاں جائیں، کس سے شکایت کریں کہ ان کے ٹویٹس کوئی دیکھتا ہے نہ ان کی فریادیں کوئی سنتا ہے۔
گرمی کا موسم آتے ہی ہر دوسرے گلی محلے میں نصب فرسودہ قسم کے ٹرانسفارمر خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں جن کے متبادل ٹرانسفارمر کئی کئی پہروں بعد نصب کیے جاتے ہیں اور لوگ اس عرصے کے دوران گرمی سے جھلستے رہتے ہیں۔ لوگوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے گھروں میں یو پی ایس لگوا رکھے ہیں تاکہ لوڈ شیڈنگ یا ٹرانسفارمر اڑنے کی صورت میں بجلی کا سلسلہ منقطع نہ ہو اور وہ یہ عرصہ سکون سے گزار سکیں لیکن ٹرانسفارمر کی تبدیلی میں اتنا زیادہ وقت لیا جاتا ہے کہ یوپی ایس بھی کام کرنا چھوڑ جاتے ہیں اور لوگوں کو اس کے بعد بھی کئی کئی گھنٹے گرمی برداشت کرنا پڑتی ہے۔ لوگ دنیا کی مہنگی ترین بجلی خریدنے کے باوجود دن میں تسلی سے کام کر سکتے ہیں نہ راتوں کو سکون سے سو سکتے ہیں۔
کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں