ممبئی: اتر پردیش کے شہر دیوریا میں ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ پیش آیا جس نے سب کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ ایک شادی جو دھوم دھام سے ہوئی تھی، اس کے فوراً بعد دلہن نے سسرال میں رہنے سے انکار کر دیا۔ صرف 20 منٹ بعد، دلہن نے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی بجائے اپنے والدین کو بلانے کی بات کی اور کہا کہ وہ فوراً واپس میکے جانا چاہتی ہے۔
یہ فیصلہ جیسے ہی سامنے آیا، دونوں خاندانوں میں ہلچل مچ گئی۔ دلہن نے اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے سسرال والوں کے تمام سمجھانے کے باوجود واپس جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس کشیدگی کے بعد دونوں خاندانوں نے پنچایت بلانے کا فیصلہ کیا، جو تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہی۔
پنچایت کے دوران معاملہ اتنا بڑھا کہ بالآخر دونوں خاندانوں نے باہمی رضامندی سے شادی کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا اور دلہن اپنے اہل خانہ کے ساتھ واپس روانہ ہو گئی۔ یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ شادی میں کبھی کبھار ایسا کچھ ہو سکتا ہے جس کی کسی کو بھی توقع نہیں ہوتی۔
پولیس نے اس واقعے کا نوٹس تو لیا، مگر چونکہ کوئی شکایت درج نہیں کی گئی، اس لیے معاملہ پنچایت کی سطح پر ہی ختم کر دیا گیا۔ اس واقعہ نے ایک سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا شادی کے فیصلے صرف رسمی رسومات تک محدود نہیں رہنے چاہیے، بلکہ اس میں دونوں طرف کے جذبات اور سمجھوتے بھی اہم ہیں۔
یہ واقعہ نہ صرف دونوں خاندانوں کے لیے ایک صدمہ بن گیا بلکہ شادی کے حوالے سے ایک نیا خطرہ بھی اجاگر کرتا ہے: کبھی بھی معاملات پیچیدہ اور غیر متوقع ہو سکتے ہیں، اور ایک لمحہ بھی سب کچھ بدل سکتا ہے۔