Wed, September 16, 2026

ہم کسی سے کم نہیں

ہم کسی سے کم نہیں

فرانسیسی عوام نے کبھی سوچا تک نہ ہو گا کہ فرانس کی دنیا بھر میں کبھی ایسی ذلت ہو گی جو آج کل ہو رہی ہے۔ فرانس کے ستارے گردش میں ہیں، پہلے فرانس کے بھارت کو دیئے گئے رافیل طیاروں کی پاکستان کے پائلٹوں کے ہاتھوں پٹائی ہوئی، اب فرانسیسی صدر کی بیگم کے ہاتھوں پٹائی کی خبریں اور ویڈیو سامنے آگئی ہے۔ رافیل طیارے گرے تو فرانس کی ساکھ گر گئی، فرانسیسی صدر کی پٹائی کے بعد تو فرانس کی ناک ہی کٹ گئی ہے۔ جنگوں میں جنگی جہاز گرتے ہی رہتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن کسی بھی ملک کے سربراہ کی بیوی کے ہاتھوں پھینٹی لگنا معمولی بات نہیں۔ کسی ملک کے ریٹائرڈ سربراہ مملکت کی بیوی کے ہاتھوں پھینٹی لگ جائے تو بات پھر بھی کچھ سمجھ میں آتی ہے لیکن حاضر سروس صدر کی مرمت سنگین معاملہ ہے۔ فرانس کے باسیوں کے پاس عقل ہوتی تو وہ یہ معاملہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے پاس لے جاتے۔ فرانسیسی مردوں میں غیرت نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ اس زیادتی کے خلاف آواز بلند کرتے اور واقعے کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالتے۔ ملک میں شٹر ڈائون ہڑتال کی کال دیتے۔ تمام شادی شدہ مرد بیویوں کا بائیکاٹ کرتے اور کم از کم چار ویک اینڈ تک ان سے احتجاجی دوری کا اعلان کرتے۔ اقوام متحدہ عرصہ دراز سے فارغ بیٹھی ہے۔ اس معاملے کو وہاں بھی لے جایا جا سکتا ہے تاکہ وہ ہڈحرامی سے بچ سکیں اور رزق حلال کر سکیں۔ ثابت ہوا فرانسیسی بے حس قوم ہیں ،فرانسیسی صدر کی مرمت کے حوالے سے پاکستان میں بھی کافی بے حسی پائی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں حد درجہ سنگین معاملات کا مذاق بنا دیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں ایسا ہی رویہ سامنے آیا ہے خاص طور پر پاکستان میں کھمبیوں کی طرح اُگنے والی روحانی شخصیات تاش کے پتے سامنے پھیلا کر قسمت کا حال بتانے والیوں کافی کے کپ میں مستقبل کی جھلک دکھانے والیوں، ستاروں کی چال پر کم اور فلمی ستاروں کے چال چلن میں دلچسپی رکھنے والے پامسٹوں، پاکستان کے مستقبل کے وزرائے اعظم کے اقتدار کا فیصلہ کرنے والے ماہرین علم نجوم اور ہر جمعرات اپنے مریدوں سے لاکھوں کروڑوں روپے بطور نذرانہ اینٹھنے والی پہنچی ہوئی سرکاروں نے اپنے فرائض میں غفلت برتی ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے ہاتھ آئی ہوئی ایک بزنس اپرچونٹی کو ضائع کیا ہے۔ ہم بطور قوم ایسا ہی کرتے ہیں جن سبجیکٹ سپیشلسٹ کا ذکر کیا گیا وہ بتا سکتے تھے کہ فرانس پر کسی نے تعویز کرا دیئے ہیں تاکہ وہ تباہ و برباد ہو جائے۔ تعویز کرانے والوں کی نشانیاں بھی بتائی جا سکتی تھیں کہ ان کے رنگ گورے قد چھوٹے اور ناک پھینے ہیں۔ علم کے زور پر یہ بھی بتایا جا سکتا تھا کہ فرانس پر کسی چڑیل یا جن کا سایہ ہے، اس کا توڑ کرنے کا طریقہ مع ہدیہ بیان کیا جا سکتا تھا۔ اہل فرانس کو بتانا ضروری تھا کہ اس کے سر پر سوار جن جب جائے گا تو ان کا کوئی بڑا نقصان کر کے جائے گا لہٰذا بہتر ہے اس کی دست بُرد سے محفوظ رہنے کے لئے میگنم سائز کی بوتلوں سے بھرے کارٹن سے لبالب بھرے کنٹینر اپنے سر سے وار کر پاکستان بھجوائیں تاکہ ان سے عید کی خوشیاں دوبالا ہو جائیں اور فرانس کے حق میں اجتماعی دعائیں ہو سکیں۔ فرانس کو کسی پچھل پیری نے اپنے پیچھے لگا رکھا ہے تو اس سے جان چھڑانے والے ماہرین کی بھی پاکستان میں کمی نہیں ہے، انہیں چاہئے تھا کہ اپنی خدمات پیش کرتے اور انہیں بتاتے کہ فرانس کی نیشنلٹی کے بدلے وہ فرانس پہنچ کر اس پچھل پیری کو اپنے پیچھے لگا لیں گے یوں اس سے اہل فرانس کا پیچھا چھوٹ جائے گا۔
فرانسیسی صدر کی راہنمائی کرنے کے قابل ماہر نفسیات صرف پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بات ان کے کانوں تک پہنچانا ضروری تھا۔ یہ کام بنیادی طور پر فرانس میں پاکستانی سفیر کو کرنا چاہئے تھا جن کے پاس آج کل کرنے کو کوئی کام نہیں ہے۔ انہوں نے بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام نہیں دیں ورنہ اب تک فرانسیسی صدر پاکستان کا دورہ کرنے کا پروگرام فائنل کر چکے ہوتے، اس کے یقینا دو فائدے ہوتے ایک تو ہم اور ہمارے ماہرین نفسیات انہیں بتاتے کہ ہتھ چُھٹ بیگم کو کیسے ڈیل کرتے ہیں۔ دوسرے انہیں رافیل طیاروں کی موت کی پوسٹمارٹم رپورٹیں دکھا کر بتایا جا سکتا تھا کہ وہ اس انجام کو کیوں پہنچے۔ ہم فرانسیسی صدر کو بلامعاوضہ خدمات پیش کرنے کی بجائے ابتدا میں کہہ دیتے کہ ہم ان پر اپنی فیس کا مالی بوجھ نہیں ڈالیں گے بلکہ مال کے بدلے مال کے اصول پر محبت بڑھا سکتے ہیں۔ ہم انہیں مشورے دیتے اور ان سے درجن بھر رافیل طیارے اینٹھ لیتے، یہ واحد کام ہے جس میں دنیا بھر میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ فرانسیسی صدر نے ہمارے جھانسے میں بہ آسانی آجانا تھا کیونکہ اس کی جان پر بنی ہوئی تھی۔ وہ دن بھر جو مرضی کرتا پھر رات کو تو اس نے گھر ہی جانا ہوتا ہے جہاں وہی بیوی اور وہی چھترول کا خوف۔
فرانس سے اینٹھے گئے طیارے ہم کچھ کم قیمت پر کسی اور ملک کو فروخت کر کے قیمتی زرمبادلہ کما سکتے تھے جس کی ہمیشہ ہی ہمیں ہمارے یہاں کمی رہی ہے۔ ہم اس کے حصول کیلئے گزشتہ تین چار برس سے خاصے خوار ہو رہے ہیں۔ اب تو بیچنے کیلئے بھی سودا نہیں رہا۔ فرانس کے صدر پر ہم ایسا احسان کر سکتے تھے جسے وہ چاہتا بھی تو عمر بھر نہ اتار سکتا تھا۔ اسے چالیس روز کیلئے اپنا مہمان رکھتے ، اسے اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتے، اسے مشرف بہ اسلام کرتے اور ساتھ ہی اس کی چار شادیاں کرا کے دھوم دھام سے رخصت کرتے۔ یہ خبر فرانسیسی صدر کی بیگم تک پہنچتی تو اسے لگ پتہ جاتا کہ شریف شوہر کی پھینٹی لگانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ وہ رو رو کر اپنے شوہر کے پائوں میں گر جاتی، معافیاں مانگتی اور آئندہ اچھے چال چلن کی گارنٹی دیتی۔ اس موقع کیلئے ہم فرانسیسی صدر کو پہلے سمجھا دیتے کہ اسلام میں ایک وقت میں چار کی گنجائش ہے، پانچویں کی نہیں، پس وہ اسے فوراً فارغ کر دیتا اور تین کپڑوں میں نکال باہر کرتا پھر بیگم صاحبہ کو آٹے اور دال کا بھائو معلوم ہو جاتا کیونکہ اس سے پہلے تو آٹا دال خریدنے کھانا پکانے برتن دھونے پائوں دبانے اور سر کی مالش کرنے والا خاوند موجود تھا جو کما کر لاتا اور گھر چلاتا تھا۔ بیگم صاحبہ نے تو کبھی زندگی بھر کسی چیز کا بھائو پوچھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔
وہ لوگ بہت خوش قسمت ہیں جن کے ہزاروں دوست ہوں اور سبھی بہت اچھے ہوں۔ میں بھی ایسے خوش قسمت لوگوں میں سے ایک ہوں، میرے چالیس فیصد دوست فرانسیسی صدر جیسے ہیں لیکن ابھی تک ان کی بیوی کے ہاتھوں کی مرمت کی وڈیو منظرعام پر نہیں آئی۔ چالیس فیصد دوست سابق صدر امریکہ بل کلنٹن جیسے ہیں جو ’’سگار ٹیکنالوجی‘‘ پر یقین رکھتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے کیلئے مونا لیونسکی کے حالات زندگی پڑھ لیتے، میرے دس فیصد دوست ایک سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ وہ لمبے چوڑے رومانس کے قائل نہیں۔ وہ پہلے ہی کولڈ ٹیسٹ کے بعد نکاح کا دھماکہ کر ڈالتے ہیں۔ باقی دس فیصد ان تمام صلاحیتوں سے محروم ہیں۔ یہ دوست بہت عظیم ہیں۔ پاکستان کے زیادہ تر دوست ایسے ہی ہیںکسی کام جوگے نہیں جبکہ ہم بھی کسی سے کم نہیں۔

ٹیگز: