Wed, September 16, 2026

گریٹر اسرائیل کے خواب کی قیمت

گریٹر اسرائیل کے خواب کی قیمت

حالیہ ایران اسرائیل جنگ مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل بن چکی ہے، جس نے نہ صرف خطے کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی ایک نازک کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ جنگ بلا شبہ یک طرفہ اشتعال انگیزی کا نتیجہ تھی، جس میں اسرائیل نے ایران پر محض مفروضوں پہ مبنی اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے حملہ کر کے ایک ایسی آگ بھڑکائی جو پہلی دفعہ مقبوضہ سرزمین فلسطین یا موجودہ اسرائیل تک جا پہنچی۔ یاد رہے کہ گزشتہ کی دہائیوں سے اسرائیل کی پالیسیاں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے منصوبے کی عکاس ہے، جو صیہونی مفروضوں کی بنیاد پہ طور پر نیل سے فرات تک ایک یہودی ریاست کے خواب پر مبنی ہے۔ اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اب تک اسرائیل نے مسلسل اپنے ہمسایہ ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے اور طاقت کے زور پہ ان کے علاقوں پر قبضے کی کوششیں کیں۔ آزاد و خود مختار فلسطین پر قبضہ، گولان کی پہاڑیوں پر شام سے ہتھیایا گیا علاقہ، جنوبی لبنان میں ماضی کی جارحیت، غزہ کی تباہی اور اس پہ قبضے کی کوشش اور اب ایران کو نشانہ بنانا، اسی طویل المدتی منصوبے کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ 2025 کے اوائل میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کی بنیاد غیر واضح، خود ساختہ اور اسرائیلی نقطہ نظر کے مطابق موساد کی جھوٹی انٹیلی جنس رپورٹس اور بے بنیاد دعوے تھے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ گیا ہے اور اسرائیل کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم نہ کوئی اقوام متحدہ کی سطح پر پیش کیا گیا ثبوت، نہ ہی کسی بین الاقوامی مبصر کی طرف سے اسرائیلی دعوؤں کی تائید۔ در حقیقت یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے خطے میں کسی بھی ممکنہ عسکری و معاشی چیلنج کو ختم کرنے کی پالیسی کا مظہر تھا۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ پہلے ہی دن موساد اور اس کے ایجنٹوں کے ہاتھوں اپنی عسکری قیادت کھونے کے باوجود اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران نے نہ صرف فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کی بلکہ اسرائیل کا سالہا سال سے قائم  
عسکری برتری کا بھرم اور تاثر بھی چکنا چور کر دیا۔ ایران نے محدود عسکری وسائل کے باوجود کئی اہم اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں تل ابیب، حیفہ، عسقلان اور بئر سبع جیسے شہر شامل ہیں۔ اسرائیل کا کئی سطحی دفاعی نظام آئرن ڈوم، ڈیویڈز سلنگ اور امریکہ ساختہ پیٹریاٹ جیسے جدید میزائلوں سے لیس تھا ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے سامنے بے بس دکھائی دیا، جس سے پوری دنیا کے عسکری ماہرین کی جانب سے ان ڈیفنس سسٹمز کے مؤثر ہونے پر سوالات اٹھنے لگے۔ اس جنگ میں اسرائیل کو مالی اور جانی دونوں حوالوں سے شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ تخمینوں کے مطابق اس مختصر جنگ میں اسرائیل کا مالی و عسکری نقصان دس بلین ڈالر سے زائد رہا۔ حیفہ اور تل ابیب جیسے شہر تقریباً ایک تہائی حد تک تباہ ہو گئے، جبکہ سیکڑوں جانیں ضائع ہوئیں اور لاکھوں  لوگ بے گھر ہو گئے۔ اسرائیلی ایئرفورس کے کئی طیارے جن میں پانچویں نسل کے امریکی ایف 35 بھی شامل ہیں، تباہ ہوئے اور عسکری تنصیبات کو شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ دوسری طرف ایران نے بھی اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کی۔ ایک مؤثر فضائیہ کی غیر موجودگی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے متعدد صنعتی، عسکری اور شہری انفرا سٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق ایران کو چار بلین ڈالر سے زائد کا مالی نقصان ہوا ہے اور اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں سیکڑوں ایرانی شہری بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اسرائیل کی اس محدود جنگ میں حالت اس قدر کمزور ہو چکی تھی کہ اگر امریکہ بروقت مداخلت نہ کرتا، تو چند ہی دنوں میں اسرائیل کی شکست واضح نظر آ رہی تھی۔ امریکی بحری بیڑوں کی خلیج میں آمد، اسرائیل سے انٹیلی جنس شیئرنگ اور فضائی دفاعی تعاون نے اسرائیل کو وقتی ریلیف دلوایا، لیکن یہاں ایک بات واضح ہو گئی کہ اسرائیل، جو خود کو ناقابل شکست سمجھتا تھا، ایران جیسے منظم اور پُرعزم حریف کے سامنے بہت کمزور پڑ سکتا ہے۔ یہ جنگ اسرائیل کے لیے عسکری اور نفسیاتی طور پر بہت بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہے۔ برسوں سے اسرائیل اپنی عسکری طاقت اور جدید ٹیکنالوجی کے بل پر خود کو ناقابل تسخیر تصور کرتا آیا ہے، لیکن ایران کی مزاحمت نے اس منفی تاثر کو بُری طرح مجروح کیا ہے۔ دنیا بھر میں اب یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کا اصل مقصد خطے میں اپنے سیاسی اور جغرافیائی مفادات کا تحفظ ہے، نہ کہ سلامتی۔ دنیا کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ جنگیں کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں رہیں، اور نہ ہی موجودہ ایران اسرائیل جنگ سے کوئی مستقل سیاسی یا جغرافیائی تبدیلی وقوع پذیر ہوئی ہے۔ تاہم یہ جنگ ضرور خطے میں طاقت کے توازن کو بدلنے کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ہے۔ ایران نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف اسرائیل کے حملے کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے کسی حد تک جا سکتا ہے۔ لہٰذا خطے کے امن کے سب سے بڑے دشمن اسرائیل کو اب یہ سمجھنا ہو گا کہ مسلسل جنگوں، جارحیت اور قبضے کی پالیسی نے نہ صرف فلسطین اور دوسرے ہمسایہ ممالک کو خاک و خون میں نہلایا بلکہ خود اسرائیل کو بھی ایک مسلسل عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر اسرائیل نے اپنے عزائم کو لگام نہ دی تو خطے میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہے گا۔ جس میں ہونے والے نقصان سے اسرائیل کبھی نہیں اٹھ پائے گا۔ ایران اسرائیل حالیہ جنگ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کا توازن مسلسل بدلتا رہتا ہے اور کسی بھی ریاست کو اپنے عسکری غرور پر اس قدر بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔ گریٹر اسرائیل کا خواب، جو قبضے بربادی اور جنگوں پر مبنی ہے، صرف تباہی لا سکتا ہے۔ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے باز آ کر ہمسایہ ممالک سے انصاف، مساوات اور ان کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھے۔ حالیہ جنگ سے سبق سیکھ کر فلسطینیوں سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے مذاکرات کی راہ اپنانا ہی مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے لیے واحد پائیدار راستہ ہے۔

ٹیگز: