شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد 2001 ء میں چین اور روس نے رکھی تھی جس کے اراکین میں اب قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان، بھارت اور ایران بھی شامل ہیں۔ اس تنظیم کا آغاز ایک یوریشیائی سکیورٹی تنظیم کے طور پر ہوا جس کا مقصد روس، چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان سکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینا تھا۔ 2017ء میں، بھارت اور پاکستان کی مکمل رکنیت اور افغانستان کی مبصر کی حیثیت سے شمولیت کے بعد، تنظیم نے اپنے دائرہ کار کو وسیع کیا۔
گذشتہ برس ایران کو بھی تنظیم کی باقاعدہ رکنیت دے دی گئی تھی۔ اب ایس سی او کی توجہ دہشت گردی، انتہا پسندی، منشیات کی سمگلنگ اور بنیاد پرستی جیسے مشترکہ مسائل پر ہے۔ ایس سی او کی تشکیل اور بعد ازاں پھیلاؤ کے وقت اسے ایک ایسے اتحاد کے طور پر دیکھا گیا ہے جو نیٹو جیسے مغربی اتحاد کو کاؤنٹر بیلنس کرنے کے لیے اس کے متبادل اتحاد کے طور پر موجود ہو۔
دیکھنا یہ ہے کہ کیا اپنے قیام سے لیکر اب تک شنگھائی تعاون تنظیم واقعی نیٹو جیسا مضبوط اتحاد بن پائی ہے یا نہیں؟ نیٹو کے مقابل ایس سی او طاقت میں توازن کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ شنگھائی تعاون تنظیم چین، روس، پاکستان اور بھارت جیسے ممالک کی وجہ سے آبادی کے لحاظ سے بڑا اتحاد ہے جبکہ یہ دنیا کے 40 فیصد رقبے کو بھی کور کرتا ہے۔ اس تنظیم کا ڈھانچہ نیٹو سے مختلف اور فوجی صلاحیت محدود ہے، لیکن اس تنظیم کا قیام بجائے خود ایک مثبت قدم ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا مقصد یہ نہیں کہ یہ مغربی اتحادوں سے تصادم کرے بلکہ یہ ایک متوازن اتحاد بننے کا موقع فراہم کرتی ہے جس سے خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ دنیا میں اس وقت کئی ایسے اتحاد موجود ہیں جو معیشت یا سکیورٹی اور دفاعی ضروریات کے لیے بنائے گئے۔ ان میں جی سیون، جی ٹوئنٹی، کواڈ، نیٹو اور ایس سی او بڑے اتحاد ہیں۔ جی سیون اور جی ٹوئنٹی تو معیشت اور اقتصادی امور پر بنے الائنس ہیں جن کی توجہ کا مرکز رکن ممالک میں معاشی استحکام، ترقی اور سیاسی ہم آہنگی کا فروغ ہے۔
تاہم نیٹو 32 ممالک کا فوجی اتحاد ہے جس کا مقصد مشترکہ دفاع اور رکن ممالک کی سلامتی ہے۔ اس اتحاد میں ایک ملک پر حملہ، تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ نیٹو صرف مغربی مفادات کا حامل اتحاد اور مغربی انفلوئنس قائم کرنے کا ایک ہتھیار ہے۔ دوسری جانب ایس سی او اتحاد کی توجہ کا بنیادی مرکز علاقائی سکیورٹی اور استحکام، معاشی تعاون، دہشت گردی کے خلاف اقدامات ہیں۔ تاہم محدود فوجی صلاحیت اور رکن ممالک کے درمیان داخلی اختلافات اس اتحاد کی بڑی کمزوریاں ہیں۔ اس صورتحال کے تحت رکن ممالک کو دیکھنا ہو گا کہ قیام سے لیکر اب تک شنگھائی تعاون تنظیم اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب رہی یا ناکام؟
امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس ملاقات کا موقع فراہم کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہ بن سکے اور اسکی حیثیت او آئی سی جیسی بن کر رہ جائے۔ جبکہ بانی رکن ممالک اس تنظیم کو ایک مظبوط اور کامیاب فورم بنا کر امن، ہم آہنگی اور تجارت کے فروغ کے وسیع تر مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم اتحاد اپنے اہداف اور مقاصد حاصل کر پایا یا نہیں، یہ بحث چلتی رہے گی مگر خطے میں کسی ایسے ایک بڑے اتحاد یا تنظیم کا موجود ہونا بھی ایک مثبت بات ہے۔ شروع شروع میں کمزور نظر آنے والی یہ تنظیم اب تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے۔ سوویت یونین سے جو ملک وجود میں آئے وہ بہت سے شعبوں میں کمزور تھے۔ انہیں بھی سہارے کی ضرورت تھی۔ جب یہ تنظیم بنی تو ان ممالک کو احساس ہوا کہ اگر تعاون جاری رہا تو وہ بہتر ہو سکتے ہیں اور بیرونی اثر و رسوخ بھی ختم ہو گا۔ شروع میں مغربی ممالک کے مقابلے میں مشرقی ممالک کا یہ اتحاد طاقت کے اعتبار سے کمزور نظر آتا تھا لیکن اب اسکی قوت میں اضافہ ہوا ہے۔ خصوصی طور پر ایران کی شمولیت سے یہ تنظیم مزید مضبوط ہوئی ہے۔
گزشتہ چند برس کے دوران ایس سی او بہت سے مسائل پر بات چیت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ یہ ایک اہم علاقائی تنظیم ہے جو یوریشیا میں سکیورٹی اور تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔ یہ اپنے بہت سے مقاصد حاصل نہیں کر پائی جس کی وجہ صرف یہی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مقاصد اور اہداف میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ یہ تنظیم دو طرفہ تنازعات کو حل کرنے کا فورم نہیں لیکن یہ شریک رہنماؤں کے لیے ملاقات اور مشترکہ مسائل پر گفتگو کا اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ اجلاس کی سائیڈلائنز پر وزیراعظم شہباز شریف مہمان وفود کے سربراہان سے اہم دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ پچھلے سال بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر نے کہا تھا کہ ان کا دورہ پاکستان صرف ایس سی او اجلاس میں شرکت تک محدود ہو گا اور وہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر بات چیت نہیں کریں گے۔
عالمی سطح پر بننے والے اتحاد بہت آہستگی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں بہت سے اتحاد موجود ہیں۔ ضروری نہیں کہ ایک ملک ایک ہی اتحاد کا حصہ ہو۔ وہ بیک وقت کئی اور بعض اوقات متضاد ایجنڈے کے حامل اتحادوں کا حصہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بھارت جو ایس سی او کا رکن ہے مگر اس کے مخالف ممالک کے اتحاد کواڈ کا بھی رکن ہے۔ رکن ممالک کے آپسی اختلافات بھی ہو سکتے ہیں۔ مگر ایسے اتحاد کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ رکن ممالک اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھیں اور جن امور پر بات چیت اور تعاون ممکن ہے ان پر غور کریں اور آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کریں۔
ایس سی او اجلاس میں بھارت اور پاکستان کے وزرا اعظم شرکت کریں گے تو ماحول میں ہلکا سا تناؤ تو ہو گا۔ اس کے باوجود دیکھنا یہ ہے کہ پاک بھارت تنازعات میں تعاون کا کوئی نیا راستہ نکل سکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا ایس سی او کے رکن ممالک پاکستان اور بھارت کے فاصلوں کو کم کرنے میں کوئی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں یا نہیں؟ پاک بھارت فاصلوں کو کم کرنے میں چین کے کردار سے غیر معمولی بریک تھرو ممکن ہے۔ پاک بھارت جنگ کے بعد اگر تیانجن میں پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان مسکراہٹ کا تبادلہ اور مصافحہ ہوتا ہے تو یہ بات اس وقت کی دنیا کی سب سے بڑی خبر بن سکتی ہے۔
ایس سی او کا یہ اجلاس ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر کئی ممالک تنازعات کی زد میں ہیں۔ ان میں سے بعض بڑے ممالک اس تنظیم کا حصہ بھی ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ ان عالمی تنازعات میں شامل ہیں جیسا کہ روس اور ایران۔ ایس سی او اجلاس کے انعقاد کی ٹائمنگ کی وجہ سے اسے خاصا اہم سمجھا جا رہا ہے اور اسے ایک بڑے سٹیج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
لیکن کیا واقعی اس اجلاس کے دوران پاکستان اور بھارت کے دو طرفہ تعلقات میں کوئی بریک تھرو ہو گا؟ یا ایران کی خواہش پر اس پلیٹ فارم سے اسرائیل کے خلاف کوئی سخت موقف سامنے آئیگا؟ ایران یہ توقع رکھے گا کہ اس پلیٹ فارم سے خطے کی موجود صورتحال پر ایک واضح پیغام جاری ہو۔ روس اور یوکرین تنازع پر ایس سی او کے رکن ممالک روس کی مکمل حمایت کا اعلان کریں گے؟ یہ دیکھنا باقی ہے۔ اس اجلاس سے کوئی نہ کوئی بڑی خبر مل سکتی ہے۔ خبر کوئی بھی ہو نہایت خوش آئند سمجھی جائے گی۔