Wed, September 16, 2026

راستے تو سلامت تھے مگر مسافر نہ رہے

راستے تو سلامت تھے مگر مسافر نہ رہے

دنیا میں انسان کے سفر کی ابتدا مٹی سے ہوئی اور انجام بھی اسی مٹی پر ہے مگر اس مختصر سفر کی مہلت ِ حیات کو محفوظ اور بامقصدگزارنے کے لیے معاشرے میں مختلف نظام اور قوانین بنائے جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم نظام ٹریفک کا ہے جو بظاہر تو ایک سادہ سا انتظامی ڈھانچہ دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت یہ انسانی زندگی کے احترام اور اجتماعی نظم و ضبط کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ انسان نے جب پہیے کو گردش بخشی تو دراصل اس نے اپنی تقدیر کا دھارا موڑ دیا۔ پہیہ صرف ایک میکانکی ایجاد نا تھا بلکہ تہذیب کا ایک آئینہ دار، انسانی شعور کی معراج اور سفرِ حیات کا سنگِ میل تھا۔ جب اسی پہیے نے سڑک کو جنم دیا تو وہ سڑک محض فاصلے سمیٹنے کی راہ نہ رہی بلکہ انسانی ربط، تمدنی ارتقا اور اجتماعی حیات کی شہ رگ ٹھہری۔ لیکن کیا ستم ہے کہ پاکستان کی یہی شاہراہیں آج زندگی کے بجائے موت کے کارواں کی امین بن چکی ہیں۔ وہی سڑکیں جو کل خوش حالی و ترقی کی علامت تھیں آج کئی آنکھوں کے آنسو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں۔ یہ سب محض حادثات نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا مرثیہ ہیں۔ وہ مرثیہ جس میںانسانی حرمت کی پامالی اور تہذیبی شعور کی شکستگی بین کرتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ٹریفک حادثات محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک تہذیبی، نفسیاتی اور سماجی بحران کا عکاس ہے۔ خاص طور پر ہمارے نوجوانوں میں تیزی سے بڑھتے حادثات ہماری سوچ اور معاشرتی تربیت کی کمزوری کا اعلان ہیں۔ نوجوانوں کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا جوش اور توانائی ہے مگر جب یہ جوش عقل و شعور کی رہنمائی کے بغیر رہ جائے تو یہی طاقت حادثے، المیے اور موت میں ڈھل جاتی ہے۔ قومیں کبھی حادثات سے نہیں مرتیں بلکہ وہ ان حادثات کو معمول سمجھنے سے مرتی ہیں۔ انسانی زندگی ایک نعمت اور یہ ہر لمحہ حفاظت اور قدردانی کی متقاضی ہے۔ مگر ہماری نوجوان نسل جو مستقبل کی معمار ہے اکثر لاپروائی، بے صبری، تیز رفتاری، قانون شکنی اور دوسروں پر سبقت لے جانے کا جنون کے سبب اپنی زندگی کے چراغ گل کر لیتی ہے۔ پاکستانی معاشرے کی نفسیات میں ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ ہم اصول کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ انسان کی زندگی بذاتِ خود ایک سفر ہے۔ ہر شخص اپنی منزل کی تلاش میں چلتا ہے، کہیں اس کے لیے راستے ہموار ہیں تو کہیں کانٹے دار۔ کبھی رفتار تیز ہے تو کبھی پائوں بوجھل لیکن سڑک پر ہونے والے حادثات صرف دو گاڑیوں یا افراد کے ٹکرانے کا نام نہیں بلکہ معاشرے کی اجتماعی نفسیات کے بکھر جانے کی علامت ہے۔ گڑھوں سے بھری سڑکیں، ناقص تعمیرات، بغیر سگنل کے چوک اور اندھیروں میں ڈوبی شاہراہیں نت نئے حادثات کو دعوت دیتی ہیں۔ زندگی کی شاہراہ پر دوڑتی گاڑیاں دراصل انسان کی بے قراری کا آئینہ ہیں۔ پہیے کی رفتار میں ہمیں اپنی جیت تلاش کرنے کی ضد ہے اور سڑک پر پڑی ہر اینٹ گویا ہماری انا کے ساتھ ٹکرا کر ہمیں آئینہ دکھاتی ہے کہ ہم انسان کم اور رفتار کے غلام زیادہ بن چکے ہیں۔ مگر یہاں سوال یہ ہے کہ پاکستان کی سڑکیں روز خون سے تر کیوں ہو جاتی ہیں؟ سڑک پر ہر شخص ایسے بھاگتا ہے جیسے لمحہ ضائع ہونے سے زندگی کا مقصد ادھورا رہ جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک لمحے کی جلدی اکثر انسان کی زندگی چھین لیتی ہے۔ آئے روز ہونے والے ان حادثات کی سب سے بڑی جڑ بے صبری ہے۔ ہماری قوم نے وقت کی قدر کو انتظار کے تحمل میں نہیں بلکہ دوسروں کو پیچھے چھوڑنے کی ضد میں سمجھا ہے۔ حد سے زیادہ مسافر بھرنے کا رواج محض چند پیسے بچانے کا نتیجہ ہے جو بسا اوقات پورے خاندان کی جان لینے کا سبب بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ڈرائیور کے لیے گاڑی ایک مشین نہیں بلکہ اپنی برتری کا اعلان بن چکی ہے یہاں اکثر لوگ گاڑی تو چلاتے ہیں مگر شعور اور مہارت سے عاری ہوتے ہیں۔ ناقص تعمیر، ٹریفک سگنلز کی کمی، ٹوٹے پل حادثات کے بڑے اسباب ہیں جب انفرا سٹرکچر انسانی زندگی کو تحفظ نا دے سکے تو حادثہ ناگزیر بن جاتا ہے۔ ان تمام وجوہات کی وجہ دراصل انسان کا اخلاقی زوال ہی ہے۔ جب قانون کو کھیل سمجھا جائے، انا کو فوقیت دی جائے اور زندگی کو ارزاں جانیں تو پھر ایسے واقعات روزمرہ کی کہانی بن جاتے ہیں۔ جہاں قانون محض کاغذ پر ہو، ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوں وہاں حادثات کا بڑھنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اسلام کہتا ہے کہ ایک جان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے مگر ہماری سڑکوں پر ہر روز یہ اجتماعی قتل ہوتا ہے اور ہم اسے محض حادثہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ گویا ہم نے ایک انسان کی جان کو معمولی سمجھ لیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حادثہ ایک اخلاقی المیہ بن جاتا ہے ایک ایسا سوال جس کا جواب نا تو ریاست دیتی ہے اور نا ہی عوام۔ ہم اپنی لاپروائی اور بے سمتی کو معمول سمجھ لیتے ہیں مگر غفلت کا یہ کھیل لمحوں میں پوری زندگی کی کایا پلٹ دیتا ہے۔ جب تیز رفتاری کو بہادری اور لاپروائی کو آزادی سمجھ لیتے ہیں تو سڑکیں بچھڑنے اور بکھرنے کی کہانیاں ہی سناتی ہیں۔ لمحہ بھر کی مستی اور غفلت کئی زندگیاں نگل لیتی ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے:
رفتار کی مستی نے چھین لی کتنی سانسیں
راستے تو سلامت تھے مگر مسافر نہ رہے
آئے روز ہونے والے ان حادثات کا حل صرف قوانین کو سخت کرنے میں نہیں بلکہ ذہنوں کی تربیت کرنے میں ہے۔ یہ شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ انسان کی زندگی سب سے قیمتی ہے اور رفتار کبھی وقار کا مترادف نہیں ہو سکتی۔ جب تک ہم اجتماعی طور پر اپنی انا، بے صبری اور لاپروائی کو ترک نہیں کرتے حادثات کی سڑک آئے روز ہمارے شہروں کو قبرستانوں میں بدلتی رہے گی۔

ٹیگز: