Wed, September 16, 2026

مقبرے سے مزار تک

مقبرے سے مزار تک

’’چناکلے‘‘ سے ’’قونیہ‘‘ کا فاصلہ تقریباً ساڑھے سات سو کلومیٹر ہے اور اپنی گاڑی پر سفر کیا جائے تو یہ فاصلہ دس گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ ہم اہلِ لاہور کے لیے مریدِ ہندیؒ کے توسط سے پیرِ رومیؒ تک پہنچنے کا سفر چند ثانیوں کا مرحلہ ہے۔ اصل فاصلہ تو معنوی فاصلہ ہوتا ہے، اصل فراق تو معنوی فراق ہے۔ مثنوی معنوی تک پہنچنے کے لیے کلامِ اقبالؒ کلیدِ بے مثل ہے۔
الحمدللہ! ہمارے بیٹے کو ہماری سفری ترجیحات کا علم ہے، اس لیے اس نے ہمارے لیے دو دن قونیہ کے لیے مخصوص کر رکھے تھے۔ قدرتی طور پر ہوا یوں کہ قونیہ ہی میں اسے اپنی کمپنی کے کام بھی جانا تھا، چانچہ اس نے ہمیں ساتھ لے لیا۔ ایک پنتھ دو کاج۔ چناکلے انتہائی مغرب میں ہے، یہاں کے بعد یونان شروع ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف قونیہ ترکی کے وسط میں ہے، مشرق کی طرف تقریباً آدھا ترکی طے کرنا ہوتا ہے۔ صراطِ مستقیم تو یہی تھا کہ چناکلے سے براستہ ’’برسا‘‘ اور ’’ایسکی شہر‘‘ سیدھے قونیہ پہنچ جاتے، مگر بھٹکنے کی عادت کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ بھلا ہو، اس نظرِ کرم کا، کہ بھٹک کہ ہم جو سنبھل گئے۔ اس زمینی سفر میں بھی ہمارے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوتا رہا۔ راستے میں معلوم ہوا کہ راہِ راست سے بس ڈیڑھ گھنٹہ بائیں جانب اگر ’’بھٹک‘‘ لیا جائے انقرہ کی سیر بھی ہو سکتی ہے۔ انسان فطرتاً حریص واقع ہوا ہے۔ سوچا، لگے ہاتھوں ایک مقبرے کی سیاحت بھی کر لی جائے۔ ہم اس پیشکش پر راضی ہو گئے۔ راستے میں کمال ازم پر گفتگو شروع ہو گئی۔ اس بحث پر مزید بحث کی یہاں گنجائش نہیں۔ دل مالش کرنے لگا۔ قصہ مختصر، ہم نے اپنا فیصلہ سنایا کہ ہم انقرہ نہیں جائیں گے، بلکہ پہلے سے طے شدہ  پروگرام کے مطابق قونیہ ہی سدھاریں گے۔ انقرہ کے لیے واپسی پر دیکھیں گے۔ اسی اثنا راستہ اپنا رخ موڑ چکا تھا۔ منزل دور ہو چکی تھی۔ اب صورتِ حال یہ تھی کہ ہم شاہراہ کی بجائے ایک عام سی سڑک پر گاڑی دوڑا رہے تھے۔ یعنی اصل راستہ پاؤں سے نکل چکا تھا۔ اچانک ایک بورڈ پر نظر پڑی … ’’تربت یونس ایمرے‘‘۔ دل بلیوں اچھلنے لگا۔ فوراً فرمائش داغ دی کہ ہم پہلے یہاں حاضری دیں گے۔ بیٹا کہنے لگا، یہاں تو صرف بورڈ نصب، وہ جگہ یہاں اندر دائیں طرف چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک ویران وادی میں  ہے۔ میں نے کہا: جو ہو، سو ہو، ہمیں ہر صورت جانا ہے۔ چنانچہ ہم شاہراہ سے نیچے اترے اور ایک خوبصورت وادی ہماری نگاہوں کی ضیافت کر رہی تھی۔ یہاں ایک ننھی منی سڑک تھی جو کبھی دائیں سے بائیں اور کبھی دائیں سے بائیں لہراتی ہوئی، 
بل کھاتی ہوئی نیچے اتر رہی تھی۔ یہ سارا راستہ ویران تھا، یہاں کوئی آبادی، کوئی گاؤں نظر نہیں آیا۔ تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد اچانک ایک پُر فضا میدان دکھائی دیا۔
یہاں پہنچ کر ایسے لگا جیسے چپکے سے ویرانے میں بہار آ جائے۔ یہاں ایک وسیع و عریض یادگار تعمیر کی گئی ہے۔ یہاں راہ چلتے ہوئے لوگ نہیں آتے۔ وہی آتے ہیں جو  یہاں قصدِ زیارت کے ساتھ آتے ہیں۔ ارد گرد کوئی آبادی نہیں۔ تربت سے ذرا فاصلے پر ایک خوبصورت مسجد ہے۔ اس یادگار کی طرف مڑنے والے راستے پر، ایک کلومیٹر کے قریب سڑک کے دونوں اطراف ہر چند قدم کے فاصلے پر ایک کے بعد ایک، خوبصورت تختیاں نصب ہیں۔ ان تختیوں پر یونس ایمرےؒ کا عشق و مستی میں ڈوبا ہوا عارفانہ کلام سنگ مرمر پر لکھا ہوا ہے۔ یونس ایمرےؒ مولانا رومیؒ کے ہم عصر تھے، عمر میں ان سے تقریباً چالیس برس بڑے تھے۔ ان دو ہستیوں کی ملاقات بھی رقم ہے۔ کہتے ہیں یونس ایمرےؒ نے مولانا رومؒ سے کہا، میں نے سنا ہے تم نے کئی جلدوں پر مشتمل منظوم کلام لکھا ہے۔ اگر میں یہ سارا کلام لکھتا تو بس اسے ایک شعر میں قلم بند کر دیتا۔ پھر آپؒ نے ایک شعر پڑھا،  مفہوم  جس کا کچھ یوں تھا: ’’میں کچھ نہ تھا، میرے لیے کوئی نام نہ تھا، اور پھر کچھ نہ ہونے سے میں ہو گیا، اور اب گوشت پوست کے پیکر میں آنے کے بعد میرا نام جلال الدین ہے‘‘۔ سبحان اللہ! بڑی باتیں ہیں، بڑوں ہی کو زیب دیتی ہے۔ ہم ایسے تو ان باتوں کو بعینہ نقل بھی نہیں کر سکتے، بے ادبی کا احتمال رہتا ہے۔ کیفیت کے بغیر کیفیت والا کلام نقل کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ حال کا حال قال سے کیسے بیان ہو! وضو کے بغیر کتابِِ مکنون کو کیسے کوئی چھو سکتا ہے۔
بھلا ہو ہماری بہو کا … ہمارا بہت خیال رکھتی ہے، اللہ اسے برکت دے … اس نے ہمارے موبائل پر گوگل ٹرانسلیٹ کی ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کر دی ہے، اب ہم کسی بھی ترکی عبارت کی طرف کیمرے کا لینز کرتے ہیں اور ساتھ ہی انگریزی میں اس کا ترجمہ موصول ہو جاتا ہے۔ جہاں گاڑی پارک کی، وہاں قریب ترین کتبے پر کیمرہ فوکس کیا۔ ترجمہ سامنے آیا تو دم بخود رہ گئے، معلوم ہوا،آپؒ کے یہ اشعار حسبِ حال ہیں۔ وہاں مرقوم بند کا مفہوم یوں تھا: ’’غفلت کی دنیا پر اکتفا کرنے والا کوئی خبر نہیں لاتا ہے، نہ یہاں کی، نہ وہاں کی۔ اگر تُو کوئی خبر پانا چاہتا ہے، تو راتوں کو اٹھ، ایک دَر کا ہولے، اور شب بیداری کر!‘‘ یونس ایمرےؒ نے تمام شاعری مقامی اناطولوی ترکی زبان میں کی ہے، یہ موجودہ ترکی زبان کی ابتدائی شکل ہے۔ اس وقت یہی اناطولوی ترکی ہی مقامی زبان تھی، فارسی اور عربی ایلیٹ کلاس کی زبانیں سمجھی جاتیں۔ ترک زبان میں عروض باندھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ حکومت اس شخصیت کو اپنا قومی اور تاریخی ورثہ سمجھتی ہے۔ یونیسکو نے 1991ء کو یونس ایمرےؒ کا سال قرار دیا تھا۔ یہاں انہیں ایک قدیم عوامی شاعر کے طور پر لیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ ایک عارف باللہ شخصیت تھے۔ پند و نصائح کے لیے شاعری فقط ایک ذریعہ اظہار تھا۔ آپؒ نے اپنے مرشد جناب ’’تابدوک ایمرےؒ‘‘ کی خدمت میں چالیس برس گزارے۔ کہتے ہیں کہ آپ کے اشعار کی تعداد تین ہزار تھی، ایک جاہل گورنر جسے آپ کا کلام سمجھ نہیں آیا، اس نے اُس پر  کفر و شرک کے فتوے لگا کر ضائع  بھی کیا۔ ایک ہزار اشعار کی جلد اُس نے نذرِ آتش کر دی، ایک ہزار اشعار اس نے تالاب میں پھینکوا دئیے۔ قریب تھا کہ وہ باقی کلام بھی پانی میں پھینک دیتا، ناگہاں اس کی نظر ایک شعر پر پڑی، اس شعر میں اس کا اپنا نام موجود تھا، لکھا تھا کہ اس نام کا ایک حاکم میرا کلام ضائع  کرے گا۔ اس نے توبہ کی اور باقی کلام واپس کر دیا۔ وہی ایک ہزار اشعار ابھی تک باقی ہیں۔ ان میں بیشتر اہلِ ترک کے ہاں زبان زدِ عام ہیں۔ یہ لوگ اکثر محاورے کے طور پر  یونس ایمرےؒ کے اشعار اپنی گفتگو میں استعمال کرتے ہیں۔ بڑے فخر سے اپنے بچوں کے نام یونس ایمرے رکھتے ہیں۔ اس دنیائے آب و گل میں یونس ایمرےؒ کا گزر 1238ء سے لے کر 1329ء تک ہوا۔ کلام رہتی دنیا تک رہے گا۔ ایمرےؒ کا کلام امر ہے۔
یہ مقام جسے یہ لوگ یادگار کہتے ہیں، یہاں تین مختلف مقامات پر آپؒ کی تربت بنائی گئی ہے۔ قطعی طور پر معلوم نہیں کہ آپ کا وجود کس تربت میں قیام پذیر ہے۔ ممکن ہے حکومتی حلقے اس شخصیت کو مذہبی شناخت سے دور رکھنا چاہتے ہوں۔ ایک تربت شروع میں ہے، ایک وسط میں اور ایک آخر میں۔ اس فقیر کو مقام وسط ہی مقام قیام محسوس ہوا۔ اِس کی کچھ تصدیق یوں بھی ہو گئی کہ تیسرے مقام پر ایک کتبہ موجود ہے، جس پر درج ہے کہ اس گاؤں کو یونانی فوجوں نے تاراج کر دیا اور سب کچھ نذرِ آتش ہو گیا۔ یہ قصبہ کئی صدیوں تک ویران رہا۔ 1947ء میں کھدائی کے دوران اس مقام سے ایک جسد برآمد ہوا، جو صحیح سلامت تھا، اس جسد نے  اپنا رخسار اپنی دائیں ہتھیلی پر رکھا ہوا تھا۔ خیال کیا گیا کہ  یہ جسد حضرت یونس ایمرےؒ کا ہے، چنانچہ 1948ء میں  اسے مقامِ وسط میں لا کر منتقل کر دیا گیا۔ ظاہر ہے اولیاء کے جسد ہی یوں صحیح سلامت برآمد ہوا کرتے ہیں۔ جناب یونس ایمرےؒ کی تربت کے عین نیچے ایک قدرتی چشمے کا صاف اور ٹھنڈا پانی بہتا ہے۔ پھول بھی اسی تربت پر فراخدلی سے اُگتے ہیں۔ یہ قرائن بتاتے ہیں، ان کا وجودی قیام اسی جا ہے۔ ہم نے اس چشمے سے جی بھر کے پیا۔ اپنا وضو تازہ کیا۔

ٹیگز: