ایک عجیب مسلسل گھٹن زدہ موسم ہے۔ بظاہر ارد گرد زندگی رواں دواں سی لگتی ہے لیکن ہر شخص کے چہرے پر ایک پریشانی اور بیزاری نمایاں ہے۔ ایک مزدور اور فیکٹری کا مالک،چھوٹے ملازمین اور افسران، سیاستدان اور جرنیل، جج اور وکیل، لبرل اور مولوی، کسان اور جاگیردار، صحافی اورمیڈیا مالک یعنی جس سے بھی ملو ناخوش اور غیرمطمئن نظر آتا ہے۔ ہرایک شخص دوسرے کو اپنے مسائل کی وجہ سمجھتا ہے۔ سیاستدان بظاہرتو فوجی اشرافیہ کادم بھرتے ہیں لیکن پرائیویٹ محفلوں یا اقتدار سے باہر نکل کر جرنیلوں کومسائل کی جڑ قرار دیتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ دوبارہ اقتدارمیں آنے کے لئے انھی سے مدد بھی مانگ رہے ہوتے ہیں۔ جرنیل اپنے لائے گئے سیاستدانوں کونالائق سمجھتے ہیں لیکن ہائبرڈ سسٹم چلانے کے لئے ان کی ہر طرح سے حفاظت بھی کرتے ہیں۔ وکلاء ان ججز سے نالاں رہتے ہیں جو کہ انھی وکلاء چیمبرز سے نکل کر ان کرسیوں پربراجمان ہیں۔ دونوں ہی پاکستان کے قانون اور آئین کوجدید سماجی تقاضوں سے متصادم اور بوسیدہ قرار دیتے ہیں لیکن اس کی سپریمیسی کے لئے جلسے اور تقریریں بھی کرتے ہیں۔ مزدور اپنے سیٹھ کی مہنگی پراڈکٹ بنانے میں دل و جان سے کام کرتا ہے اور پھر کم تنخواہ اورمہنگائی کا رونا روتاہے۔ فیکٹری کا مالک سیٹھ بھی مہنگائی کی وجہ سے کم منافع اور بڑھتے ٹیکسوں پرنالاں نظر آتا ہے۔ سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافے پرخوش نہیں ہیں کہ حکومت ان کی ایک جیب میں ڈال کر دوسری جیب سے نکال لیتی ہے۔ پاکستان میں انگریزی نظام کے طرز پر قائم بیوروکریسی کو کام کرنے کی عادت ہی نہیں ہے۔ اب بدلتے تقاضوں میں پرفارم کرنے کے دباؤ نے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ سرکاری وسائل کم ہونے پر اداروں کو خودمختاربنا کرریونیو جنریشن کے ٹاسک دیئے جا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں اس خبر نے بہت حیران کیا کہ پنجاب کی ٹریفک پولیس کو 11 ارب 40 کروڑ چالان جرمانوں کی مد میں اکٹھا کرنے کا ٹاسک ملا ہے۔ یہاں سے اس نظام کو چلانے والوں کا مائنڈ سیٹ سامنے آتا ہے کہ ایک کریمنل ایکٹیویٹی کو فنانشل ایکٹیویٹی میں کیسے تبدیل کیا جاسکتاہے۔ اگر آپ گہرائی میں جا کر تجزیہ کریں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں جتنے بھی انفورسمنٹ کے ادارے موجود ہیں یا تشکیل دیئے جا رہے ہیں ان کا مقصد معاشرے میں سدھار،عوام کے لئے آسانیاں اور سسٹم کو بہتر کرنے میں کردار ادا کرنے کی بجائے عوام کے لئے مشکلات اوران کی جیبوں میں بچ جانے والے پیسوں کو بنام سرکار نکالنے کے طریقوں پر غور کرنا اور بروئے کار لانا ہے۔اس ضمن میں ایف بی آر سر فہرست ادارہ ہے جوعوام کی کمائی کو کشید کرنے میں ید طولیٰ رکھتا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس کولیکشن کا نظام انتہائی پیچیدگیوں اور یکطرفہ سوچ سے چلایا جاتا ہے۔ ایف بی آر کے افسران اور سرکار کی پالیسیوں سے یہ لگتا ہے کہ وہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے ساتھ ٹیکس دینے والے افراد کو ذلیل بھی کرنا چاہتے ہیں۔ پچھلے دنوں فیڈرل ٹیکس محتسب نے چین اسٹور ایسو سی ایشن کی جانب سے دائر درخواست کے فیصلے میں ایف بی آر کو تنبیہہ کی ہے کہ وہ آرگنائز ریٹیل سیکٹرکی دکانیں سیل کرنے،جرمانوں اوربرانڈ مالکان کوہراس کرنے کی بجائے اپنے ٹیکنیکل نظام کو ٹھیک کریں۔ پی او ایس کی خرابیوں سے پیشگی آگاہ کریں۔ لیکن ایف بی آرکے لئے یہ ایسے ہی ہے جیسے بابر اعوان نے عدالت کے باہر کھڑے ہو کرکہا تھا کہ ’نوٹس ملیا، ککھ نہ ہلیا‘ْ۔ بلکہ حکومت نے 37 ڈبل اے کے نئے قانون کے ذریعے ایف بی آر کو کاروباری حضرات پرمزید سختی، گرفتاریوں اور مالی معاملات پر کنٹرول کے مزیداختیارات سے نوازدیا ہے۔ اس ملک میں رہنے کے لئے خاموشی سے ٹیکس نما بھتہ ادا کرتے رہیں تو ٹھیک ہے لیکن اپنے حقوق کی آواز اٹھانے والے کو نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ میرے ایک دوست جوکہ ٹیکس کے بڑے ماہر وکیل ہیں۔ ایک بزنس مین کا واقعہ سنا رہے تھے کہ انھیں آٖڈٹ کے مسائل پر نوٹسزجاری ہوئے بات گرفتاری تک جاپہنچی۔ اس بزنس مین نے وکیل صاحب سے کہا آپ جانتے ہیں کہ میرے معاملات کلیئر ہیں لیکن میں اس افسر کو 25 لاکھ دینے کو تیار ہوں بس گرفتاری نہیں ہونی چاہئے کیونکہ کچھ دنوں بعد میری بیٹی کی شادی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو میری بیٹی کا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ میں عدالت میں بے گناہ ثابت ہوبھی گیا تو دنیا کو کیسے سمجھاؤں گا۔ خیر وکیل صاحب جو بہت معاملہ فہم ہیں انھوں نے متعلقہ افسر جو کہ ان کا شناسا تھا، بات کی اور معاملہ سمجھایا۔ اس بزنس مین کا کام بغیر کسی رشوت کے ہو گیا۔ لیکن وہ اتنا ڈراہوا تھاکہ اس نے وکیل صاحب سے کہا کہ آپ نے میری بیٹی کی شادی پرضرور آنا ہے۔ کہیں اس دن کوئی مسئلہ نہ کھڑا ہوجائے۔ یہ ہے ریاستی جبر اور خوف کی فضا۔ جہاں عام آدمی کی عزت اور جان دونوں محفوظ نہیں ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت ہر سال لاکھوں سیاحوں کی آمد پر فخریہ کارکردگی پیش کرتی ہے لیکن دریائے سوات میں طغیانی کے باعث 13 انسان جان کی بازی ہار گئے۔ اگرضلعی انتظامیہ، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ، صوبائی حکومت کی متعلقہ وزارت نے سیلابی ریلوں کی اطلاع اور ہنگامی ریسکیو انتظامات کا مربوط نظام بنایا ہوتا تواتنا بڑا نقصان نہ ہوتا۔ اس سے اگلے دن بلوچستان میں دو گاڑیاں
مسافروں سمیت بہہ گئیں لیکن ریاست کے سر سے جوںتک نہیں رینگی۔ کے پی میں واقعات پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرتی پنجاب حکومت کے اپنے ضلع پاکپتن میں ایک ہفتے کے دوران 20 نومولود بچے ہسپتالوں میں غفلت کے باعث جاں بحق ہو گئے۔ ان معصوم جانوں کے زیاں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ ان سوالوں کے جواب سے شاید ہمارے حکمران طبقے اور ان کے آلہ کاروں کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔یہاں کے مولوی، لبرل، صحافی، میڈیا مالک، کارخانہ دار، بیورو کریٹ، جاگیردار، سیاستدان، جج اور جرنیل کا اپنے مفادات پر مبنی مختصرایجنڈا ہے۔ یہ سب اس نظام کو بچانا چاہتے ہیں جو انھیں تحفظ فراہم کرتا ہے اور یہ اختیار فراہم کرتا ہے کہ وہ اکثریتی عوام کے حقوق پر قانونی غاصب کے طور پر کسی بھی نام اورعنوان سے براجمان رہیں۔ پاکستان کے موجودہ نظام کی آبیاری سامراج کے چھوڑے گئے ترکے، گروہی، مفاداتی اور سرمایہ داری ذہنیت سے کی گئی ہے۔ پاکستان کا ہر شخص اس نظام کی نااہلی کی زدمیں ہے۔ اس کا ادراک اور شکار ہونے کے باوجود اسی نظام سے چمٹا ہوا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ بطور مسلمان ہم ظلم کو قبول کرنے سے انکار کریں۔ دین رحمت کے قرآنی اصول و قوانین کو ریاستی نظام کے طور پر اپنائیں اوردنیا میں معزز قوم کے طور پر انسانیت کیلئے رہنما کردارادا کریں۔