ہمیں مثبت رہنا سکھایا جاتا ہے لیکن زندگی میں تھوڑا سا منفی پن بھی بہت ضروری ہے۔ سانپ کو سامنے دیکھ کر کوئی مثبت نہیں رہ سکتا۔ ذہن میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ کہیں حملہ نہ کر دے۔ اس لیے ہر کسی کا پہلا ردعمل اسے سے بچنے کی کوشش ہوتی ہے۔ اسے مارنے کے لیے کوئی چیز تلاش کرنا دوسرا رد عمل ہوتا ہے جبکہ سانپ سے دوستی کرنے کا خیال شاید سب سے آخری ردعمل کے طور پر ذہن میں آتا ہو۔
حال ہی میں جنوبی ایشیا کے منظر نامے پر ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جسے بیشتر تجزیہ کار اور بین الاقوامی امور کے ماہرین اچھا شگون اور مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ واقعہ گزشتہ سال کے آخری دن اس وقت پیش آیا جب پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ڈھاکا میں موجود تھے۔ اس موقع پر بھارت کے وزیرخارجہ جے شنکر چل کر ان کے پاس آئے اور مصافحہ کیا۔
اس واقعے کو دو حوالوں سے خوش آئند کہا جا رہا ہے۔ ایک تو یہ کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ سال مئی میں ہونے والے معرکہ حق کے بعد پہلی بار کوئی مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ دونوں ملکوں کے دو بڑے رہنماو¿ں کا ہاتھ ملانا واقعی بڑی بات ہے۔ ایک طرف پاکستان کی قومی اسمبلی کا سپیکر تھا جس کا عہدہ صدر، وزیر اعظم اور چیئرمین سینیٹ کے بعد ملک کے پارلیمانی نظام کا چوتھا بڑا عہدہ ہے اور وہ صدر کی غیر موجودگی میں قائم مقام صدر کے طور پر بھی ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ بنگلہ دیش میں پاکستان کی نمائندگی قائم مقام صدر کر رہا تھا جبکہ دوسری طرف بھارت کا وزیرخارجہ تھا جو وزیراعظم کے بعد اس کی کابینہ کا دوسرا اہم رکن ہوتا ہے۔ یوں سردار ایاز صادق اور جے شنکر کے درمیان مصافحہ دراصل دونوں ملکوں کی اعلیٰ ترین قیادت کے درمیان مصافحہ تھا۔
دوسرا حوالہ یہ ہے کہ مصافحہ کرنے میں پہل پاکستان نے نہیں بلکہ بھارت نے کی۔ بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر مصافحہ کرنے کے لیے خود چل کر سردار ایاز صادق کے پاس آئے۔ ان کے خود چل کر آنے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ بھارت اب تعلقات میں بہتری چاہتا ہے۔ یہ نتیجہ اخذ کرنا اتنا غلط بھی نہیں کیونکہ اس سے پہلے تو معرکہ حق کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں اس حد تک بگاڑ آ گیا تھا کہ نچلی سطح پر متعدد ناخوشگوار واقعات بھی رونما ہوئے۔ خاص طور پر کھیل کے میدان میں کہ جب گزشتہ سال ستمبر میں کھیلے گئے کرکٹ کے ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں جن جن مواقع پر بھی آمنے سامنے آئیں، بھارت نے پاکستان کو نیچا دکھانے کی اپنی سی پوری کوشش کی۔ بھارتی ٹیم کے کپتان نے پاکستانی کپتان اور بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اسی ایونٹ کا فائنل جیتنے کے بعد بھارت نے ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی سے صرف اس لیے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا کہ وہ پاکستانی تھے۔ وہ ٹرافی ابھی تک ایشین کرکٹ کونسل کے صدر دفتر میں موجود ہے۔
ایسی صورت حال میں جے شنکر کا سال کے آخری دن ایاز صادق سے مصافحہ کرنا گویا ایک پیغام ہے کہ اب تک جو ہوا سو ہوا، آئیں پرانی رنجشیں بھلا کر اچھے ہمسایوں کی طرح نئے سال میں داخل ہوں۔ دیکھا جائے تو بھارت کے پاس ایسا کرنے کے سوا چارہ بھی نہیں تھا کہ معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد دنیا بھر میں اس کی سفارتی حیثیت بے انتہا کمزور ہو چکی ہے۔ امریکہ سمیت پورا عالمِ مغرب مشرق پر اپنی بالادستی کے لیے بھارت پر انحصار کر رہا تھا۔ معرکہ حق میں بھارت کی عبرت ناک شکست سے مغرب کا یہ خواب چکنا چور ہو کر رہ گیا ہے۔ اسے پوری طرح اندازہ ہو گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ کاروبار تو کیا جا سکتا ہے، لڑائی کے لیے اس پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے عالم مغرب کی نظر میں اب بھارت کی وہ اہمیت نہیں رہی جو دس مئی2025 سے پہلے تھی۔
بھارت کو بھی یقینی طور پر اس حقیقت کا احساس ہو چکا ہے۔ نہ صرف احساس ہوا ہے بلکہ اس بات کا بھی ادراک ہو چکا ہے کہ پاکستان کی عالمی حیثیت بھی یکسربدل گئی ہے۔ اس وقت پاکستان کو عالمی برادری میں دفاعی طور پر ایک طاقتور ملک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ رہی سہی کسر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری کر دی ہے۔ وہ دنیا بھر میں جس بھی فورم پر جاتے ہیں پاکستان کی جانب سے بھارت کے آٹھ طیارے گرائے جانے کا تذکرہ کرنا نہیں بھولتے بلکہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی بھی دل کھول کر تعریفیں کرتے ہیں۔ ایک عالمی رہنما کی جانب سے اس تسلسل اور تکرار کے ساتھ یہ بات سننے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی سمیت بھارت کی اعلیٰ سیاسی قیادت کی عقل اچھی طرح ٹھکانے آ چکی ہے اور اسے اپنی شکست کو جھٹلانے کی روش ترک کرنا پڑی ہے۔
پاکستان سے شکست کے نتیجے میں بھارت کے کئی اور منفی پہلو بھی دنیا پر عیاں ہوئے ہیں جو اس سے پہلے شاید چھپے ہوئے تھے یا دنیا نے دانستہ ان کی طرف سے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ ان میں سب سے نمایاں تو بھارت میں انسانی حقوق کی صورت حال ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی، گورننس، کرپشن اور غربت جیسے مسائل ہیں جو دنیا بھر میں بھارت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ شاید اسی لیے بھارت اب دنیا میں اپنی ساکھ کی بحالی کے اقدامات کرنے لگا ہے۔
ان سب عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں پاکستان اور بھارت کے مصافحے کو ایک اچھا شگون ہی سمجھنا چاہیے اور یہ خوش گمانی رکھنی چاہیے کہ بھارت پاکستان سے بھی اپنے تعلقات بہتر کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بھارتی قیادت کی فطرت اور مزاج کے پیش نظر یہ محاورہ ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے کہ "چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہ جائے"۔