Wed, September 16, 2026

اکھنڈ بھارت، گریٹر اسرائیل کچی نیند کے خواب

اکھنڈ بھارت، گریٹر اسرائیل کچی نیند کے خواب

حالیہ غیر منصفانہ ایران، اسرائیل (پشت پر امریکہ) جنگ نے دنیا کی امن پسند قوتوں اور ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنی کمزور معیشتوں کو مضبوط بنانے کے عمل کو سست کر دیا ہے۔ اس تنازع نے نہ صرف عالمی نظام کو متاثر کیا ہے بلکہ وہ عالمی ادارے بھی، جو اربوں ڈالر خرچ کر کے قائم کیے گئے تھے، عملاً بے اثر ہو چکے ہیں۔ یہ ادارے عالمی تنازعات کے حل میں ناکام ہو کر اپنی حیثیت کھو بیٹھے ہیں۔ صرف میں کی پالیسی نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ دنیا میں امن پسند لوگ اور ترقی پذیر معیشتیں کس طرح اپنی کامیابی حاصل کر سکیں گی۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ ایک توازن پایا جاتا ہے۔ پاکستان ایک طرف بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھتا ہے، تو دوسری جانب مسلم دنیا سمیت دیگر خطوں میں بھی اپنی موجودگی برقرار رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کسی تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی پیشکش کرتا ہے تو اسے سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں پاکستان کی خارجہ پالیسی نے عالمی کانفرنسز میں ایک سنجیدہ اور فعال کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ تنازع میں پاکستان اپنے قریبی امن پسند دوست ممالک، جیسے سعودی عرب، ترکی، مصر اور چین کے ساتھ مل کر صورتحال پر غور کر رہا ہے۔ تنازعات کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا آغاز خود ایک بڑی کامیابی ہے، کیونکہ اکثر تنازعات اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں جہاں فریقین بات چیت سے بھی گریز کرتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا کردار ایک پُل کی مانند ہے، جو متحارب فریقین کو قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ممکن ہے کہ اثر و رسوخ رکھنے والے امن پسند ممالک دونوں فریقین کو ایک میز پر لانے میں کامیاب ہو جائیں۔
پاکستان کو اس وقت کئی حوالوں سے ایک اہم ملک کا درجہ حاصل ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت، ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد، بحرِ ہند تک رسائی اور وسطی ایشیا کے گیٹ وے کے طور پر اس کا کردار اسے قدرتی طور پر ایک مو¿ثر ثالث بناتا ہے۔ عالمی امور کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ پاکستان کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بھی امن منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ موجودہ تنازع میں بھارت نے خارجہ امور میں نہایت کمزور اور بظاہر شاطرانہ حکمت عملی اپنائی ہے۔ ایران کے ساتھ چابہار پورٹ جیسے منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود، اس بحران میں بھارت اپنے تیل کے راستوں تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ بھارتی میڈیا بعض اوقات غیر منطقی دلائل پیش کرتا نظر آتا ہے، جو سنجیدہ سفارتی سوچ کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان ایک امن پسند ملک کے طور پر نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے بلکہ علاقائی امن میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی، علاقائی امن کی خواہش اور عالمی طاقتوں چاہے وہ امریکہ ہو یا چین کے ساتھ محتاط تعلقات اسے ایک قابلِ احترام مقام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران اور امریکہ جیسے دو اہم اور متصادم ممالک کے درمیان رابطے کی ضرورت پیش آئی تو پاکستان ایک قابلِ قبول ذریعہ بن کر سامنے آیا۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کی سفارتی پختگی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ بھارت کی وشوا گرو اور پاکستان کو تنہا کرنے کی حکمت عملی کی ناکامی کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت بھی اس سفارتی کامیابی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رابطہ ایک اہم عنصر سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس، بھارت اپنی داخلی اور سرحدی کشیدگیوں میں الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے، جس کے باعث وہ اس سطح کی غیر جانبدار ثالثی کا کردار ادا نہیں کر پا رہا۔ اسی لیے امریکہ نے ثالثی کے لیے بھارت کے بجائے پاکستان کی طرف رجوع کیا۔ مزید برآں، وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کی حالیہ معاشی اصلاحات، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور عالمی اداروں کے ساتھ تعاون نے پاکستان کو زیادہ پُراعتماد بنایا ہے۔ جب کوئی ملک داخلی طور پر مستحکم ہو تو وہ عالمی سطح پر بھی مو¿ثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، بھارت اس اہم بحران میں کہیں نمایاں نظر نہیں آتا۔ اس کی خارجہ پالیسی کو اندرونِ ملک بھی تنقید کا سامنا ہے۔ مبصرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ امریکہ کے قریب ہونے کے باوجود بھارت کو کیا عملی فائدہ حاصل ہوا۔ اکھنڈ بھارت اور گریٹر اسرائیل جیسے تصورات کے حامل حلقوں کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے کہ جب حقیقی سفارتکاری کی ضرورت پیش آئی تو دنیا نے پاکستان کو ترجیح دی۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، جسمانی تکلیف کے باوجود مذاکرات میں مصروف ہیں، جو پاکستان کی سنجیدہ سفارتی کوششوں کا ثبوت ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک موقع بھی ہے۔ اگر اسلام آباد میں مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو پاکستان کا عالمی مقام مزید بلند ہو گا۔ تاہم، اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت یکطرفہ اقدامات جاری رکھتی ہیں تو عالمی سطح پر محاذ 
آرائی میں اضافہ ہو گا۔ اس سے نہ صرف عالمی تعاون متاثر ہو گا بلکہ عالمی اداروں پر چھوٹے ممالک کا اعتماد بھی مزید کمزور ہو جائے گا۔ نتیجتاً، دنیا ایک ایسے بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے جہاں نہ تو موجودہ اصول مو¿ثر رہیں گے اور نہ ہی نئے اصول آسانی سے تشکیل پا سکیں گے۔ دنیا کے بااثر ممالک اور دانشوروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عالمی اداروں کو محض نمائشی حیثیت تک محدود نہ رہنے دیں، بلکہ انہیں مو¿ثر اور بااختیار بنائیں تاکہ مظلوم اقوام کو انصاف مل سکے۔ پاکستان، کشمیر کے معاملے پر عالمی اداروں کی خاموشی اور بے عملی کا کئی دہائیوں سے شکار ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ سوال مزید شدت اختیار کرے گا کہ ایسے اداروں کی ضرورت ہی کیا ہے۔ موجودہ عالمی حالات بڑھتی ہوئی طاقتوں کی رقابت، علاقائی تنازعات، معاشی عدم استحکام اور عالمی اداروں کی کمزور ہوتی ساکھ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ایک نیا عالمی نظام تشکیل دیا گیا تو کیا وہ بھی صرف طاقتور ممالک کے مفادات تک محدود ہو گا، یا اس میں کمزور ممالک کو بھی انصاف مل سکے گا؟۔

ٹیگز: