سال کی پہل رات بہت بہت عجیب ہوا کرتی ہے۔
بہت سے مختلف لوگوں پر بہت مختلف جذبات لے کر نازل ہوتی ہے۔ اور مزیدار بات پتہ ہے کیا ہے؟ اسے کم و بیش شاز و نادر ہی کوئی ویسے گزارتا ہے جیسے گزارنا چاہتا ہے۔ بہت سوں نے اس رات کے حوالے سے اپنی زندگی کے بہت سے خواب سجا رکھے ہوتے ہیں۔
کوئی اس رات خود سے ہی نئے عہد و پیمان کر رہا ہوتا ہے تو کوئی دوسروں کو اپنی وفا داری پہ قائل کر رہا ہوتا ہے۔ کوئی رقص و سرور کی محفلوں میں جھومتا پھرتا ہے تو کوئی اپنے کمرے کی تنہائی میں لیٹا چھت تک رہا ہوتا ہے۔ کوئی سڑکوں پر آوارہ گردی کر تے سمے آتش بازی سے لطف اندوز ہوتا ہے تو کسی کے اندر آتش ہوتا ہے۔ کوئی بستر پہ پاؤں پسارے مست سو رہا ہوتا ہے تو کوئی جائے نماز پہ سجدہ ریز ہچکیوں کے بیچ ربَ کائنات سے محو گفتگو ہوتا ہے۔ اور میں؟ میں یہاں شہرِ اقتدار میں ، ٹھٹھرتی ٹھنڈ میں، اپنی ڈھیر کتابوں کے بیچ ، انگیٹھی سیکتے ہوئے اور کڑوی کافی کی چسکیاں لگاتے ہوئے کاغذ قلم لیے بیٹھی ہوں، کھڑکی پہ بارش کی برستی جلترنگ، خاموش دیو قامت پہاڑوں کی ہیبت، قطرہ قطرہ پگھلتی سرد سیاہ رات،اور رگوں میں اترتا بلا کا سکون۔۔۔۔ اور دیکھا جائے تو عرش و فرش کے مابین ایک یہی سکون ہی تو ہے جو کسی کو حاصل نہیں۔ کسی کو ازدواجی الجھنیں تو کسی کو نفسیاتی۔۔۔ کوئی فکرِ معاش کا ستایا ہوا ہے تو کوئی اپنوں کی موت سے گھائل ہے۔
لیکن میں آج میں آپ میں سے ہر ایک طبقے سے مخاطب ہونا چاہتی ہوں، کتابِ زیست کے اوراق پلٹ کر ماضی کے دریچوں میں جھانک کر دیکھوں تو بہت نئے سال کی پہلی راتیں میں نے اس کشمکش میں گزاری جس میں آج آپ گزر رہے ہیں۔مقابلے کے امتحان کے امیدواروں کے کندھے امیدوں کے بوجھ سے جھکے ہوتے ہیں ، یہ وہ ان دیکھے بوجھ ہیں جو صرف وہی محسوس کر سکتے ہیں جو اس سے گزرے ہیں، آپ کے گرد کتابوں کا ایک لامتناہی سمندر ہے، کتابیں، نوٹس، اخباریں۔۔۔ اور نجانے کیا کچھ، کسی نے کہاں فلاں کے فلاں نوٹس اچھے ہیں تم نے فٹا فٹ کاپی کرا کر رکھ لیے، اب انہیں پڑھنا کب ہے؟ سمجھنا کیسے ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ آزمائش کہ یاد کیسے رکھنا ہے؟ اور کیلنڈر سے پھسلتا ایک اور سال۔۔۔ تیس کے ہندسے کے قریب آتی عمر۔۔۔ اور ایک نئی ناکامی کا بوجھ؟؟؟ ۔
فلاں نے ذاتی گھر بنا لیا میں تاحال کرائے کے مکان میں ہوں۔ فلاں نے نئی گاڑی لے لی میں موٹر سائیکل پر ہوں؟ فلاں ڈی سی لگ گیا میرا ابھی تک تحریری امتحان نہیں نکل رہا؟ ۔
اب یہاں ٹھہرو! رک جاؤ، ایک لمبی سانس لو، اور سنو ’’تم اک پارس پتھر ہو‘‘۔
کسی سفر کی خوبصورتی یہی ہوتی ہے کہ اس میں ‘‘اتار چڑھاؤ’’ ہوں۔ آپ نے اکثر غیر معمولی ذہین اور منچلے لوگوں کو آف روڈ ٹرپس پہ جاتے دیکھا ہو گا یا آپ گئے بھی ہوں گے، کبھی سوچا ہے سیدھی، ہموار اور آرام دہ سڑک چھوڑ کر لوگ دھول مٹی اْڑاتے راستوں پہ کیوں جاتے ہیں؟ کبھی کھائی میں جا پھستے ہیں کبھی ٹائر جواب دے جاتے ہیں مگر سفر کا جوش و جنوں برقرار رہتا ہے وہ اس لیے کہ جمود موت کا دوسرا نام ہے، یکسانیت میں دلچسپی نہیں ہوا کرتی، چیلنجز زندگی کو دلچسپ بناتے ہیں۔ تو آپ پر جو مشکل ہے چاہے جس بھی نوعیت کی ہے اسے بھرپور طریقے سے گزاریں۔
آپ میں ہم سب ساری زندگی دوسروں کی خاطر گزار دیتے ہیں، ہمیں روز اول سے سکھایا جاتا ہے کہ فلاں حرکات وسکنات ہی دیگر افراد کے سامنے کرنا مناسب ہیں، آپ میں سے اکثر سے ان کا بچپنا چھین لیا گیا، تقریباً ہر دوسرے شخص کو شرارتیں کرنے پہ مار پڑی، اور اتنی پڑی کہ بالآخر شرارتوں کو خیر آباد کہہ کر سنجیدگی طاری کر لی گئی۔
ستم یہ ہوا کہ بچپن کے بعد لڑکپن بھی جینے نہ دیا گیا، کسی کو رنگوں میں الجھنا پسند تھا تو کسی کو لفظوں میں۔۔۔ لیکن الجھے سبھی مسئلہ فیثا غورث میں، کیونکہ بتایا گیا کہ سکوپ اسی کا ہے۔ پھر اس سکوپ کی پھرکی نے ایسا گھمایا کہ کئی ادب کے دلداہ جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتے سمے بس سیل کروموسومز اور نیوکلیس کے ہو کے رہ گئے، جن ہاتھوں کو کرکٹ کا بلا پکڑنے کا شوق تھا انہیں پانا اور رینچ دے دیا گیا کہ سکوپ انجینئرنگ اور میڈیکل کا ہے۔
اب جوانی کا آغاز ہوا، اصولاً یہ بیٹھ کر چاند تکنے کا زمانہ تھا، پھولوں کی مہک سے مسحور ہونے کا دور تھا،موسیقی کی لے پہ سر دھننے کا وقت تھا لیکن سر چکرا گیا جی پی اے کی دوڑ میں، اسائنمنٹس کے جھنجھٹ میں۔۔۔۔
میں یہ نہیں کہوں گی کہ غلطی مستقبل کی پروا میں غرق والدین کی ہے، وہ تو اچھا ہی چاہتے ہیں ، کامیاب ہی دیکھنا چاہتے ہیں، میں یہ بھی نہیں کہوں گی کہ غلطی اساتذہ کی ہے کہ انہوں نے بھاگتی دوڑتی زندگی میںکامیابی کے گر سکھانے کی کوشش کی۔ ناچیز کا اعتراض تو فقط اتنا ہے کہ کامیابی کا معیار تھوڑا غلط سمت میںگیا ہے۔
اگر زندگی میں کامیابی ایک اچھا انجینئر بننا ہی تھی تو کیوں آج انجینئر بیروزگار پھر رہے ہیں؟ اگر کامیابی کامعیار اچھے میڈیکل کالج سے ڈاکٹر بننا ہی تھا تو کیوں آج خود ڈاکٹرز ہی انٹی ڈیپریسنٹس کھا کے سوتے ہیں؟ اگرکامیابی مقابلے کا امتحان پاس کر کے افسر بھرتی ہونا ہی تھا تو کیوں آج افسر پھندے سے لٹک جاتے ہیں؟ آخر کیوںلوگ جینے پہ، کھل کے جینے پہ ،مرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں؟ ۔ (جاری ہے)