Wed, September 16, 2026

 بحران کے دنوں میں کاروبار کا امتحان

 بحران کے دنوں میں کاروبار کا امتحان

میں کاروباری برادری سے ہوں اور کاروباری امور پر ہی لکھتا ہوں ، وزیر اعظم ، فیلڈ مارشل یا وزیر اعلیٰ پنجاب جب کبھی کاروباری برادری کے ساتھ بیٹھیں میں انہیں سراہتا ہوں۔چند روز قبل صدر مملکت اوروزیر اعظم نے صوبائی وزرائے اعلیٰ سے میٹنگ کی ۔فیصلہ کیا گیا کہ سمارٹ لاک ڈاﺅن نہ لگایا جائے ۔اس میٹنگ کا مقصد پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانا تھا۔ پھر ایندھن کی سبسڈی کا حالیہ اعلان بظاہر عوامی ریلیف کا اقدام ہے، مگر اس کے معاشی مضمرات خاص طور پر کاروباری برادری کے لیے ایک نئے امتحان کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ سبسڈی دی جائے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اس کا بوجھ کون اٹھائے گا اور اس کی قیمت کون چکائے گا۔
گزشتہ چند برسوں میں ایک خطرناک رجحان واضح ہوا ہے کہ سال میں دو سے تین مرتبہ ایسے بحران جن کی جڑیں یا تو داخلی کمزوریوں میں ہوتی ہیں یا عالمی سیاست کے تھپیڑوں میں۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے عالمی منڈی کی ہلچل محض خبروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ براہِ راست کاروباری لاگت، ترسیل اور پیداوار کو متاثر کرتی ہے۔حکومت نے پٹرول کی قیمتیں نہ بڑھانے کا عہد کیا اور صوبوں نے اس فیصلے کا بوجھ بانٹنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ بظاہر یہ وفاقی ہم آہنگی کی ایک مثبت مثال ہے، مگر پس پردہ حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ مالیاتی گنجائش کے اس خلا کو مزید وسیع کر دے گا جو پہلے ہی خطرناک حد تک پھیل چکا ہے۔ کاروباری برادری کے لیے سب سے بڑی پریشانی یہی غیر یقینی ہے۔انہیں معلوم نہیں کہ آج کا ریلیف کل کے کس ٹیکس یا کس نئی پالیسی کی صورت میں واپس لیا جائے گا۔
یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اس سبسڈی کی حتمی لاگت کا اندازہ فی الحال ممکن نہیں۔ جب سپلائی لائن غیر یقینی ہو اور عالمی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہوں تو سبسڈی ایک کھلی چیک بک بن جاتی ہے۔ ایسے میں حکومت کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں کہ یا تو ٹیکس بڑھائے جائیں یا ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کی جائے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہمیشہ پہلا راستہ آسان اور دوسرا سیاسی طور پر کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، اور اکثر دونوں بیک وقت اختیار کر لیے جاتے ہیں۔کاروباری برادری کا شکوہ بجا ہے کہ ٹیکس نظام پہلے ہی غیر متوازن ہے۔ براہِ راست ٹیکسوں کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار نے نہ صرف عام صارف کو متاثر کیا ہے بلکہ صنعتی لاگت کو بھی غیر مسابقتی بنا دیا ہے۔ جب سیلز ٹیکس بڑھتا ہے تو اس کا بوجھ بالآخر صارف اور صنعتکار دونوں پر پڑتا ہے۔ ایسے میں جب عالمی جی ڈی پی میں سست روی کی پیش گوئی ہو رہی ہو، تو مقامی معیشت پر اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہو جاتے ہیں۔
مزید تشویشناک پہلو زرمبادلہ کے ذخائر کی حالت ہے۔ سٹیٹ بینک کے ذخائر کا بڑا حصہ ادھار پر کھڑا ہے، جو کسی بھی وقت دباو¿ کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کا سیدھا اثر درآمدات پر پڑتا ہے۔خام مال مہنگا یا نایاب ہو جاتا ہے، پیداوار سست پڑ جاتی ہے، اور یوں ٹیکس وصولیاں خود بخود کم ہو جاتی ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق فروری 2026 تک 457 ارب روپے کی کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ معیشت پہلے ہی دباو¿ میں تھی، جنگی صورتحال نے اس میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔حکومت کا دوسرا ہتھیار، یعنی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی)، بھی اب ایک علامتی دستاویز بن کر رہ گیا ہے۔ ہر سال بڑے اعلانات کیے جاتے ہیں، مگر جون آتے آتے ان میں بھاری کٹوتیاں کر دی جاتی ہیں۔ رواں سال بھی یہی ہوا۔پہلے ہی کٹوتیاں جاری تھیں، اب ایندھن کی سبسڈی کے لیے مزید 100 ارب روپے کم کر دیئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ جب ترقیاتی منصوبے رک جائیں گے تو معیشت کی رفتار کیسے برقرار رہے گی؟ اور جب رفتار ہی نہ ہو تو کاروبار کیسے پھلے پھولے گا؟۔
وزیراعظم کے کفایت شعاری پیکیج اور آسٹیرٹی فنڈ کا اعلان یقیناً ایک مثبت اشارہ ہے، مگر ماضی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ایسے اقدامات اکثر علامتی ہی ثابت ہوتے ہیں۔ 27 ارب روپے کی ابتدائی رقم ایک بڑے بحران کے سامنے نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو اسے نمائشی اقدامات کے بجائے ساختی اصلاحات کی طرف جانا ہوگا۔کاروباری برادری کے لیے سب سے بڑا مسئلہ پالیسی کا عدم تسلسل ہے۔ ایک طرف حکومت کاروبار دوست ہونے کے دعوے کرتی ہے، سرمایہ کاری کی دعوت دیتی ہے، اور دوسری طرف اچانک ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں جو لاگت بڑھا دیتے ہیں یا مستقبل کو غیر یقینی بنا دیتے ہیں۔ سرمایہ کار کو سب سے زیادہ ضرورت استحکام کی ہوتی ہے، نہ کہ وقتی مراعات کی۔یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کو اپنی مالیاتی حکمت عملی از سر نو ترتیب دینا ہوگی۔ دو سے تین سال کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔حکومتی اخراجات میں حقیقی کمی، غیر پیداواری شعبوں پر کٹوتی اور ٹیکس نظام کی از سر نو تشکیل۔ جب تک ٹیکس کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم نہیں ہوگا، کاروباری سرگرمیوں میں پائیدار اضافہ ممکن نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں بھی طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیے بغیر ہر عالمی بحران ہمیں اسی طرح جھنجھوڑتا رہے گا۔ متبادل توانائی، مقامی وسائل کا استعمال اور توانائی کی بچت کے مو¿ثر پروگرام ہی اس دائرے کو توڑ سکتے ہیں۔
 یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ سبسڈی ایک وقتی سہارا ہے، مستقل حل نہیں۔ اگر حکومت نے اسے ایک سیاسی ہتھکنڈے کے بجائے ایک عبوری قدم کے طور پر استعمال کیا اور ساتھ ہی بنیادی اصلاحات کا آغاز کیا تو شاید یہ بحران ایک موقع میں بدل جائے۔ بصورت دیگر، کاروباری برادری ایک بار پھر اسی چکر میں پھنس جائے گی جہاں ہر ریلیف کے بعد ایک نیا بوجھ اس کا منتظر ہوتا ہے۔معیشت اعتماد پر چلتی ہے، اور اعتماد مستقل مزاجی سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر حکومت واقعی کاروبار دوست بننا چاہتی ہے تو اسے نعروں سے آگے بڑھ کر کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل مشاورت رکھنی چاہئے ، ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جو نہ صرف آج بلکہ کل کو بھی محفوظ بنا سکیں۔

ٹیگز: