Wed, September 16, 2026

سپیس ایکس کے ممکنہ اے آئی فون کی تفصیلات سامنے آگئیں، رپورٹ

سپیس ایکس کے ممکنہ اے آئی فون کی تفصیلات سامنے آگئیں، رپورٹ

اوٹاوا: امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے منسوب ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک جدید اسمارٹ ڈیوائس تیار کر رہی ہے، تاہم ایلون مسک نے ان اطلاعات کی تردید کر دی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ ڈیوائس کا ابتدائی نمونہ (پروٹوٹائپ) سرمایہ کاروں اور شیئر ہولڈرز کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈیوائس کا ڈیزائن انتہائی باریک ہوگا اور ظاہری طور پر یہ ایک روایتی اسمارٹ فون سے مشابہت رکھے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی ڈیوائس میں عام اسمارٹ فونز کی بنیادی سہولتوں کے ساتھ مصنوعی ذہانت پر مبنی فیچرز کو مرکزی حیثیت دی جائے گی تاکہ صارفین کو زیادہ ذہین اور خودکار تجربہ فراہم کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق اسپیس ایکس اس منصوبے کے ذریعے ایسی اے آئی ہارڈویئر ٹیکنالوجی عام صارفین تک پہنچانا چاہتی ہے، جو مستقبل میں ایپل جیسی بڑی کمپنیوں کو ٹکر دے سکے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ڈیوائس ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور روایتی اینڈرائیڈ یا آئی او ایس کے بجائے ایک خصوصی طور پر تیار کیے گئے آپریٹنگ سسٹم پر کام کرے گی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اس میں کوالکوم کا طاقتور پراسیسر نصب ہوگا، جبکہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں ایلون مسک کی کمپنی xAI کے تیار کردہ اے آئی ماڈلز سے حاصل کی جائیں گی۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پروٹوٹائپ کی تیاری میں ایلون مسک کے "ایوری تھنگ ایپ" یا "سپر ایپ" کے تصور کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت مختلف ڈیجیٹل خدمات ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گی۔

اگر یہ منصوبہ حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو صارفین ایک ہی ڈیوائس کے ذریعے پیغام رسانی، ڈیجیٹل ادائیگیوں، آن لائن خریداری، رائیڈ شیئرنگ، سوشل نیٹ ورکنگ اور دیگر روزمرہ کی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

تاہم فی الحال ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ ایلون مسک نے اس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

اگر مستقبل میں یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو اسپیس ایکس بھی ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کی صف میں شامل ہو جائے گی جو مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی نسل کی ڈیوائسز تیار کرنے پر کام کر رہی ہیں۔ اس شعبے میں اوپن اے آئی اور ایپل سمیت دیگر بڑی کمپنیاں بھی سرگرم ہیں۔

ٹیگز: