پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں قوم نے قیمتی جانوں کی قربانیاں دیں، شہروں نے زخم سہے اور ریاستی اداروں نے غیر معمولی حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ چاہے سوات ہو، قبائلی علاقے ہوں یا شہری مراکز، سکیورٹی فورسز نے ہر محاذ پر دہشت گرد عناصر کو پسپا کیا اور ملک کو ایک بار پھر استحکام کی راہ پر ڈالا۔ آج بھی یہ جدو جہد جاری ہے اور پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری جرأت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اس ناسور کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
اسی تسلسل میں حالیہ دنوں بلوچستان میں پیش آنے والے واقعات کو دیکھا جانا چاہیے۔ 31 جنوری کو صوبے کے مختلف حصوں میں جو تشدد سامنے آیا، اسے کسی بھی طور عوامی ردِعمل یا سیاسی بے چینی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ایک منظم، ہم وقت اور منصوبہ بند کارروائی تھی جس کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور ریاستی عمل داری کو چیلنج کرنا تھا۔ سکیورٹی اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لیا اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے خدشات کو ناکام بنایا۔
ان حملوں کی نوعیت اور اہداف خود ان عناصر کے عزائم کو بے نقاب کرتے ہیں۔ پولیس مراکز، مالیاتی ادارے اور عام شہری علاقے نشانہ بنائے گئے۔ محنت کش طبقے اور عام بلوچ آبادی کو خطرے میں ڈال کر کوئی بھی گروہ عوامی ہمدردی حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ کارروائیاں واضح طور پر دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں، جن کا مقصد اصلاح نہیں بلکہ دباؤ اور انتشار پیدا کرنا ہوتا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی، جو پاکستان میں ایک کالعدم تنظیم ہے، ان حملوں کی ذمہ دار قرار دی گئی۔ یہ تنظیم ماضی میں بھی اسی طرز کی کارروائیوں میں ملوث رہی ہے اور اس کا طریقہ واردات ہمیشہ خوف، تشدد اور عدم استحکام رہا ہے۔ بی ایل اے کا یہ دعویٰ کہ وہ کسی عوامی مقصد کے لیے سرگرم ہے، اس وقت خود بخود جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے جب اس کی کارروائیوں کا خمیازہ عام شہری بھگتتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، وہ بیرونی عناصر کا کردار ہے۔ ان حالیہ حملوں میں جس درجے کی منصوبہ بندی، اسلحے کی دستیابی اور ابلاغی مہم دیکھی گئی، وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دہشت گرد گروہوں کو سرحد پار سے معاونت حاصل ہے۔ پاکستان ماضی میں متعدد بار ناقابلِ تردید شواہد پیش کر چکا ہے کہ بھارت بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی کرتا رہا ہے۔ بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کی جانب سے مالی امداد، تربیت اور پراپیگنڈا سپورٹ ایک کھلا راز بنتی جا رہی ہے۔ یہ بھی کوئی اتفاق نہیں کہ تشدد کا رخ ان علاقوں کی طرف رہا جہاں بڑے معاشی اور معدنی منصوبے زیرِ غور ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور جس کی ترقی پورے خطے کے معاشی مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کاری، معدنی منصوبے اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے اس خطے کو قومی دھارے میں مضبوطی سے شامل کر سکتے ہیں۔ یہی عمل دہشت گرد اور ان کے سرپرستوں کو سب سے زیادہ کھٹکتا ہے۔
ریاست نے واضح پیغام دیا ہے کہ بلوچستان کی ترقی اور امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سکیورٹی کارروائیاں کسی قوم یا علاقے کے خلاف نہیں بلکہ ان مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جو پاکستان کے آئینی ڈھانچے اور عوامی سلامتی کے دشمن ہیں۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ صوبے کی ترقی، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہی دیرپا امن کی ضمانت ہے، اور حکومت اس سمت میں اقدامات کر رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی دہشت گردی کی مذمت اور پاکستان کے استحکام کی حمایت ایک اہم اشارہ ہے۔ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ ایک پُرامن اور مستحکم بلوچستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے ذریعے سرمایہ کاری کو روکنے کی کوششیں بار بار ناکام ہو رہی ہیں۔
بلوچستان میں دہشت گرد عناصر بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ماضی کی طرح اس بار بھی ریاستی ادارے، عوام اور سکیورٹی فورسز ایک صف میں کھڑے ہیں اور اس چیلنج کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ صوبے کا مستقبل تشدد یا بیرونی ایجنڈوں سے نہیں بلکہ امن، استحکام اور قومی یکجہتی سے جڑا ہے، اور اسی راستے پر پاکستان آگے بڑھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ دشمن کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام ہو گیا اور تمام تر سازشوں کے باوجود پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کا دفاع جانتا ہے۔